• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

سانحہ ولیکا اسپتال : کلیپٹو کریسی کی مثال

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اگست 3, 2026
in کالمز
0
سانحہ ولیکا اسپتال : کلیپٹو کریسی کی مثال
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بنانا ریپبلک اور کلیپٹوکریسی جیسی اصطلاحات کے بارے میں ہم اچھی طرح سے آگاہ ہو چکے ہیں ۔ بنانا ریپبلک کو کٹھ پتلی حکومت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک کی تمام تر طاقت ، تجارت، فوج ، پولیس ، عدلیہ ، پارلیمنٹ ، یہ سب کچھ ایک ننھے سے مگر طاقتور ترین گروپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہی گروپ فیصلے کرتا ہے کہ ملک میں کب کیا قانون ہوگا اور اب کون حکمراں ہوگا ۔

کلپٹوکریسی کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ محض ایک اصطلاح نہیں ہے بلکہ جمہوریت ، آمریت ، مارشل لاء یا بادشاہت کی طرح کا ایک طرز حکومت ہے بلکہ اس کے لیے زیادہ موزوں لفظ نظام حکومت ہے جس میں ریاست میں موجود طاقت کے سارے منبع ایک کلب کی صورت اختیار کرجاتے ہیں ۔ اس نظام حکومت میں بدعنوانی کوئی جرم نہیں ہوتی بلکہ یہ اس کلب کے ارکان کا حق ہوتا ہے ۔ اس کے تحت ساری ہی قانون سازی کی جاتی ہے اور عدالتی فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ اہم پالیسیاں ، ملکی اور غیر ملکی معاہدے اور مالیاتی فیصلے اسی سمت میں کیے جاتے ہیں ۔ اس نظام حکومت میں ریاستی طاقت کا استعمال عوام کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ ان کے وسائل نکال کر حصے بخرے کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔

اس نظام حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جاتا ہے جس میں فائدہ اٹھانے والوں کا باقاعدہ ایک طبقہ وجود میں لایا جاتا ہے ۔ اس طبقہ میں بیوروکریسی ، ملٹری کریسی ، عدلیہ ، صحافی غرض ہر وہ گروپ شامل ہوتا ہے جو ضرر کا باعث بن سکتا ہے ۔ پھر یہ سب مل کر گدھ کی طرح عوام کو نوچتے کھسوٹتے ہیں اور ایک دوسرے کی ڈھال ہوتے ہیں ۔

کلیپٹو کریسی میں بدعنوانی کوئی انفرادی فعل یا اتفاقی طور پر نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منظم طریقہ سے کی جاتی ہے ۔

مارچ 2020 میں ایک آرٹیکل Corrona and Presstitute کے نام سے سپرد قلم کیا تھا ۔ اس میں بھی ایک اصطلاح پریسٹی ٹیوٹ استعمال کی تھی ۔ بنانا ریپبلک اور کلیپٹو کریسی کی طرح پریسٹی ٹیوٹ کی اصطلاح بھی آکسفورڈ ڈکشنری میں شامل ہے ۔ اعادہ کے لیے پریسٹی ٹیوٹ اصطلاح کی تفصیل ۔

یہ 2010 کی بات ہے کہ انگریزی زبان میں ایک لفظ Presstitute کا اضافہ ہوا۔ یہ لفظ press اور prostitute کا مرکب تھا ۔ اس کے معنی ہیں کہ مین اسٹریم میڈیا سے تعلق رکھنے والا وہ فرد جو کسی مالی منفعت کے لیے کسی خبر یا معلومات کو اس طرح پیش کرے کہ اس کے کسی خاص گروپ کو فوائد حاصل ہوسکیں ۔ یہ پریسٹی ٹیوٹ عوام سے اصل معلومات کو چھپاتا ہے اور ان کی جگہ پر اصل جیسی محسوس ہونے والی غلط اور جھوٹی معلومات عوام کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ اس کی مطلوبہ تصویر عوام کے سامنے بن سکے ۔ اس لفظ کا خالق تھا امریکی مصنف جیرالڈ سیلینٹ ۔ اس کے معنی کم و بیش تمام ہی ڈکشنریوں میں ایک ہی ہیں ۔ کئی ڈکشنریوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ presstitute کا باس اصل میں دلال pimp ہوتا ہے جو معاملات طے کرکے اپنے ماتحت سے خصوصی اسٹوریز کرواتا ہے ۔

یہ ہماری بدقسمتی کے پاکستان میں تینوں ہی صورتیں موجود ہیں ۔ یعنی یہ بنانا ریپبلک بھی ہے ، یہاں پر کلیپٹو کریسی بھی ہے اور پریسٹی ٹیوٹ بھی موجود ہے ۔ ہم ان کے مظاہر دیکھنا شروع کرتے ہیں ۔ کلیپٹوکریسی کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہمیں کراچی میں واقع کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں نظر آتا ہے ۔ یہ اسپتال سندھ ایمپلائیز سوشل سیکوریٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) کے تحت کام کرتا ہے ۔ سیسی کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ اس کے تحت صنعتی اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ سیسی وزات بلدیات کے تحت ہے اور اس کے وزیر ہیں سعید غنی صاحب ۔ کراچی سمیت پورے سندھ کے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔ ان اداروں کی کارکردگی پر ابھی ہم بات نہیں کریں گے کہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے ۔ اس وقت ہم کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں رونما ہونے والے سانحہ کے حوالے سے کلیپٹو کریسی و پریسٹی ٹیوٹ کی بات کررہے ہیں ۔
ایک خبر آئی کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں میں اچانک ایڈز پھیل گیا ہے ۔ سو سے زاید معصوم بچے اس کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ نو معصوم جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اسپتال کا اسٹاف تمام مریض بچوں کے لیے ایک ہی سرنج استعمال کررہا تھا ۔ کوئی ایک مریض HIV سے متاثرہ آیا ہوگا۔ اس سے سرنج انفیکٹڈ ہوگئی اور یوں دیکھتے دیکھتے اس مرض میں دیگر بچوں کو بھی مبتلا کردیا گیا ۔

سوال تو بنتا ہے نا کہ کیا اسپتال کا سارا عملہ ہی پاگل تھا جو ایک ہی سرنج سارے بچوں کے لیے استعمال کررہا تھا ۔ کیا ڈاکٹر، کیا نرسنگ اسٹاف اور دیگر عملہ ۔ کسی کو عقل ہی نہیں تھی ، کسی کو پتا ہی نہیں تھا کہ ایک سرنج دوسرے مریض پر استعمال نہیں کرنی ہے ۔

نہیں جناب ، سب کو سب پتا تھا مگر وہ سب مجبور تھے اور کئی برسو ں سے یہی کررہے تھے کہ ایک ہی سرنج دیگر مریضوں پر بھی استعمال کی جائے کیوں کہ ان کے پاس اور سرنج تھیں ہی نہیں اور آنے والے مریضوں کے ورثا اس قدر غریب تھے کہ وہ باہر سے خرید کر نہیں لاسکتے تھے ۔ وہ تو بدقسمتی سے یہ HIV کا مریض آگیا اور یوں یہ بھانڈا پھوٹ گیا ۔

تو ایسی کیا مجبوری تھی ؟ یہاں سے ہم کلیپٹوکریسی کو دیکھتے ہیں ۔ دیگر اسپتالوں اور اداروں کی طرح کلثوم بائی ولیکا اسپتال کا بھی ہر برس بجٹ منظور ہوتا ہے اور انہیں مینٹی نینس و ادویات کی فراہمی کے لیے رقم فراہم بھی کی جاتی ہے اور ٹینڈر بھی کیے جاتے ہیں ۔ مگر institutionalized corruption کے تحت یا تو یہ ادویات اور سامان اسپتال پہنچتا ہی نہیں ہے یا پھر پہنچنے کے بعد غائب ہوجاتا ہے ۔ یہ تھی عملے کی مجبوری جس کے نتیجے میں یہ خوفناک سانحہ وجود میں آیا ۔

بات اتنی سی نہیں ہے کہ بچے ایڈز کے وائرس میں مبتلا ہوگئے ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ بچے اور ان کا پورا خاندان جیتے جی مرگیا ۔ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ تازندگی اس کا علاج کرواسکیں ، اچھی غذا کھا سکیں کہ ان کا جسم مدافعت کے قابل ہو۔ وہ سماجی بائیکاٹ کا شکار ہوگئے ہیں ۔ انہیں کوئی گھر کرائے پر نہیں دے رہا ، اپنے بچوں کو ان متاثرہ بچوں سے دور کردیا گیا ہے ، نہ ان کی شادیاں ہوں گی اور نہ ہی انہیں کہیں نوکری ملے گی ۔ ان متاثرہ بچوں کے والدین غم و یاسیت کی تصویر ہیں کہ نہ زندوں میں ہیں اور نہ ہی مردوں میں ۔

تو حکومت نے کیا کیا ؟ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام طبی اداروں کے حالات کو دیکھے ، اس نے ایک دورہ کیا اور اپنی رپورٹ بنا کر حکومت کو پیش کردیں گے ۔ یعنی جس نے جرم کیا ہے ، اسی کو رپورٹ پیش کردی جائے گی ۔

اس کے بعد ذہن میں یہی سوال اٹھتا ہے کہ اس خوفناک سانحے کے بعد معاشرے میں طوفان اٹھ گیا ہوگا ۔ بس اتنا طوفان اٹھا کہ وزیر بلدیات سعید غنی صاحب نے مگر مچھ کے آنسو بہائے ، عملے کے 35 ارکان کو معطل کردیا اور دو ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ کا اعلان کردیا ۔ سندھ ہائی کورٹ نے رپورٹ طلب کرلی ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اصل جڑ کو پکڑا جاتا ۔ بدعنوانی میں صرف اسپتال کا سربراہ ہی شریک کار نہیں تھا ۔ یہ پوری چین تھی جس میں بلدیہ کا محکمہ فنانس ، میئر اور ان کے دیگر دست راست اور خود وزیر موصوف بھی شامل ہیں ، کے خلاف آزادانہ تحقیقات کی جاتیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عباسی شہید اسپتال جیسے بڑے اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں میں بھی بدعنوانی کی پکڑ کی جاتی ۔ پورے صوبے میں بدعنوانوں کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ۔ یہ سب نہیں ہوا اور ہوگا بھی نہیں کیوں کہ ہم کلیپٹوکریسی میں رہ رہے ہیں ۔ بدعنوانی کرنے والے ، ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مینڈیٹ رکھنے والے ، ان کو سزائیں دینے والے سب ایک دوسرے کے معاون ہیں ۔

اب پھر وہی آزمودہ نسخہ آزمایا جائے گا یعنی معاملے کو وقت کی گرد میں دبنے دو ۔ دو ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ بھی یہ لوگ کھا جائیں گے اور معطل شدہ افراد بحال بھی ہوجائیں گے ۔ رہ گئے متاثرین تو ان کا کیا ہے ؟ یہ تو ہیں ہی کیڑے مکوڑے ۔

پورے کراچی کو سندھ حکومت اور بلدیہ نے کھود ڈالا ہے ۔ کون سی بڑی شاہراہ ، کون سی ذیلی سڑک یا گلی ہے جو کھدی ہوئی نہیں ہے ۔ ہر جگہ سیوریج کا پانی بہہ رہا ہے ، انفرا اسٹرکچر نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہورہا ہے جس کی وجہ سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ روز ہزاروں لیٹر پٹرول بھی اضافی خرچ ہوتا ہے جو ملک ڈالروں کے عوض خریدتا ہے ۔ گاڑیوں کے انجر پنجر ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور شہریوں کو ان کی مرمت پر اضافی خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ کھدی سڑک اور گڑھوں کی وجہ سے شہری ریڑھ کی ہڈی کے امراض میں مبتلا ہورہے ہیں ، ان کی ہڈیاں فریکچر ہورہی ہیں ۔سیوریج کی دھول کی وجہ سے آنکھوں اور سانس کے امراض کے ساتھ ساتھ سینے کے امراض میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔

کیا کبھی ڈاکٹروںؐکی کسی اسلامی یا سیکولر تنظیم نے یہ اعداد و شمار پیش کیے ، کیا کبھی پریسٹی ٹیوٹ میڈیا نے اسے ایشو بنایا ۔ کبھی نہیں ۔ ڈاکٹروں کی تنظیمیں ہیلتھ واک کریں گی کہ اس کے ذریعے انہیں فنڈ ملیں گے ۔ یہ سب کلیپٹو کریسی کی مثال ہیں ۔ دوبارہ سے دیکھیے ، اس کرپشن میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس عملے کو بھرتی کیا اور فنڈ منظور کرکے جاری کرتے ہیں ، اس کرپشن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے فارم 47 کے ذریعے بلدیہ کراچی اور سندھ اسمبلی کی موجودہ تشکیل کی ۔ اس کرپشن میں وہ بھی شامل ہیں جو بلدیہ اور حکومت سندھ میں ذمہ داروں کو لے کر آئے ۔ یہ سب کے سب اس سانحہ کے ذمہ دار ہیں ۔ جب نیپا پر چیز سپر اسٹور کے سامنے ایک معصوم بچہ کھدی یونیورسٹی روڈ کی وجہ سے کھلے نالے میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ، اگر اسی روز ان تمام ذمہ داروں کا احتساب ہوجاتا اور ان سب کو قرار واقعی سزا مل جاتی تو آج ولیکا اسپتال کا اسانحہ نہ ہوتا ۔ پریسٹی ٹیوٹ میڈیا نے نہ اس وقت کوئی سوال کیا تھا اور نہ ہی یہ آج کوئی جواب طلب کرے گا ۔ یہ تو ایان علی کو ایک مجرمہ کے بجائے اسے ایک celebrity بنا کر پیش کررہے تھے اور شرمندہ بھی نہیں تھے ۔

اس موضوع پر مزید گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازش سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

"پاکستان کی پہلی خاتون،ایس پی ماجدہ پروین :ایک تاریخی اعزاز… قوم کو آپ پر فخر ہے۔”

اگلی پوسٹ

جامعہ کراچی کے ملازم کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر انکوائری کا فیصلہ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
جامعہ کراچی کے ملازم کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر انکوائری کا فیصلہ

جامعہ کراچی کے ملازم کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر انکوائری کا فیصلہ

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper