• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

وزیراعظم کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت ، دونوں ممالک کی باہمی اعتماد، احترام اور وقار پر مبنی دوستی کو موثر اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا ، شہباز شریف

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 4, 2026
in پاکستان
0
وزیراعظم کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت ، دونوں ممالک کی باہمی اعتماد، احترام اور وقار پر مبنی دوستی کو موثر اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا ، شہباز شریف
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

استنبول۔(نمائندہ خصوصی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو توانائی، آبی ذخائر،زراعت،خصوصی اقتصادی زونز،کانکنی ومعدنیات،انفارمیشن ٹیکنالوجی ،مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی باہمی اعتماد، احترام اور وقار پر مبنی دوستی کو موثر اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا،ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے،بھارت کی طرف سے مسلط کردہ جنگ میں ترکیہ سمیت دوست ملکوں کی حمایت ہمیشہ یاد رہے گی،پاکستان کے موثر سفارتی کردار اور دوست ملکوں کی حمایت سے خطے میں امن قائم ہوا ہے،اب ضروری ہے کہ امن کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں جبکہ ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئے ہیں،علاقائی اور عالمی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا انتہائی تعمیری کردار ہے،دونوں ممالک کے درمیان آٹو موبیل،زرعی صنعت،فوڈ پروسیسنگ،طبی آلات،قابل تجدید توانائی ،صحت، گرین ٹیکنالوجیز، آئی ٹی، ای کامرس، تعلیم، سیاحت،شپ بلڈنگ،دفاعی صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی بڑی گنجائش ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو یہاں پاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ استنبول آمد پر بہت خوشی ہوئی ہے،استنبول کا خوبصورت شہر ایشیا اور یورپ کو ملاتا ہے،ترکیہ پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی ہے،اس منفرد اور تاریخی تعلق کی بنیاد ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران رکھی گئی تھی، ترکیہ کی جنگ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں نے علی برادران کی قیادت میں ترکیہ کے عوام کا بھرپور ساتھ دیا، اس وقت شاید یہ خیال بھی نہیں کیا گیا ہوگا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ترکیہ کے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی دوستانہ حمایت اور محبت، جنگ ،زلزلوں اور سیلاب میں ہمارے تصور سے بھی بڑھ جائے گی،دونوں ممالک کے درمیان لازوال رشتے کی ایک تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں بہت اچھی پریذنٹیشنز دی گئی ہیں لیکن اب ہمیں دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مفاد میں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے بھائی رجب طیب اردوان کی بھر پور حمایت سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے،یہ کٹھن سفارتی مشن ہرگز آسان نہ تھا ،صدر طیب اردوان اور دوسرے برادر اور دوست ممالک کے پرخلوص تعاون کے بغیر یہ مشن پورا نہیں ہو سکتا تھا،امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ہم نے خلوص نیت سے کوششیں کیں، الحمدللہ جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر صدر ٹرمپ اور صدر مسعود پزشکیان اور میرے ثالث کے طور پر دستخط ہو چکے ہیں ،یہ امن عمل نہ صرف ہمارے لئے بلکہ دو طرفہ طور پر پورے خطے کے لیے مفید ثابت ہوگا۔اب ضروری ہے کہ امن کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے صدر اردوان کی بصیرت افروز قیادت میں صنعتی اور دیگر شعبوں میں شاندار ترقی کی ہے،ترکیہ کا صنعتی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے،ترکیہ کی آٹو موبیل انڈسٹری یورپ کا مقابلہ کر رہی ہے،ٹیکسٹائل ،لائیو سٹاک اور زرعی شعبے نے بھی بھرپور ترقی کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم ترکیہ کے ترقی کے تجربے سے استفادہ چاہتے ہیں،ہم بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کرنا چاہتے ہیں،لائن لاسز میں کمی لانے اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے کوشاں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں خصوصی اقتصادی زون پورٹ قاسم سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔وزیراعظم نے خصوصی اقتصادی زون میں صدر رجب طیب اردوان خصوصی اقتصادی زون کے نام سے ترکیہ کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک ہزار ایکڑ راضی مختص کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی بڑی گنجائش موجود ہے،اللہ تعالی نے پاکستان کو معدنی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے ، با ہمی تعاون سے ان سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو بڑھایا جا سکتا ہے۔نئے امکانات کو دو طرف تعاون اور علاقائی خوشحالی کے لیے استعمال کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں سے 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے چینی کہاوت ہے ہر چیلنج میں موقع موجود ہے،نوجوان آبادی ہمارے لیے ایک چیلنج لیکن ایک عظیم موقع بھی ہے کہ پاکستان کے اس عظیم اثاثے کو اقتصادی فوائد اور سماجی اقتصادی ترقی میں تبدیل کریں، اس سلسلے میں آئی ٹی اور اے آئی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کا شعبہ بھی پاکستان کے لیے ایک اور چیلنج ہے ہم خسارے کے شکار اس شعبے کو سرمایہ کاری کے ذریعے منافع بخش شعبے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ترک سرمایہ کاروں کو سولر ،ونڈ ملز اور آبی ذخائر کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ڈسکوز کی نجکاری اور ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری کے لیے ترکیہ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔توانائی اور متبادل توانائی کے شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کریں گے،وقت کے ساتھ ساتھ بزنس ٹو بزنس تعاون مزید موثر ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ صدر طیب ایردوان،ان کی کابینہ کے ارکان اور کاروباری شخصیات پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں ،ہم پر امید ہیں کہ اس شعبے میں بی ٹو بی سطح پر تعاون کو فروغ دیں گے لیکن ترکیہ کے قیادت کی اس بات سے بہت حوصلہ ملاہے کہ اگر اس میں کسی قسم کی رکاوٹ ہوئی تو پھر جی ٹو جی سطح پر تعاون کو بڑھائیں گے اور یہ ہے پاکستان اور ترکیہ کی دوستی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے عزم کا اظہار۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔گزشتہ سال پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی، ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں چار سے پانچ دن میں دشمن کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا اور ہم نے اپنی خود مختاری اور وقار کا بھرپور دفاع کیا۔اس وقت ترکیہ،سعودی عرب سمیت دوست ممالک نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،ترکیہ چٹان کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، اس کی وجہ سے ترکیہ کا کاروباری نقصان بھی ہوا لیکن اس نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ ترکیہ نے صدر اردوان کی قیادت میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں ،پاکستان اور ترکیہ کی باہمی اعتماد، احترام اور وقار پر مبنی دوستی کو موثر اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا اور کوئی رکاوٹ ہمارے آڑے نہیں آ سکے گی۔ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پاکستان کے وفد کے ارکان کو کانفرنس میں خوش آمدید کہتے ہیں،ہم یہاں تعاون کے ایک نئے دور کے اغاز کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں،پاکستان اور ترکیہ کے درمیان غیر معمولی تعلقات ہیں ،دونوں ممالک نے ہر چیلنج کی گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے،اپنے مضبوط تعلقات کو ثابت کر کے دکھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا کا اہم ملک ہے بلکہ علاقائی اور عالمی معاملات میں امن اور استحکام کے لیے بھی اس کا انتہائی تعمیری کردار ہے،پاکستان نے تعمیری سفارت کاری کے ذریعے مشرق وسطی میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں،امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئے ہیں۔علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی گراں قدر خدمات ہیں۔امن کے لیے بہترین کردار پر وزیراعظم شہباز شریف کے مشکور ہیں،عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے معاشی شعبے پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکیہ اعلی سطحی سٹریٹیجک تعاون کونسل اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے ایک انتہائی اہم فورم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ کر رہے ہیں، تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانا ہمارا ہدف ہے لیکن اسے مزید بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری دو ارب ڈالر سے بڑھ گئی ہے،آٹو موبیل،زرعی صنعت،فوڈ پروسیسنگ،طبی آلات،قابل تجدید توانائی ،صحت گرین ٹیکنالوجیز، آئی ٹی، ای کامرس، تعلیم، سیاحت،شپ بلڈنگ،دفاعی صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی بڑی گنجائش ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزراء نے بہت اچھی پریذنٹیشن دی ہے ہم نے برادرانہ تعلقات کو معاشی شعبے کی ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے، کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری میں اضافہ بہت اہم ہے۔کراچی انڈسٹریل پارک انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں ترک سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کے لیے جگہ کو مختص کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اب یہ دوستی تجارت،لاجسٹکس کوریڈور،ٹیکنالوجی پروڈکشن، برآمدی پلیٹ فارمز،مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی نظر آنی چاہیئے۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے مثالی تعلقات ہیں،دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ۔امن، سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی سمیت ہر شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ دونوں ممالک کھڑے رہے ہیں،اپنے غیر معمولی برادرانہ اور سیاسی تعلقات کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہمارا اثاثہ ہے ،بدلتے عالمی منظر نامے میں معاشی تعاون کی جہت بھی تبدیل ہوئی ہے،پاکستان اور ترکیہ کا محل وقوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے،اپنے جغرافیائی محل وقوع کو عوام کے معاشی فوائد کے لیے استعمال کرنا ہوگا،اقتصادی سفارت کاری آج دنیا میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے بدلتی عالمی صورتحال کے تناظر میں معاشی شراکت داری کو وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی سفارت کاری میں معیشت انتہائی اہم ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اقتصادی اصلاحات کے جامع ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،جس کا مقصد اقتصادی استحکام کا حصول، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور کاروبار میں اسانیاں پیدا کرنا ہے ہم توانائی، کان کنی و معدنیات،بجلی کے بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی،مینوفیکچرنگ، زراعت لاجسٹکس،سیاحت دفاعی صنعت جیسے اہم شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے۔ ان شعبوں میں شاندار مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے،کاروبار دوست ماحول کی فراہمی ہماری ترجیح ہے۔آج دنیا تبدیل ہو رہی ہے نئے اتحاد بن رہے ہیں اور تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں،پاکستان اور ترکیہ اپنی دوستی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خوشحالی،جدت اور علاقائی استحکام میں بھی ایک دوسرے کے معاون ثابت ہوں گے۔وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام بہتری کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں،پاکستان میں ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں،ترسیلی نظام کی ڈیجٹلائزیشن پر کام ہو رہا ہے،بجلی کے نظام میں بہتری لا کر نقصانات میں کمی لائی گئی ہے۔وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں،ملک میں گیس کی کمی کی وجہ سے ہمیں ہر سال اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایل این جی درآمد کرنا پڑتی ہے، ملک میں گیس اور تیل کی طلب ملکی پیداوار سے کہیں ذیادہ ہے،معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ توانائی کی ضروریات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،تیل اور گیس ،کانکنی اور معدنیات کے شعبے میں ترکیہ کے کاروباری افراد کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں 26 ہزار آئی ٹی ٹیکنالوجی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں،پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد بہت بڑی ہے، وزیراعظم کیش لیس معیشت اور ایک گورنس کے فروغ میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں،ملک میں خصوصی ٹیکنالوجی زونز قائم کیے گئے ہیں،موبائل فون صارفین کی تعداد 20 کروڑ ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری بڑھانے کی بڑی گنجائش ہے۔وزیراعظم کے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے، زر مبادلہ کے ذخائر گزشتہ تین سال کی نسبت سب سے زیادہ ہیں،ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے معیشت کو ڈیجیٹائز کر رہے ہیں ہم خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں،ریگولیٹر کو مضبوط بنایا جا رہا ہے رہے،پاکستان میں 9 ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہین جن کی نجکاری کی جا رہی ہے، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی پہلے مرحلے میں نجکاری ہو رہی ہے ،پبلک پرائیویٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بھی مختلف منصوبے ہیں،جن میں سکھر حیدرآباد موٹر وے کے 57 اور 64 کلومیٹر کے دو سیکشنز ہیں، دوسرا کراچی اور حیدرآباد کے درمیان 68 کلومیٹر کا منصوبہ ہے۔سکھر سے حیدرآباد اور کراچی سے حیدرآباد موٹرویز کو بی او ٹی کی بنیاد پر بنایا جائے گا،اسلام آباد کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کو نجی شعبے کو دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح سرمایہ کاری کا فروغ اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہے،انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں پانچ سو بستروں کے جدید ہسپتال پر کام ہو رہا ہے یہ 100 ملین ڈالر کا منصوبہ ہے اس کے علاوہ ہم اسلام آباد میں 5 سٹار ہوٹلز تعمیر کر رہے ہیں یہ تمام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل پہ دستیاب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صنعتی سفر کے دو اہم حصے ہیں خصوصی اقتصادی زونز پہ کام ہو رہا ہے وہاں لگنے والی صنعتوں کے پلانٹس اور مشینری پر نو سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کاروباری شعبے میں تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کے حامل ہے۔ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کا برادر ملک ہے، پاکستان اور ترکیہ دو ملک اور ایک قوم ہیں،دونوں ممالک کے درمیان قیادت اور عوام کی سطح پر انتہائی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دوطرفہ تجارتی حجم ایک ارب 20 سے 30 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے ،اس میں اضافے کی بڑی گنجائش ہے،مختلف شعبوں میں ہم اپنے تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں،پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے،ہم نے دو طرفہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے۔

پچھلی پوسٹ

میرپور میں آویزاں پوسٹرز اور بینرز نے کالعدم کمیٹی کی حقیقت عیاں کر دی،کالعدم ایکشن کمیٹی نامنظور” کے پوسٹرز عوامی مزاحمت کا کھلا اظہار

اگلی پوسٹ

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی اویاک کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی اویاک کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی اویاک کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper