جیت لازم ہے تو دست و سالار بدل دیتے
اندیشئہ سازش پہ ہم میان و تلوار بدل دیتے
تم نے کھیلی ہے تو اِس ڈھنگ سے کھیلی ہے بازی
ہم جو ہوتے ۔تو جنگ کے اطوار بدل دییتے
وقت واپس نہیں جاتا کبھی اک بار گزر کر
ورنہ، جعفر و صادق سے غدار بدل دیتے
اپنی ہی آستیں میں پالے ہوئے تھے سانپ
بات اپنوں کی تھی ورنہ اغیار بدل دیتے
خاموش ہے تصویر تیری کوئی دیوار نہیں خالی
ہم اُس تصویر کی خاطر دیوار بدل دیتے
مدّت سے ہے کوشاں ہمیں اک بار بدلنے کو
ہم چاہتے تو اُس کو ہر بار بدل دیتے
تم جس کو جانتے ہو اب ؛ وہ کوئی اور ہے عامر
ہم پہلے سے اگر ہوتے؛ تیرے آثار بدل دیتے
عامر فراز


