میں تھی ایک شہزادی،
تتلیاں پکڑنے کے شوق میں،
دور جا نکلی کسی باغ میں،
تتلیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے،
جا پہنچی اک جادوگر کی قید سلاسل میں ،
پھر راہ اک نکالی،
میں نے زمانے سے الگ،
جادوگر سے سیکھ لیا سب جادو ،
جادو بھی وہ جادو ،
سر چڑھ کر بولتا ہوا جادو ،
جادو سے کیا پتھر جادوگر کو ،
اور پری بنا دیا شہزادی کو،
پھر یوں ہوا کہ
اس پری پیکرکو
جو بھی ملا،
پتھر سا آدمی ملا ،
سب کو موم کیا پری نے جب،
تو خود سنگ مر مر کی ہوگئی۔
میں تھی اک پنکھڑی گلاب سی شہزادی،
جو ہوتے ہوتے پتھر کی پری ہوگئی ۔۔۔


