کراچی ( کورٹ میں رپورٹر) پنجابی لائرز فورم کی جانب سے سٹی کورٹ کراچی میں روایتی "پنجابی آم و لسی پارٹی” کا شاندار انعقاد کیا گیا چیئرمین ضیاء الحق بابر صاحب کی سرپرستی میں کیا گیا۔ اس پروقار تقریب کا مقصد وکلاء برادری کے درمیان باہمی اخوت، اتحاد، بھائی چارے اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ تقریب میں سینئر وکلاء، نوجوان وکلاء اور مختلف بار ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھنے والے معزز اراکین نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین ضیاء الحق بابر ، صدر زاہد پسروڑی جنرل سیکریٹری قمر ویر ، سینئر کونسل میاں عابد صاحب، ایڈووکیٹ شفیق بٹ صاحب، ایڈووکیٹ الطاف بھٹی صاحب، شاہد بھٹی صاحب، شمیم اولیا صاحب، شبیر گجر صاحب، بلال گجر صاحب، اویس ارائیں صاحب، فیصل گجر صاحب، ایڈووکیٹ سرتاج خان صاحب، کراچی بار کے ایم ایم سی متین اللہ گوندل صاحب، ایڈووکیٹ ملک افسر اعوان صاحب، جاوید راں رانا عمران صاحب، زاہد علی صاحب، رانا
رحمان صاحب اور سابقہ پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیدار سابق چیرمین خالد پرویزسنئیر صحافی و اینکر میاں طارق جاوید صاحب سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین ضیاء الحق بابر صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ وکلاء برادری کا اتحاد، باہمی احترام اور بھائی چارہ ہی ہماری اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ PULAF ہمیشہ وکلاء کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ وقار کے تحفظ اور باہمی روابط کے استحکام کے لیے عملی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی مثبت، روایتی اور باوقار تقریبات نہ صرف وکلاء کے درمیان محبت، اعتماد اور یگانگت کو فروغ دیتی ہیں بلکہ نوجوان وکلاء کو اپنے سینئرز سے رہنمائی حاصل کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ PULAF مستقبل میں بھی وکلاء برادری کے حقوق، اتحاد، فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ وقار کے فروغ کے لیے اسی جذبے اور خلوص کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گاتقریب کے دوران شرکاء کی روایتی پنجابی آم اور لسی سے پرتکلف تواضع کی گئی۔ حاضرین نے اس شاندار اور خوشگوار تقریب کو بے حد سراہتے ہوئے اسے وکلاء برادری کے درمیان محبت، بھائی چارے، یکجہتی اور باہمی روابط کے فروغ کی ایک قابلِ تحسین کاوش قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے چیئرمین ضیاء الحق بابر صاحب اور PULAF کی پوری ٹیم کو اس کامیاب اور بہترین تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی مثبت، سماجی، فلاحی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا سلسلہ اسی جذبے اور خلوص کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

