کراچی ( خصوصی رپورٹ) کراچی میں دہشت پھیلانے والا گینگ وار کا ماسٹر مائنڈ کون تھا ۔ دنیا اسے بابا لاڈالا کے نام سے جانتی تھینور محمد عرف بابا لاڈلا لیاری کی ان تنگ و تاریک گلیوں کی پیداوار تھا جہاں غربت نسل در نسل انسانوں کو اپنی زنجیروں میں جکڑتی چلی آئی تھی۔ اس کا باپ غلام حسین ایک منشیات فروش تھا جسے پولیس نے کئی بار گرفتار کیا۔ غلام حسین نے ایک بار ایک کشتی میں سوار ہو کر بیرون ملک جانے کی کوشش کی۔سمندر کے عین وسط میں کشتی ڈوبنے لگی۔ سو مسافروں میں سے صرف تین بچے اور غلام حسین ان تینوں میں شامل تھا۔ بعد میں اس سے پوچھا گیا کہ تم نے مہینہ بھر پانی میں کیسے گزارا تو اس نے بے شرمی سے کہا کہ میں مرنے والے ساتھیوں کا گوشت نوچ نوچ کر کھاتا رہا۔ یہ وہ گھر تھا جہاں بابا لاڈلا نے جنم لیا اور یہ وہ تربیت تھی جو اسے گھٹی میں ملی۔بابا لاڈلا بچپن سے ہی ذہین تھا۔ اس نے پڑھائی کی اور نوکری کی تلاش میں نکلا۔ بینک میں کام کیا اور نجی کمپنیوں میں تین نوکریاں کیں۔ اس کا سب سے بڑا خواب یہ تھا کہ وہ پولیس میں بھرتی ہو جائے۔ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ وہ کراچی کے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر کے باہر بیٹھا رہا اور التجا کرتا رہا کہ مجھے اے ایس آئی کے عہدے پر رکھ لو۔لیکن
کراچی کی پولیس میں بھرتی کا ایک ہی قانون تھا یعنی جس کی جیب بھاری اس کی میرٹ اونچی۔ غریب نور محمد کے پاس نہ سفارش تھی نہ رقم۔اسی دروازے سے جب وہ خالی ہاتھ پلٹا تو سردار عبدالرحمٰن بلوچ کا دروازہ اس کے لیے کھلا تھا۔ سردار عبدالرحمٰن جسے دنیا رحمٰن ڈکیت کے نام سے جانتی تھی لیاری کا وہ بادشاہ تھا جس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تھا۔ نور محمد نے اپنی جان اس کے قدموں میں رکھ دی اور اس طرح لیاری کو ملا بابا لاڈلا۔ وہ رحمٰن ڈکیت کا لاڈلا تھا اور یہی لقب اس کی پہچان بن گیا۔بابا لاڈلا نے لیاری کے اندر ایک موازی حکومت قائم کر لی۔ اس نے اپنی حوالات بنائی اپنی عدالت لگائی اپنی چوکیاں بنائیں اور اپنی فوج تیار کی۔ لیاری کے ہر فیصلے میں اس کا حکم چلتا تھا۔ جو مقدمہ پولیس تھانے جاتا تھا اسے لوگ خود لیاری کی اس غیر سرکاری عدالت میں لے آتے تھے کیونکہ انہیں پولیس سے زیادہ بابا لاڈلا پر بھروسہ تھا اور بابا لاڈلا سے زیادہ خوف۔بھتہ خوری اس کا سب سے بڑا کاروبار تھا لیکن لیاری والے اسے بھتہ نہیں کہتے تھے وہ اسے حصہ کہتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ کراچی کی سرزمین پر جو بھی کمائے گا وہ یہاں کے اصل باشندوں کو ان کا حصہ دے گا۔بابا لاڈلا نے اس فلسفے کو اپنا ہتھیار بنایا اور کراچی کی ایشیا کی سب سے بڑی کچرا مارکیٹ شیرشاہ کچرا مارکیٹ کے تاجروں کو پرچیاں بھیجیں جن پر اس نے خود اپنے خاص لیٹر ہیڈ پر خود اپنے دستخط کیے تھے۔پرچی میں لکھا تھا کہ بڑی دکان والا پانچ ہزار روپے ماہانہ دے گا بڑا کھوکھا والا تین ہزار دے گا اور چھوٹا کھوکھا والا ایک ہزار دے گا اور یہ رقم تین ماہ کے اندر لیاری پہنچانی ہوگی۔ آخر میں لکھا تھا کہ اگر نہ پہنچائی تو چن چن کر ماریں گے۔جب تاجروں نے مل کر انکار کیا تو بابا لاڈلا سردار عبدالرحمٰن اور اپنے گروہ کے ساتھ شیرشاہ مارکیٹ پہنچا۔ اس نے اپنے سنائپرز چھتوں پر تعینات کیے اور پھر جو خونریزی ہوئی وہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔اس نے آٹھ سے نو تاجروں کو زندہ پکڑا انہیں گھسیٹتے ہوئے مارکیٹ کے مرکزی دروازے پر لایا اور وہاں گولیوں سے بھون دیا۔ اس پر بھی اکتفا نہ ہوئی تو لاشوں پر دھمال ڈالا اور ناچتا رہا۔آٹھ لوگ موقع پر مارے گئے اور پانچ اسپتال میں دم توڑ گئے۔ درجنوں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد پوری مارکیٹ نے بھتہ دینا شروع کر دیا۔پولیس نے بابا لاڈلا کے خلاف چھ بڑے آپریشن کیے لیکن ہر بار وہ بچ نکلا کیونکہ اس کا خبری نیٹ ورک اتنا مضبوط تھا کہ آپریشن سے پہلے ہی اسے اطلاع مل جاتی تھی۔ پولیس کے اندر بھی اس کے آدمی بیٹھے تھے۔ اس نے چوہدری اسلم جیسے بڑے پولیس افسر پر بھی گولی چلائی جس میں اسلم کے پانچ چھ ساتھی شہید ہوئے اور چوہدری اسلم خود زخمی ہوئے۔اس نے پولیس کے ساتھ بارہ سے چودہ مسلح مقابلے کیے اور ہر بار اپنے گروہ کی طاقت ثابت کی۔ ایک بار تو اس نے ایک پل پر گھات لگا کر سات پولیس گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کر دیا جو ایک بڑے گینگسٹر شعیب خان کو منتقل کر رہا تھا۔ اس حملے میں کئی پولیس والے مارے گئے۔بابا لاڈلا کی وفاداری اور سفاکیت دونوں ایک ساتھ چلتی تھیں۔ جو کوئی سردار عبدالرحمٰن کے خلاف مخبری کرتا اسے بابا لاڈلا نہ معاف کرتا۔ اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی اگر مخبر ثابت ہو جاتے تو وہ انہیں اپنی حوالات میں بند کرتا ان پر تشدد کرتا اور پھر ایسے انجام سے دوچار کرتا کہ سننے والے کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ اس نے انسانی جسموں میں ڈرل مشین سے سوراخ کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔9 اگست 2009 کو جب عبدالرحمٰن ڈکیت ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا تو لیاری میں ایک نئے بادشاہ کا تاج بغیر کسیتقریب کے نور محمد عرف بابا لاڈلا کے سر پر آ گرا۔ وہ آدمی جس نے ساری عمر رحمٰن ڈکیت کی ڈھال بن کر گزاری اب خود لیاری کا سب سے خطرناک سردار تھا۔عزیر بلوچ نے گروہ کی سربراہی سنبھالی تو مارا ماری کا کام بابا لاڈلا کی سربراہی میں دیگر سرداروں کے سپرد ہوا۔ لیکن طاقت کی یہ تقسیم زیادہ دیر نہ چلی۔ بابا لاڈلا کو محسوس ہوا کہ عزیر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے تو اس نے اپنے ہی سردار یعنی عزیر بلوچ اور اس کے مقرر کردہ سرداروں کی مخالفت کا راستہ چنا۔ پیپلز پارٹی کے ممبر اسمبلی جاوید ناگوری کے بھائی اور رفقاء کو مارنے کے بعد بابا لاڈلا کا انجام یقینا طے ہو چکا تھا۔ جس نظام نے اسے پالا تھا اب وہی نظام اس سے خائف ہو چکا تھا۔ وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 74 مختلف کیسز میں مطلوب تھا۔ اس کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر تھی اور ہر طرف سے شکنجہ تنگ ہو رہا تھا۔جب کراچی میں رینجرز کا بڑا آپریشن شروع ہوا تو بابا لاڈلا بھاگ نکلا۔ لیاری میں رینجرز کا آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ ایران فرار ہو گیا تھا۔اس نے لیاری جنرل اسپتال کے سامنے والی گلی میں فٹ بال ہاؤس کے نام سے ایک شاندار گھر بنوا رکھا تھا جس میں مورچے اور فرار کے خفیہ راستے موجود تھے لیکن مجرمانہ زندگی کی وجہ سے اسے کبھی چین سے اس گھر میں رہنا نصیب نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ اپنے ٹھکانے بدلتا رہتا تھا۔ایران میں چھپے بابا لاڈلا کی موت کی خبریں کئی بار آئیں۔ اگست 2015 میں لیاری گینگ وار کے اس سرغنہ کے پاک ایران سرحدی علاقے میں ہلاک ہونے کی اطلاع آئی تاہم بلوچستان کی صوبائی حکومت نے واقعے کی تصدیق نہیں کی۔ ایک بار تو اس کی گولیوں سے چھلنی لاش کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تاہم پتہ یہی چلا کہ بابا لاڈلا زندہ ہے اور اپنے گروپ کی قیادت بھی کر رہا ہے۔ یہ آدمی موت کو بھی دھوکہ دینے کا ہنر جانتا تھا۔لیکن آخر کار سکیورٹی اداروں نے ایک ایسی چال چلی جو بابا لاڈلا کے لیے جال بن گئی۔ زندہ ہونے کے بارے میں مصدقہ اطلاعات کے بعد بابا لاڈلا کی سرگرمیوں کی نگرانی آسان ہو گئی۔ حالیہ ہفتوں کے دوران جونہی اس نے سرحد پار کی تو سکیورٹی اداروں نے حکمت عملی کے تحت اسے پکڑنے کے بجائے محض نگرانی جاری رکھی جس کی بدولت اس کے مقامی وسائل اور سرپرستوں کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ وہ خود اپنے جال میں پھنستا چلا گیا۔بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لیاری میں بابا لاڈلا اور اس کے ساتھیوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا گیا۔ یہ رات 2 فروری 2017 کی تھی اور لیاری کے علاقے پھول پتی لین میں ایک آخری معرکہ سجنے والا تھا۔ ملزمان اور رینجرز کے درمیان 35 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ عمارتوں کی چھتوں سے رینجرز پر فائرنگ کی گئی۔ گلیوں میں گولیاں چلتی رہیں۔ وہی لیاری جس کی تنگ گلیوں میں بابا لاڈلا نے اپنی حکومت چلائی تھی آج اس کا قبرستان بن رہی تھی۔فائرنگ کے تبادلے میں نور محمد عرف بابا لاڈلا اپنے دو ساتھیوں سکندر عرف سکو اور محمد یاسین عرف ماما سمیت ہلاک ہوگیا۔ صبح کی روشنی میں جب لاش سول اسپتال پہنچی تو پوسٹ مارٹم نے وہ کہانی بیان کی جو گولیوں نے لکھی تھی۔ بابا لاڈلا کو 6 گولیاں لگیں جو گردن سینے پیٹ اور ٹانگوں پر لگیں۔ ٹانگوں پر گولیاں دائیں جانب سے جبکہ گردن سینے اور پیٹ پر بائیں جانب سے لگیں۔ وہ جسم جس نے سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا آج خود چھ گولیوں سے چھلنی پڑا تھا۔بابا لاڈلا سے بڑے مجرم وہ سیاسی طاقتور افراد ہیں جو بابا لاڈلا جیسے مجرم پیدا کرتے ہیں اور مقصد پورا ہونے کے بعد انہیں مروا دیتے ہیں اور شاید سب سے بڑا مجرم یہ نظام ہے جو ایک مزدور کے بیٹے کو بابا لاڈلا جیسا مجرم بناتا ہے اور پھر اسے ایک مقابلے میں مار دیتا ہے لیکن اس کی پشت پر موجود بااثر افراد کو چھونے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا۔ بابا لاڈلا کا انجام بھی اتنا ہی بھیانک ہوا جتنی اس کی زندگی تھی۔ لیاری کی تاریخ میں وہ ایک ایسا باب ہے جو نہ پوری طرح سیاہ ہے نہ سفید بلکہ خون کے رنگ جیسا گہرا سرخ ہے۔لیاری کے اس بے تاج بادشاہ کی کہانی ایک ایسے سوال پر ختم ہوتی ہے جس کا جواب آج تک کسی کے پاس نہیں۔
کیا بابا لاڈلا کی موت سے لیاری کی غربت ختم ہوئی؟کیا وہ نظام بدلا جس نے نور محمد کو بابا لاڈلا بنایا تھا؟جواب نفی میں ہے کیونکہ جب تک لیاری کی گلیوں میں غربت کا اندھیرا ہے بابا لاڈلا جیسے کردار ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور ہمیشہ اسی طرح مریں گے۔

