• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

سچ تو یہ ہے:، 27ویں آئینی ترمیم اور مقامی حکومتیں؟

،تحریر:بشیر سدوزئی

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
نومبر 6, 2025
in کالمز
0
سچ تو یہ ہے:،  27ویں آئینی ترمیم اور مقامی حکومتیں؟
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

1973ء کا آئین بھی کیا کمال کا ہے، 27ویں ترمیم کی تیاری ہو رہی ہے مگر وہ اب بھی 1973ء کا آئین ہی کہلائے گا۔ اب یہ ایک کھوکھلا ڈھانچہ رہ گیا ہے ہے۔ کچھ 26 ترامیم میں نچوڑا گیا، اور جو کچھ باقی رہا وہ شاید 27ویں ترمیم میں نچوڑ لیا جائے گا، باقی رہے نام اللہ کا۔ اگر آئینی ترامیم عوام کے فائدے میں ہوں تو روز روز ہوتی رہیں، لیکن ان تبدیلیوں کے ذریعے بتدریج عوام سے اختیارات اور حقوق چھینے ہی گئے۔ صوبائی خودمختاری کے حوالے سے اٹھارویں آئینی ترمیم کا بہت شور سنا گیا، جس کا کریڈٹ پیپلز پارٹی لینے سے نہیں تھکتی، مگر یہی ترمیم ملک خصوصاً بڑے شہروں کی تباہی کا آغاز بنی۔ کراچی اسی آئینی ترمیم کے بعد بکھرنا شروع ہوا اور آج کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ صوبوں نے وفاق سے تو بے پناہ وسائل حاصل کر لیے، مگر کراچی سے وہ تمام وسائل اور اختیارات چھین لیے جو 1947ء سے قبل بلدیہ کراچی کے دائرۂ اختیار میں تھے۔ اس کے نتیجے میں سنگین شہری مسائل اور بدانتظامی نے انتہا کو چھو لیا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں کئی این ایف سی ایوارڈ خرچ ہوئے، مگر بلدیہ کراچی صدیوں پرانی اپنی آمدنی سے بھی محروم کر دی گئی ۔ اس ترمیم کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس نے صوبائی حکومتوں کو مضبوط کیا اور مقامی حکومتی کردار کو کمزور، یوں مقامی عوامی اختیار جو جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے، مضمحل ہو گیا۔ مرکز اور مقامی وسائل کے درمیان صوبائی حکومت ایک دیوار بن گئی، وفاق سے آنے والا وسائل کا سیلاب صوبہ کی دیوار کے پیچھے ڈیم بھرتا اور سوکتا رہا اور آگئیں کی زمین بنجر ہوتی رہی۔جس سے نہ ملک کی خدمت ہوئی نہ عوام کی خوش حالی۔ سندھ میں 2013ء کے بلدیاتی ایکٹ کے تحت وہ اختیارات اور وسائل بھی صوبے نے اپنے پاس رکھ لیے جو قیامِ پاکستان کے وقت بلدیہ کراچی کے پاس تھے۔ 1998ء میں نواز شریف نے بلدیاتی حکومتوں سے ضلع ٹیکس کی وصولی ختم کر کے اسے جی ایس ٹی میں ضم کر دیا۔ اس رقم کو وفاقی حکومت کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو منتقل ہونا تھا۔ اس نظام کے تحت بلدیہ کراچی کو مالی سال 2024–25 میں صرف جی ایس ٹی کی مد میں 190 ملین روپے براہِ راست ملنے تھے، جو اس کا سالانہ اکٹروائے ٹیکس تھا، مگر پچھلے پندرہ برسوں میں بھی یہ رقم بلدیہ کو نہ مل سکی۔ وجہ؟ وہی اٹھارویں آئینی ترمیم، جس نے یہ حق بلدیاتی اداروں سے چھین کر صوبوں کو دے دیا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس پیسے کو فیڈرل ڈیویژبل پول میں ضم کر دیا گیا اور صوبوں کو اجازت دی گئی کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کے حصے کی رقم کو اپنی مرضی سے استعمال کریں۔ حکومت سندھ نے کراچی کے وسائل قبضہ میں لے لئے اور یوں کراچی، جو اکٹرائے اور ضلع ٹیکس کا سب سے بڑا کلیکٹر تھا، سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
صوبے نے اس کے حصے کی رقم جاری نہیں کی، کیوں کہ اٹھارویں ترمیم نے اسے اس اختیار کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی۔ 2010ء سے 2025ء کے دوران کراچی کو ترقیاتی مد میں صرف 200 ارب روپے سے بھی کم ملے جب کہ بلدیہ کراچی کے ایک سال کے اکٹروائے ٹیکس کے برابر آمدنی 199 ملین روپے تھی۔ ملنے والی رقم ملازمین کی تنخواہوں میں بھی پوری نہ ہوئی، 2017ء کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین و افسران اپنے بقایا جات سے محروم ہیں، اور بلدیہ کراچی اپنے ہی ملازمین کے دس ارب روپے کی مقروض ہو گئی۔۔ عام فہم قاری بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس صورت حال میں کراچی کی کیا ترقی، مرمت اور دیکھ بھال ہونی ہے تاہم یہ تباہی دراصل اٹھارویں آئینی ترمیم کا شاخسانہ ہے۔ اس وقت کراچی کے نمائندوں نے جب اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا تو کیا کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے بلدیاتی اداروں کے آئینی کردار کی بات کیوں نہیں کی؟ اگر آپ کی بات نہیں سنی جا رہی تھی تو ایوان سے باہر آ جاتے، مانا کہ آپ کے بائی کاٹ سے کچھ فرق نہیں پڑتا مگر ضمیر تو مطمئن ہوتا کہ، شہر کو اپنے ہاتھوں برباد نہیں کیا اور شہری یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے نمائندے اس کام میں شامل نہیں تھے۔ افسوس کہ بلدیہ کراچی اپنی ہی صدیوں پرانی آمدنی سے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کے خسارے میں چلی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبے امیر ہو گئے، مگر شہروں اور اضلاع کی محرومی بڑھتی چلی گئی۔یہی وجہ ہے کہ صوبہ سندھ نے گزشتہ پندرہ سال میں 3871 ارب روپے ترقیاتی فنڈز میں خرچ کیے، مگر آبادی کے تناسب سے 1416 ارب روپے کراچی کے حصے میں آنے چاہیے تھے۔ جب کہ کراچی کو صرف 472 ارب روپے ملے۔ یعنی اپنے جائز اور قانونی حق سے 944 ارب روپے کم۔ اسی دوران وفاقی حکومت نے 8967 ارب روپے ترقیاتی مد میں خرچ کیے۔ ملکی آبادی کا 0.4 فیصد ہونے کے باعث کراچی کا حصہ 756 ارب روپے بنتا تھا، لیکن اسے صرف 340 ارب روپے دیے گئے، یعنی 416 ارب روپے کا خسارہ۔ وفاق اور صوبہ دونوں نے کراچی میں ترقیاتی رقم اپنی صوابدید پر، اپنی اسکیموں پر خرچ کی، جن کی نگرانی وہ خود ہی کرتے رہے۔ شہری اداروں سے نہ مشاورت ہوئی نہ رائے لی گئی۔ یہی رویہ شہری اداروں کو کمزور کرنے اور عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کا باعث بنا۔ 2010ء سے 2025ء تک کراچی کو ترقیاتی مد میں اس کے حصے سے 1360 ارب روپے کم ملے۔ یہ وہی عرصہ ہے جب کراچی کی زوال پذیری کا آغاز ہوا۔ وہی زمانہ، جب ملک کے عوام اٹھارویں ترمیم کے "ثمرات” سے لطف اندوز ہونے لگے، اور کراچی رفتہ رفتہ وینٹی لیٹر پر جا پہنچا۔ 2013ء کے بلدیاتی ایکٹ کے بعد صوبائی حکومت نے بلدیہ کراچی کے اختیارات چن چن کر چھینے۔ پانی، سیوریج، صفائی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، ماسٹر پلان، بلڈنگ کنٹرول، ٹرانسپورٹ، لینڈ کنٹرول، تعلیم اور صحت، سب کچھ حکومت سندھ نے لے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کراچی کے سماجی اشاریے تیزی سے زوال کا شکار ہونے لگے۔ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی تجویز کردہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس بھی، جو صدر پرویز مشرف نے منظور کیا تھا، کراچی کی بہتری کے لیے استعمال نہ ہو سکی۔
سابق بیوروکریٹ یونس ڈاگا کے مطابق یہ سس سالانہ 3360 ارب روپے کے قریب وصول کی جاتی ہے، مگر یہ رقم کہاں جاتی ہے، کوئی نہیں جانتا۔ یہ بھی اٹھارویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں صوبائی اختیار کا حصہ ہے۔ ورلڈ بینک کی 2017ء کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں شہری سہولتوں کی کمی پوری کرنے اور شہر کو معیاری رہائش کے قابل بنانے کے لیے تقریباً 910 ارب ڈالر درکار تھے۔ یعنی پاکستانی کرنسی میں دو کھرب پچاس ارب روپے۔ بصورت دیگر شہر "ناقابلِ رہائش” بن جائے گا۔ یہ پیشن گوئی درست ثابت ہوئی، اور 2025ء کے عالمی سروے میں کراچی دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر قرار پایا۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کے مطابق کراچی دنیا کے 173 شہروں میں 170ویں نمبر پر ہے، صرف ڈھاکا، طرابلس اور دمشق سے کچھ بہتر۔ سوال یہ ہے کہ اس نقصان کی تلافی کیسے ہو؟
جواب سیدھا ہے: 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دیا جائے، اور کراچی کے حصے کے 880 ارب روپے براہِ راست بلدیہ کراچی کو منتقل کیے جائیں۔ یہ رقم یونین کمیٹیوں اور ٹاؤنز میں مساوی بنیادوں پر تقسیم کی جائے، اور میگا منصوبوں کی منصوبہ بندی بلدیہ کراچی خود کرے۔ بلدیہ کراچی میں ماس ٹرانزٹ، لوکل ریلوے، پانی، بجلی، صفائی، ٹرانسپورٹ، سب حل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ اسے اپنے وسائل واپس مل جائیں۔ یہ سب منصوبے کامیابی کے ساتھ بلدیہ تکمیل کر چکی، اب کراچی کے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کے آئینی تحفظ کو یقینی بنائیں، اور بلدیہ کراچی کے مالی و انتظامی اختیارات کو بحال کرائیں بصورتِ دیگر انہیں اس آئینی ترمیم کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔۔

پچھلی پوسٹ

جیت لازم ہے تو دست و سالار بدل دیتے

اگلی پوسٹ

مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام مسلسل 78 برس سے آزادی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں: مریم نواز شریف

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام مسلسل 78 برس سے آزادی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں: مریم نواز شریف

مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام مسلسل 78 برس سے آزادی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں: مریم نواز شریف

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper