کراچی) نمائندہ خصوصی ایجوکیشن رپورٹر)اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈسٹرکٹ ایسٹ کراچی نے جامعہ کراچی کے ایک ملازم کے خلاف کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو ایک انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں جامعہ کے اسسٹنٹ ہارٹیکلچر (LSGC) مسٹر صفر کے خلاف بدعنوانی اور غبن کے الزامات کی تحقیقات کا عندیہ دیا گیا ہے۔جائیداد اور نرسریوں پر غیر قانونی کنٹرول: ملزم پر الزام ہے کہ اس نے جامعہ کراچی کی نرسریوں پر غیر قانونی قبضہ کیا، کرایہ خود وصول کیا اور سرکاری فنڈز کاپیسہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔نوٹس کے مطابق ملزم گاڑیوں کی دیکھ بھال، سرکاری املاک کی فروخت، حاضریوں، ترقیوں اور پلانٹیشن فنڈز میں شدید مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔قوانین کی خلاف ورزی: ملزم پر
اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے پسندیدہ افراد کو ناجائز فوائد پہنچانے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے ۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے جامعہ کراچی کے اسٹیٹ آفیسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ 3 اگست 2026ء کو صبح 11 بجے تمام متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہوں۔ طلب کیے گئے ریکارڈ میں درج ذیل دستاویزات شامل ہیں ۔اسٹیٹ آفیسر کی جاب ڈسکرپشن اور یونیورسٹی کی زمین پر قائم تمام نرسریوں کا مکمل ریکارڈ ( الاٹمنٹ لیٹرز، لیز معاہدے اور رینوئل آرڈرز)نرسریوں، باغبانی یا پلاٹینیم کے لیے زمین حاصل کرنے والے تمام افراد، فرمز، این جی اوز یا نجی پارٹیوں کی فہرست۔غیر قانونی قبضوں، کرایوں کی وصولی یا زمین کے غلط استعمال کے خلاف موصول ہونے والی شکایات اور ان پر کی گئی کارروائی کا ریکارڈ سنڈیکیٹ کے اجلاسوں کے وہ منٹس جو نرسریوں کی الاٹمنٹ، تجدید یا منسوخی سے متعلق ہوں۔گذشتہ 3 سال کا مصدقہ ریکارڈ اور متعلقہ فائلز۔اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد معاملے میں ملوث دیگر ذمہ داران کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

