• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

مزاحمت کا فریب: افتخار عارف کے شعر کا نظریاتی محاکمہ

ڈاکٹر ابرار عمر

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 23, 2026
in کالمز
0
مزاحمت کا فریب: افتخار عارف کے شعر کا نظریاتی محاکمہ
0
SHARES
61
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

یہ وقت کس کی رعونت خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

خدا کے لہجے میں بولنا بذاتِ خود ایک کلیشے ترکیب ہے، ایک ایسا فقرہ جو اردو ہی نہیں بلکہ عالمی فکری و تنقیدی روایت میں مطلق العنان، غیر سوالی اور مقدس اتھارٹی کے لیے بارہا برتا جا چکا ہے۔

لطیف شاہ شاہد کا شعر:
وہ شخص بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
میں سن رہا تھا مگر میں کلیمِ وقت نہ تھا
یہ شعر براہِ راست اس انسانی آواز کو نشان زد کرتا ہے جو خدا کا لہجہ اوڑھ لیتی ہے
فرحت عباس شاہ کا شعر ملاحظہ ہو جو میری تحقیق کے مطابق 1992 میں چھپا
وہ عشق تھا یا قیامت ہوا کے لہجے میں
یا کوئی بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
انگریزی فکری و ادبی روایت میں “خدا جیسی آواز” یا “خدا کے لہجے” کا تصور بہت پہلے موجود اور متعین ہے۔ جان ملٹن کی نظم پیراڈائز لاسٹ میں خدا کی آواز ایسی قطعی، فیصلہ کن اور بالاتر اتھارٹی کے طور پر سامنے آتی ہے کہ وہ مکالمہ نہیں بلکہ حکم بن جاتی ہے -یہی وہ خدا نما لہجہ ہے جسے بعد کی تنقید نے شناخت کیا۔ جدید نظری مباحث میں رولاں بارت ایسے بیانیے پر اعتراض کرتے ہیں جو خود کو آخری سچ بنا کر پیش کرے؛ ان کے نزدیک جب کوئی متن یا آواز سوال کی گنجائش ختم کر دے تو وہ انسان کی پیدا کردہ مگر خدا کی طرح بولنے والی آواز بن جاتی ہے۔ سیاسی نثر میں جارج اورویل اسی رجحان پر تنقید کرتے ہیں کہ طاقت جب بولتی ہے تو اس کا لہجہ ایسا ہوتا ہے جیسے خدا بول رہا ہو، اور فرد کے لیے اختلاف ناممکن بنا دیا جاتا ہے۔ فلمی و بیانیاتی تنقید میں بل نکولس نے اسی کو “خدا کی آواز” کہہ کر بیان کیا -یعنی وہ مقتدر آواز جو سب پر حکم چلاتی ہے۔ یہ سب شواہد اس امر کو ثابت کرتے ہیں کہ “خدا کے لہجے” کا تصور عالمی فکری روایت میں پہلے سے راسخ ہے۔
تاہم اس مضمون میں ہم اس شعر کی جمالیاتی یا تخلیقی قوت کو موضوع نہیں بنا رہے، بلکہ اس کے بظاہر مزاحمتی آہنگ، اس کی علامتی سیاست، اور اس کے پسِ پشت موجود نظریاتی خلا کو پرکھنے جا رہے ہیں
بادی النظر میںیہ ایک طاقتور، چبھتا ہوا اور بظاہر مزاحمتی شعر محسوس ہوتا ہے۔ قاری کو فوراً یہ گمان ہوتا ہے کہ شاعر کسی جابر قوت سے مخاطب ہے، کسی مطلق العنان لہجے کو بے نقاب کر رہا ہے، اور وہ وقت کو ایک اخلاقی قوت کے طور پر پیش کر کے اقتدار کے غرور کو پاش پاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہی سطحی تاثر ہے جس پر افتخار عارف کی شاعری اکثر داد سمیٹ لیتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ شعر کمزور ہے، مسئلہ یہ ہے کہ یہ شعر صرف تاثر ہے، موقف نہیں۔
سب سے پہلے اس شعر کے اندر موجود بنیادی ابہام کو دیکھنا ضروری ہے۔ یہاں “رعونت” ہے مگر یہ واضح نہیں کہ رعونت کس کی ہے۔ یہاں “خدا کے لہجے میں بولنے والا” ہے مگر یہ طے نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے: آمر؟ فوجی اسٹیبلشمنٹ؟ مذہبی پیشوا؟ ریاست؟ یا محض ایک تجریدی طاقت؟ افتخار عارف کی دوسری شاعری بشمول غزلیں اور نظمیں بھی اس شیر کی سمت متعین کرنے سے قاصر ہے- افتخار عارف اس جمال شکن اور نظریہ گریز ابہام کو دانستہ برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ یہی ابہام ان کی شاعری کو ہر عہد، ہر اقتدار اور ہر سامع کے لیے قابلِ قبول بناتا ہے۔ یہ وہ شاعری ہے جو ہر اسٹیج پر فِٹ ہو جاتی ہے، کیونکہ اس میں کسی ایک طاقت کا نام نہیں لیا جاتا، کسی ایک جبر کی نشان دہی نہیں کی جاتی، اور کسی ایک سمت کا تعین نہیں کیا جاتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں افتخار عارف کا شعر مزاحمت کے بجائے ڈرامائی خطابت بن جاتا ہے۔ یہ خطابت سامع کو لمحاتی طور پر جذباتی کر دیتی ہے، ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہے، مگر شعور کو کسی فیصلے تک نہیں پہنچاتی۔ قاری شعر پڑھ کر یہ تو محسوس کرتا ہے کہ “کچھ غلط تھا”، مگر یہ نہیں سمجھ پاتا کہ “کیا غلط تھا، کس نے کیا، اور شاعر کہاں کھڑا ہے”۔ یہی وہ خلا ہے جو افتخار عارف کی شاعری کو نظریے سے محروم کر دیتا ہے۔
اب اگر ہم اس شعر کو شاعر کی عملی زندگی اور سماجی حیثیت کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو یہ تضاد اور زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ افتخار عارف نے پاکستان میں واپسی کے بعد جو ادبی و سرکاری سفر اختیار کیا، وہ کسی ایک دور یا ایک حکومت تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے مختلف سیاسی ادوار میں خود کو اس طرح ایڈجسٹ کیا کہ ان کی حیثیت، مراعات، گاڑی، دفتر اور ادارہ جاتی طاقت کبھی خطرے میں نہیں پڑی۔ ایسے میں جب وہ “خدا کے لہجے میں بولنے والے” پر تنقید کا تاثر دیتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لہجہ آخر کس کے خلاف ہے، جب خود شاعر ہر طاقتور کے لہجے سے ہم آہنگ رہا ہو۔
یہ شعر دراصل اس بنیادی اخلاقی امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے جو ہر بڑے شاعر کے سامنے آتا ہے: کیا شاعر اپنے الفاظ کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے؟ افتخار عارف کے ہاں جواب نفی میں ملتا ہے۔ ان کے ہاں لفظ ہیں، آہنگ ہے، صوتی جلال ہے، مگر وہ خطرہ نہیں ہے جو کسی شعر کو تاریخی بنا دیتا ہے۔ یہ شعر کسی ڈکٹیٹر کو بے چین نہیں کرتا، کسی ریاستی ادارے کو ناگوار نہیں گزرتا، کسی طاقتور کو صفائی دینے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، یہ شعر اقتدار کے ایوانوں میں بھی پڑھا جا سکتا ہے اور وہاں بھی داد پا سکتا ہے، کیونکہ اس میں الزام نہیں، صرف ایک مبہم اخلاقی اشارہ ہے۔
یہی فرق افتخار عارف اور حقیقی مزاحمتی شاعری کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے۔ افتخار عارف کے یہاں “وقت” ایک رومانوی استعارہ ہے جو سب کچھ خود ہی درست کر دیتا ہے، گویا شاعر کو کسی عملی یا اخلاقی موقف کی ضرورت ہی نہیں۔ وقت آتا ہے، رعونت خاک ہو جاتی ہے شاعر محفوظ رہتا ہے۔ یہ تصور دراصل شاعر کو کٹہرے سے بچا لیتا ہے۔۔۔۔۔ مگر تاریخ کے کٹہرے سے نہیں بچاتا۔ یہاں شاعر مزاحمت نہیں کرتا، وہ صرف یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جاتا ہے کہ “وقت سب دیکھ لے گا”۔
اس کے مقابلے میں نظریاتی شاعری وقت کے رحم و کرم پر نہیں ہوتی، وہ خود وقت کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ افتخار عارف کا شعر وقت کے ساتھ کھڑا ہے، وقت کے خلاف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعر جتنا پرجوش لگتا ہے، اتنا ہی بے ضرر ہے۔ یہ ایک ایسا شعر ہے جو سننے والے کو وقتی طور پر یہ احساس دیتا ہے کہ “ کچھ کہہ دیا گیا ہے ”، حالانکہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں کہا گیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں افتخار عارف کی شاعری ایک ادبی اداکاری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اداکاری میں لہجہ، مکالمہ اور تاثر سب کچھ ہوتا ہے، مگر کردار کے پیچھے کوئی حقیقی وابستگی نہیں ہوتی۔ افتخار عارف کے اس شعر میں بھی ایک کردار ہے جو کسی خدا نما لہجے پر سوال اٹھا رہا ہے، مگر شاعر خود اس کردار میں مکمل طور پر داخل نہیں ہوتا۔ وہ اس کردار کو ادا کر کے اسٹیج سے اتر جاتا ہے، اور اس کی عملی زندگی اسی اقتدار کے ساتھ رواں دواں رہتی ہے جس پر شعر میں بظاہر انگلی اٹھائی گئی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ اس شعر کو اگر افتخار عارف کی مجموعی شاعری اور زندگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ مزاحمت نہیں بلکہ محفوظ جذباتیت بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ وہ شاعری ہے جو کسی بھی نظام کے لیے خطرہ نہیں بنتی، بلکہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اسے ایک اخلاقی ملمع فراہم کرتی ہے۔ اس شعر کے ذریعے شاعر یہ تاثر دیتا ہے کہ “میں نے سوال اٹھا دیا”، جبکہ درحقیقت اس نے صرف ایک ایسا سوال پیدا کیا ہے جس کا کوئی مخاطَب نہیں۔

افتخار عارف کے اس مبہم، خطیبانہ اور محفوظ شعر کے مقابلے میں اگر ہم احمد فراز کو رکھ کر دیکھیں تو فرق محض اسلوب یا لہجے کا نہیں رہتا، بلکہ یہ فرق شاعری اور تاریخ کے باہمی رشتے کا بن جاتا ہے۔ فراز کی شاعری میں آمریت اور جبر کسی تجریدی استعارے کی شکل میں نہیں آتے بلکہ ایک زندہ، پہچانے جانے والے اور نامعلوم نہ رہنے والے دشمن کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فراز کے ہاں شاعری پڑھتے ہوئے قاری کو کبھی یہ سوال درپیش نہیں ہوتا کہ شاعر کس سے مخاطب ہے یا کس قوت کو چیلنج کر رہا ہے۔
فراز کی نظم محاصرہ اس حوالے سے محض ایک ادبی متن نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نظم کسی خیالی جبر یا کسی فرضی خدا نما لہجے کے خلاف نہیں لکھی گئی، بلکہ ایک ایسے عہد کے خلاف لکھی گئی جس میں ریاست، قانون، زبان حتیٰ کہ سانس تک محاصرے میں آ چکے تھے۔ محاصرہ میں فراز کسی ایک شعر کے زور پر مزاحمت کا تاثر نہیں دیتے، بلکہ پوری نظم ایک مسلسل گھٹن، نگرانی اور خوف کی فضا قائم کرتی ہے۔ یہاں محاصرہ صرف شہر کا نہیں، ذہن کا ہے؛ صرف سڑکوں کا نہیں، لفظوں کا ہے؛ اور صرف جسم کا نہیں، ضمیر کا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فراز اور افتخار عارف کے درمیان حدِ فاصل نمایاں ہو جاتی ہے۔ افتخار عارف کا شعر وقت کو ایک اخلاقی منصف بنا کر خود کو بری الذمہ کر لیتا ہے، جبکہ فراز وقت کے سامنے کھڑے ہو کر اس پر فردِ جرم عائد کرتے ہیں۔ فراز کے ہاں شاعر یہ نہیں کہتا کہ “وقت سب کچھ ٹھیک کر دے گا”، بلکہ یہ احساس موجود رہتا ہے کہ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو وقت خود مجرم بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فراز کی شاعری ریاست کے لیے قابلِ قبول نہیں رہی، اور یہی وجہ ہے کہ انہیں جیل، نگرانی اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔
فراز کی غزلوں میں بھی یہ وضاحت برقرار رہتی ہے۔
افتخار عارف کے ہاں شہر، وقت، خدا اور لہجہ سب علامتیں ہیں، مگر ایسی علامتیں جو کسی ایک حقیقت سے بندھی نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شعر ہر دور میں “درست” لگ سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ایک دور میں “خطرناک” ثابت نہیں ہوتا۔ فراز کی شاعری اپنے عہد سے جڑنے کے بعد ہر عہد سے جڑی ہوئی ہے
یہ فرق اس وقت اور گہرا ہو جاتا ہے جب ہم شاعر کے عمل اور اس کے متن کو ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ فراز نے جو کچھ لکھا، اس کی قیمت ادا کی۔ ان کی شاعری ان کے جسم، ان کی آزادی اور ان کی زندگی کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ افتخار عارف کے ہاں یہ ربط ناپید ہے۔ ان کے اشعار بلند آہنگ ضرور ہیں، مگر ان کے پیچھے کوئی ایسی زندگی نہیں کھڑی جو ان اشعار کی گواہی دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شعر “خدا کے لہجے” پر سوال اٹھاتا دکھائی دیتا ہے، مگر شاعر خود ہر زمینی خدا کے ساتھ باوقار طریقے سے چلتا نظر آتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ مسئلہ نوکری کرنے یا کسی ادارے میں کام کرنے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ شاعر نے اپنی شاعری کو کبھی اس ادارہ جاتی طاقت کے خلاف استعمال نہیں کیا جس سے وہ خود مستفید ہوتا رہا۔ فراز کے ہاں یہ تضاد نہیں ملتا۔ ان کی شاعری اور ان کی زندگی ایک دوسرے کی توثیق کرتی ہیں۔ افتخار عارف کے ہاں شاعری اور زندگی ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شعر بظاہر جتنا سخت لگتا ہے، اتنا ہی اندر سے کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔
محاصرہ میں فراز جس طرح گھٹن کو ایک اجتماعی تجربہ بناتے ہیں، وہ کسی ایک شعر کی چابک دستی نہیں بلکہ مسلسل فکری دباؤ کا نتیجہ ہے۔ قاری نظم ختم کرتے ہوئے یہ نہیں کہتا کہ “کیا خوب کہا”، بلکہ یہ کہتا ہے کہ “یہ سب ہم پر گزر رہی ہے”۔ افتخار عارف کے شعر کے ساتھ یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ وہاں داد ملتی ہے، سر ہلتے ہیں، اور محفل آگے بڑھ جاتی ہے۔ کوئی سوال باقی نہیں رہتا، کوئی سمت متعین نہیں ہوتی۔
اسی لیے فراز کی شاعری آج بھی ریاست اور طاقت کے لیے غیر آرام دہ ہے، جبکہ افتخار عارف کی شاعری ریاستی تقریبات میں بھی اسی اطمینان سے پڑھی جا سکتی ہے جس اطمینان سے کسی نیم اخلاقی خطبے کو سنا جاتا ہے۔ یہ فرق محض شاعری کا نہیں، یہ فرق شاعر کے کردار کا ہے۔
احمد فراز کی شاعری اپنی وضاحت، قیمت اور خطرے کی وجہ سے ایک حقیقی مزاحمتی متن بنتی ہے، جبکہ افتخار عارف کی شاعری اپنی مبہم علامتوں، محفوظ لہجے اور ادارہ جاتی موافقت کی وجہ سے محض ایک ڈرامائی تاثر تک محدود رہتی ہے۔ فراز کا محاصرہ ہمارا بھی محاصرہ کر لیتا ہے مگر افتخار عارف کے الفاظ ہمیں صرف چھو کر گزر جاتے ہیں
جلیل عالی اسی عہد کے شاعر ہیں، مگر افتخار عارف کے برعکس ان کے ہاں یہ ابہام نہیں کہ وہ کس فکری روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔ جلیل عالی اقبال کے ماننے والوں میں شمار ہوتے ہیں، اور یہ وابستگی محض دعویٰ نہیں بلکہ ان کی شاعری کے فکری سانچے میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کے یہاں خودی، قومی شعور، اجتماعی زوال اور تہذیبی شکست کا احساس بار بار ابھرتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ جلیل عالی کے پاس نظریہ نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس نظریے کو پورے حوصلے کے ساتھ جینے سے گھبراتے ہیں۔ یہی خوف، یہی ہچکچاہٹ اور یہی پسپائی ان کی شاعری کی بنیادی نفسیاتی کیفیت بن جاتی ہے۔
جلیل عالی کی شاعری میں بزدلی کو اگر بے رحمی سے پرکھا جائے تو وہ ایک اخلاقی کمزوری ضرور ہے، مگر یہ کمزوری افتخار عارف کی طرح مفاہمت یا موقع پرستی کی شکل اختیار نہیں کرتی۔ جلیل عالی کے ہاں خوف ہے، مگر وہ خوف کسی نہ کسی سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ اشاروں کنایوں میں بات کرتے ہیں، براہِ راست ٹکراؤ سے بچتے ہیں، مگر ان کی شاعری یہ ضرور بتا دیتی ہے کہ وہ کس طرف کھڑے ہونا چاہتے تھے، مگر کھڑے نہ ہو سکے۔ یہ ناکامی ایک اخلاقی ناکامی ہے، مگر اس ناکامی کے باوجود ان کے ہاں سمت موجود رہتی ہے۔ افتخار عارف کے ہاں یہ سمت ہی مفقود ہے؛ وہاں نہ خوف ہے، نہ پسپائی، کیونکہ وہاں سرے سے کوئی خطرہ مول ہی نہیں لیا گیا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں جلیل عالی اور افتخار عارف کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچی جا سکتی ہے۔ جلیل عالی کے ہاں شاعر اور نظریہ کے درمیان ایک کشمکش جاری رہتی ہے؛ وہ اپنے نظریے سے پیچھے ہٹتے ہوئے بھی اس کا انکار نہیں کرتے۔ افتخار عارف کے ہاں ایسی کوئی کشمکش نظر نہیں آتی، کیونکہ انہوں نے کبھی خود کو اس مقام پر رکھا ہی نہیں جہاں کشمکش جنم لے۔ جلیل عالی کی شاعری میں خوف ایک زندہ عنصر ہے، اور خوف ہمیشہ کسی خطرے کی موجودگی کی علامت ہوتا ہے۔ افتخار عارف کی شاعری میں خوف کا نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں خطرہ کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ یہی فرق جلیل عالی کو، تمام تر کمزوریوں اور اخلاقی سمجھوتوں کے باوجود، افتخار عارف سے فکری طور پر ایک درجہ اوپر رکھتا ہے

کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ افتخار عارف کی شاعری کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ “ہر دور” میں اپلائی ہو سکتی ہے، کہ یہی اس کی جامعیت ہے، اور یہی بڑے شاعر کی علامت ہوتی ہے۔ بظاہر یہ بات پرکشش معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ دلیل شاعری کے بنیادی فہم کی غلط تعبیر پر کھڑی ہے۔ شاعری کی جنرلائزیشن اور جنرلائزیبلٹی دو الگ چیزیں ہیں۔ جنرلائزیبلٹی وہ فکری صلاحیت ہے جس کے ذریعے ایک واضح نظریہ مختلف ادوار میں نئے سیاق و سباق کے ساتھ زندہ رہتا ہے؛ جبکہ محض جنرلائزیشن وہ مبہم پن ہے جس کے ذریعے کوئی متن ہر جگہ فِٹ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ کسی جگہ کھڑا ہی نہیں ہوتا۔
فیض احمد فیض کا نظریہ ان کے ساتھ زندہ رہا، ان کی شاعری اس نظریے کے ساتھ جڑی رہی، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے متن میں آج بھی ایک اخلاقی وزن موجود ہے۔ اسی طرح احمد فراز کی شاعری ہر دور کی شاعری ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ہر دور میں جبر کے خلاف ہی کھڑی نظر آتی ہے۔ اقبال کی شاعری بھی ہر دور سے ہم کلام ہوتی ہے، مگر وہ ہم کلامی نظریے کی قیمت پر نہیں، نظریے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
اسی فکری تسلسل میں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ نظریاتی وابستگی کسی ایک نسل یا کسی ایک عہد تک محدود نہیں رہی۔ اسی عہد میں ایسے نوجوان اور نسبتاً کم مراعات یافتہ شعرا بھی موجود ہیں جنہوں نے نظریے کو سہولت پر قربان نہیں کیا۔ ڈاکٹر ابرار عمر کی غزلوں اور نظموں میں یہ وابستگی کسی نعرے یا خطابت کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک مسلسل اخلاقی ذمہ داری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ ان کی شاعری میں بھی طاقت سے فاصلے، ادارہ جاتی بے زاری، اور فکری دیانت کی قیمت ادا کرنے کا احساس واضح ہے۔ اسی طرح فرحت عباس شاہ کی نظم اور غزل میں جو اضطراب، جو سوال، اور جو وجودی و سماجی کشمکش نظر آتی ہے، وہ اسی بات کی شہادت ہے کہ شاعر اگر چاہے مشکل راستوں پر نظریے کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے۔ ان دونوں شعرا نے بھی یہ انتخاب کیا کہ بنیادی جذبے اور بنیادی نظریے پر کوئی آنچ نہ آنے دی جائے، خواہ اس کی قیمت تنہائی، نظراندازی یا تاخیر سے پہچان ہی کیوں نہ ہو۔
اس کے مقابلے میں افتخار عارف کی شاعری کی “ہر دور میں اپلائی ہونے” کی صلاحیت دراصل اس کے نظریاتی خلا کا ثبوت ہے، نہ کہ اس کی وسعت کا۔ یہ وہ شاعری ہے جو کسی بھی طاقت کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے، کیونکہ اس میں کسی طاقت کے خلاف واضح اعلانِ بغاوت موجود نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنرلائزیشن، جنرلائزیبلٹی کا روپ دھارنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔ شاعری میں وسعت اس وقت معنی رکھتی ہے جب اس کے مرکز میں کوئی ناقابلِ مصالحت قدر موجود ہو۔ افتخار عارف کے ہاں ایسی کوئی قدر نہیں جسے وہ کسی قیمت پر چھوڑنے سے انکار کریں۔
یہی فرق ہمیں جلیل عالی، اقبال، فراز، فیض، ڈاکٹر ابرار عمر اور فرحت عباس شاہ جیسے شعرا کو ایک طرف اور افتخار عارف، عباس تابش اور جون ایلیا جیسے شعرا کو دوسری طرف رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہاں بات پسند یا ناپسند کی نہیں، بات نظریاتی سمت کی ہے۔ جلیل عالی کمزور ہیں، خوفزدہ ہیں، پسپا ہیں، مگر وہ کسی نہ کسی فکری سمت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اقبال، فراز اور فیض نے اس سمت میں قیمت ادا کی؛ ڈاکٹر ابرار عمر اور فرحت عباس شاہ نے اسی سمت میں چلتے ہوئے سہولت سے انکار کیا۔ اس کے برعکس افتخار عارف کی شاعری کسی سمت کا تعین نہیں کرتی؛ وہ لفظوں کا جادو تو رکھتی ہے، مگر شعور کی رہنمائی نہیں کرتی۔

داخلی سطح پر ریاستی جبر کی مسلسل ضربیں ہوں یا خارجی محاذ پر انڈیا جیسا دشمن جس کے ساتھ تصادم محض سرحدوں کا نہیں بلکہ اسی نظریے کا ہے جس پر ایک ریاست کی معنویت قائم ہے , دونوں حوالوں سے افتخار عارف کی خاموشی کسی عارفانہ وقار کا نہیں، بلکہ ایک گہری بے حسی اور فکری پسپائی کا تاثر دیتی ہے۔ یہ خاموشی نہ تو احتیاط کا نام ہے اور نہ ہی تخلیقی توقف کا، بلکہ ایسے انخلا کی صورت ہے جس میں شاعر تاریخ کے کٹھن لمحے سے نظریں چرا کر گزر جانا چاہتا ہے۔ یوں اس مجموعی رویّے میں مزاحمت کی عدم موجودگی، عہد سے گریز اور وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈالنے سے انکار صاف جھلکتا ہے
افتخار عارف پر کی جانے والی تنقید کو اگر کسی ایک فرد، ایک نام، یا ایک شخصیت کے محاسبے تک محدود سمجھا جائے تو یہ فہم کی سطحی تعبیر ہوگی۔ تنقید کا مقصد نہ تو کسی شاعر کو واحد معیارِ ادب قرار دینا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی ایک نام کے گرد پوری شعری روایت کو منجمد کر دینا۔ اسی طرح اگر جلیل عالی کو افتخار عارف کے مقابلے میں کسی قدر بہتر اظہار کا حامل کہا جاتا ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ شاعری کا افق جلیل عالی پر ختم ہو جاتا ہے یا ان سے برتر آوازیں معدوم ہو چکی ہیں۔ ادب میں مراتب حتمی نہیں ہوتے، اور نہ ہی تخلیقی عظمت کسی ایک فیصلے میں مقید کی جا سکتی ہے۔
یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ جلیل عالی کا ذکر یہاں کسی مطلق تقابل یا حتمی فیصلے کے طور پر نہیں آیا، بلکہ اس لیے آیا ہے کہ وہ افتخار عارف کے ادبی حلقے کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ چنانچہ تقابل اگر کیا گیا ہے تو وہ کسی بیرونی یا غیر متعلق شاعر سے نہیں بلکہ اسی حلقے کے ایک نمائندہ نام سے کیا گیا ہے، تاکہ بات تنقیدی دیانت کے ساتھ، داخلی سطح پر اور اسی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کی جا سکے۔ بصورتِ دیگر، اگر جلیل عالی ہی کے نظریے کو بنیاد بنایا جائے خصوصاً اس اقبال پسندی کو جس کے وہ خود کو نمائندہ قرار دیتے ہیں تو اسی نظریاتی افق میں بہت سے ایسے شعرا موجود ہیں جو نہ صرف زیادہ بےباکی سے لکھ رہے ہیں بلکہ جن کی تحریر ادبی سطح پر بھی منظم، فنی طور پر پختہ اور مزاحمتی معنویت کے اعتبار سے کہیں زیادہ معتبر ہے۔ ان کی شاعری کھوکھلے نعروں پر مشتمل نہیں بلکہ شعور، تجربے اور تخلیقی صداقت سے تشکیل پاتی ہے۔
اسی تناظر میں افتخار عارف کے ایک شعر کو مرکزِ بحث بنانا کسی شعری انتخاب کی تنگ نظری نہیں، بلکہ ایک علامتی ضرورت ہے۔ یہ شعر ہمیں وہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم مزاحمت کو محض انفرادی متن کے دائرے میں نہیں، بلکہ اس کی نمائشی، کھوکھلی اور بددیانتی پر مبنی روایت سے باہر نکل کر دیکھ سکیں۔ افتخار عارف کی تہذیبی شخصیت، ان کے ادبی مقام اور اس سے وابستہ درباری رویوں ساتھ یہ شعر ہمارے لیے ایک ایسا نقطۂ آغاز بن جاتا ہے جس سے گفتگو فرد سے نکل کر مزاحمت کے مجموعی بیانیے، اس کی اخلاقیات اور اس کی داخلی صداقت تک پھیلتی چلی جاتی ہے۔ یوں یہ شعر مقصد نہیں رہتا، بلکہ ایک وسیلہ بن جاتا ہےایک دروازہ، جس سے گزر کر ہم مزاحمت کے پورے مضمون کی مجموعیت پر بات کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
جب یہاں نظریے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد کسی خاص فکری مکتب کی غیر مشروط وکالت نہیں ہوتی۔ نظریاتی اختلاف نہ صرف فطری ہے بلکہ ادبی صحت کا لازمی جزو بھی۔ اصل سوال نظریے کی مطابقت یا عدمِ مطابقت کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ شاعر اپنے فکری شعور کو اظہار کی کس سطح پر لا پاتا ہے۔ اندرونی سچ کا بےلاگ اعتراف، اگر تخلیق میں ظاہر نہ ہو تو درست یا مقبول نظریہ بھی ادب کو زندگی نہیں دے سکتا۔
مثال کے طور پر، ایک نقاد کی حیثیت سے میں فراز کے نظریے سے پوری طرح متفق نہیں ہوں، نہ ہی میں فیض کے فکری نظام کا نمائندہ ہوں؛ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ فیض اور فراز کے ہاں اظہار کی ایک ایسی قوت، ایک ایسی داخلی صداقت اور ایک ایسی تخلیقی بےخوفی موجود ہے جو شاعر کو اس کے نظریے سے ماورا کر کے بھی معتبر بنا دیتی ہے۔ وہ اپنے احساس، اپنے اختلاف اور اپنی وابستگی کو پوری دیانت کے ساتھ زبان عطا کرتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جلیل عالی جس اقبالی کیمپ کے رکن ہونے کا دعوی کرتے ہیں میں بھی اسی کیمپ کا خاک روب ہوں ۔ حیرت یہ ہے کہ علی صاحب اپنی کوتاہیوں کو جواز دینے کے لیے اقبال کی فکری سمت کا رخ بھی ضعیفی کی طرف موڑ دیتے ہیں حالانکہ اقبال جرم ضعیفی کو مرگ مفاجات کہتا ہے
اگر ہم موجودہ عہد کے منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ آج بھی ایسی آوازیں موجود ہیں جو بےباکی سے لکھ رہی ہیں، ادب کی حقیقی خدمت بھی کر رہی ہیں اور مزاحمت کو محض نعرہ نہیں بلکہ تخلیقی عمل بنا رہی ہیں۔ اس ضمن می فرحت عباس شاہ احمد فرہاد احمد ریاض , قیوم طاہر، خالد اقبال یاسر, میاں عامر اور خاکسار جیسے شعرا ہیں، جو اپنے اپنے اسلوب میں اظہار کی دیانت، فکری جرات اور ادبی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تحریر محض شور نہیں بلکہ ایک بامعنی ادبی عمل ہے۔
اس کے برعکس ایک پورا ریوڑ ایسا بھی ہیے جس کے ہاں نہ نظریہ واضح ہے اور نہ اظہار میں کوئی خاص صداقت، مگر وہ مزاحمت کے نام پر محض سطحی اور بےمعنی بیانیہ پیدا کر رہے ہیں۔ کچھ شعرا ایسے بھی ہیں جن کا مزاحمت سے کوئی تعلق ہی نہیں جیسے عدیم ہاشمی اور یہ بات بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، کیونکہ ہر شاعر کا تخلیقی دائرہ الگ ہوتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مزاحمت کے گارب میں بےمصرف اور خودنمائی پر مبنی سٹف کی نماٸش کی جاتی ہے
ایسے رویّوں کو بےنقاب کرنا اس لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف مزاحمت کے تصور کو مسخ کرتے ہیں بلکہ ادب اور قاری دونوں کے ساتھ فکری بددیانتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ تنقید کا اصل فریضہ یہی ہے کہ وہ اس بددیانتی کی نشان دہی کرے، تاکہ ادب محض نعرہ نہ بنے بلکہ شعور، سچائی اور انسانی تجربے کا معتبر اظہار باقی رہ سکے۔
یہاں سوال صرف ادب کا نہیں، نسلوں کی فکری پرورش کا ہے۔ اجب افتخار عارف جیسے لوگ اداروں، سیٹوں، اعزازات اور سرکاری مراکز میں عرصہ دراز تک براجمان رہے، تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان ذہنوں کو یہ پیغام ملا کہ شاعر بننے کے لیے نظریہ ضروری نہیں تعلقات ضروری ہیں۔ اس کے برعکس جن شعرا نے نظریے پر قائم رہنے کا انتخاب کیا، وہ اگرچہ طاقت کے مراکز سے دور رہے، مگر فکری دیانت کے قریب رہے۔

پچھلی پوسٹ

میں تھی ایک شہزادی،

اگلی پوسٹ

عباس تابش, شعری سرقے کا تسلسل

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
عباس تابش,  شعری سرقے کا تسلسل

عباس تابش, شعری سرقے کا تسلسل

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper