کابینہ کے ارکان دم سادھے بیٹھے تھے، کسی کے ہاتھ میں تسبیح تھی ، کوئی وظیفہ پڑھ رہا تھا ، کسی کے ہاتھ دعا کے لیے بلند تھے، کوئی گھڑے میں سے پرچیاں نکال نکال کر مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا تھا، کسی نے ریمنڈ ڈیوس کے عدالتی فیصلے کی طرح ، کسی اہم شخصیت سے فون ملایا ہوا تھا اور سرگوشیوں میں اپ ڈیٹ دے رہا تھا، کسی نے وٹس ایپ پر پیام رسانی کا فریضہ اپنایا ہوا تھا۔ کانفرنس روم میں گہری خاموشی تھی۔
ایسا لگتا تھا کہ ذرا سی آہٹ بھی ارکین کابینہ کے استغراق کو توڑ دے گی۔ سارے ایسے بیٹھے تھے جیسے میٹرک کے امتحان کا نتیجہ آنے والا ہو یا 1992 کے ورلڈ کپ میں آخری گیند ہونے والی ہو۔ نہ کوئی کسی کی جانب دیکھ رہا تھا نہ آپس میں گفتگو کا کوئی متمنی تھا۔ سارے کمرے میں ہو کا عالم تھا۔
یہ حال صرف ایک کانفرنس روم کا نہیں تھا سارے ملک میں پی ٹی آئی کے چاہنے والوں پر تشنج کی کیفیت طاری تھی۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ وقت کی رفتار کو روک لیں۔ ٹک ٹک کرتی گھڑی کی سوئیوں کو تھام لیں۔ ایک انجانے خوف سے سب لرز رہے تھے۔

اگر ایسا ہوا تو کیا ہو گا؟ اگر ایسا نہ ہوا تو کیا ہو گا ؟ اسی امید و بیم کے درمیان وقت بسر ہو رہا تھا۔ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ تازہ خبروں کے لیے کسی نے ٹی وی پر نظریں جمائی ہوئی تھیں، کسی نے ٹوئٹر کو دیکھنا پسند فرمایا ہوا تھا۔ کوئی فیس بک پر لائیو اپ ڈیٹ دیکھ رہا تھا۔ زیادہ ماڈرن لوگ بین الاقوامی چینلز اور بین الاقوامی اخبارات اور جریدوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔ سب کے سانس رکے سے ہوئے تھے۔ کچھ ہو جانے کا خوف سب کے چہروں پر واضح دکھائی دے رہا تھا۔
بیرون ملک پاکستانی جہاں پی ٹی آئی کے چاہنے والوں کی ابھی بھی کوئی کمی نہیں وہ بھی ایک مبارک لمحے کے انتطار میں تھے جس میں نعرہ مستانہ بلند کر سکیں۔ ڈھول کی تھاپ پر رقص کر سکیں۔’جب آئے گا کپتان‘ والے گیت پر بھنگڑے ڈال سکیں۔
سمندر پارپاکستانیوں کو عمران خان اس لیے بھی عزیز ہے کہ انہیں اس ملک میں رہنے زیادہ رہنے اور یہاں کی صورتِ حال کو براہِ راست دیکھنے کا شرف ہی حاصل نہیں ہوتا۔ ان کی اکثریت اپنے پاکستانی رشتہ داروں کو دنیا کی جمہوریتوں کی مثالیں دیتی ہے۔ وہاں کے ٹریفک کے نظام، اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کے قوانین سمجھاتی ہے۔
ان میں سے بیشتر یہی سمجھتے ہیں کہ کیا ہوا کہ مہنگائی ہو گئی، کیا ہوا کہ خان ’سلیکٹڈ‘ ہے؟ کیا ہوا کہ ملک کا تیاپانچہ صرف تین برس میں ہو گیا دیا مگر خان کرپٹ تو نہیں ہے نا۔ اسی دلیل کے سہارے زندہ رہنے والے بھی ایک بڑی خوشخبری کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک بڑی کامیابی کے منتظر تھے۔ انہیں بھی یوں لگتا تھا کہ تھا جس کا انتطار تھا وہ شاہکار آنے والے والا ہے۔ جس انقلاب کے وہ منتظر تھے وہ انقلاب آنے والا ہے۔
مبینہ ٹائیگر فورس بھی منتظر تھی کہ ایک دفعہ خبر آ جائے پھر مخالفین کے لتے لیتے ہیں۔ وہ بچے جو ابھی کم سن ہیں جن کی مسیں بھی نہیں بھیگیں وہ مطالعہ پاکستان پر لیکچر دینے کو تیار تھے۔ سوشل میڈیا والوں کے ہاتھ موبائل اور لیپ ٹاپ پر دھرے تھے کہ ایک دفعہ خبر آ جائے پھر دیکھتے ہیں ان پٹواریوں کو۔
نئی ’گالیوں‘ کا رجسٹر بھی ساتھ میں دھرا ہوا تھا۔ لوگوں کی داستانوں کے قصے بھی ازبر یاد کیے جا رہے تھے۔ سب ایک خبر کے منتظر تھے۔ بس ایک دفعہ کامرانی کی خبر سامنے آجائے پھر ہم ’گالیوں‘ کی طاقت سے دشمن کو شکست دیں گے۔
یوٹیوب کی مدد سے نیا عمرانی پلان لوگوں کو سمجھائیں گے۔ صدارتی نظام کے فضائل گنوائیں گے۔ بتائیں گے کہ کس طرح اس حکومت کو اگلے 25 سال چلنا چاہیے تاکہ ماضی کا گند ختم ہو سکے اور نیا گند ڈالا جا سکے۔


