اسرائیل اور امریکا نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کردیا ۔ اسے ان دونوں ممالک نے یا عظیم قہر کا نام دیا ۔ ایران پر یہ حملہ کوئی اچانک نہیں تھا ۔ ہفتوں پہلے سے اس کا اعلان کردیا گیا تھا ۔ اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کئی مرتبہ اپنی فضائی حدود بند کرچکا تھا ۔ حملے کے آغاز سے لے کر پہلے 12 گھنٹوں میں امریکا و اسرائیل نے ایران پر 900 وار کیے تھے ۔ یہ حملے واقعی عظیم قہر کے مصداق تھے ۔ پہلے دن کے ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایران کے جنوبی شہر ہرمزگان کے علاقے میناب میں لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول پر بھی شدید بمباری کی گئی ۔ چونکہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب اسکول لگا ہوا تھا اور تدریس پورے عروج پر تھی ۔ اس لیے ساری ہی بچیاں اپنی کلاسوں میں موجود تھیں ۔ اسکول پر ہونے والے اس حملےمیں 110 معصوم بچیوں سمیت 168 بے گناہ افراد موت کا شکار ہوئے ۔
ایران پر حملے کے لیے امریکا نے جو جواز پیش کیے اس میں سے سب سے زیادہ جس پر زور تھا وہ تھا ایران کی ایٹمی صلاحیت ، دوسرا جواز یہ تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام امریکا پر حملہ کے قابل ہوگیا ہے ۔ یہ دونوں جواز ایسے ہی تھے جیسے امریکا نے عراق پر حملے کے لیے وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور عراق کی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے دنیا کے سامنے پیش کیے تھے ۔ بعد میں امریکا نے خود بھی تسلیم کیا اور اس کے اتحادیوں نے بھی اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ یہ سب جھوٹ تھا ۔ عراق میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کوئی وجود ہی نہیں تھا اور اس کی ایٹمی صلاحیت کو اسرائیل پہلے ہی تباہ کرچکا تھا ۔
کچھ یہی صورتحال ایران کے ساتھ بھی رہی ۔ امریکا پر حملے کے لیے ایران کو بین البراعظمی میزائیل درکار ہیں جس کی صلاحیت ایران کے پاس ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس نے اس کا آج تک کوئی تجربہ کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے جو بھی جوابی کارروائی کی وہ متحدہ عرب امارات، بحرین ، اردن ،قطر، سعودی عرب، عراق اور اسرائیل تک ہی محدود رہی ۔ رہی بات ایران کی ایٹمی صلاحیت کی تو امریکا نے گزشتہ برس خود ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کی ایٹمی صلاحیت کا مکمل خاتمہ کردیا ہے ۔ ٹھیک ایک برس قبل 22 جون 2025 کو امریکا نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا ۔ یہ حملے بارہ روز تک جاری رہے تھے جس میں فرودو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اس حملے کو OPERATION MID NIGHT HAMMER کا نام دیا گیا تھا ۔ ااس آپریشن کے تحت بارہ روز میں بنکر بسٹر بموں سے 14 حملے کیے گئے ۔ یہ بنکر بسٹر بم بھی ایک طرح کے نیوکلیائی ہتھیار ہی ہوتے ہیں کہ ان بموں میں ایٹمی وارہیڈز لگے ہوتے ہیں جو ان بموں یا میزائلوں کو زمین کی انتہائی گہرائی میں واقع اہداف کو تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ بنکر بسٹر بم جہاں بھی برسائے جائیں ، اسے ایٹمی حملہ ہی کہنا چاہیے ۔ ان بارہ روزہ حملوں کے بعد ٹرمپ نے فخریہ اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کی ایٹمی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم کردی ہے ۔ گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل اور امریکا نے ایران کی صرف ایٹمی تنصیبات ہی ختم نہیں کیں بلکہ چن چن کر ایران کے صف اول و دوم کے سارے ہی ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کردیا ہے ۔ تاکہ ایران بعد میں بھی ایٹم بم بنانے کے قریب نہ
پہنچ سکے ۔ عراق کی طرح ایران میں بھی IAEA کے انسپکٹر بار بار کہتے رہے کہ انہیں ایران کے ایٹمی بم بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ یہ تو امریکا کے الزامات تھے ۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ خطہ میں ایران کی PROXIES سے اس کے وجود کو خطرہ ہے ۔ امریکی الزامات کی طرح یہ بھی جھوٹ کا ایک پلندہ ہے ۔ شام میں ایران کی پراکسی ملیشیا کا مکمل خاتمہ کیا جاچکا ہے ۔ حوثی اور حزب اللہ بھی آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔
یہاں تک تو ہم جان چکے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے سے قبل جو بھی الزامات لگائے ، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ پھر سے وہی سوال موجود ہے کہ آخر امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیوں کیا ۔ یا دوسرے الفاظ میں امریکا اور اسرائیل کے ایسے کون سے مفادات ہیں جن کے حصول کے لیے یہ ایران پر حملہ آور ہوئے ۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک واقعہ کا ذکر جس پر مین اسٹریم میڈیا میں پردہ ڈال دیا گیا ۔ ایک امریکی جنگی جہاز F-15 کو ایران میں 3 اپریل کو گرا لیا گیا ۔ اس جہاز میں تین رکنی عملہ موجود تھا جن میں دو پائلٹ اور ایک کرنل رینک کا WEAPON SYSTEM OFFICER تھا ۔ جہاز کے نشانہ بنتے ہی دونوں پائلٹ جہاز سے فوری EJECT کرگئے جبکہ تیسرا بندہ جہازسے دیر سے نکل سکا اور اس نے پہاڑی سلسلے کوہ زاگرس میں پناہ لی ۔ پائلٹوں کو تو اگلے سات گھنٹوں کے اندر ہی ریسکیو کرلیا گیا مگر تیسرے افسر کا سراغ نہیں لگ رہا تھا کہ اس نے اپنا سگنل سسٹم بند کیا ہوا تھا ۔ امریکا نے اپنے تیسرے افسر کو ریسکیو کرنے کے لیے ایک آپریشن کیا اور اس افسر کو اگلے دن ریسکیو کرلیا گیا ۔ یہ کہانی اتنی سادہ نہیں ہے ۔اس کے لیے ایران میں موجود سی آئی اے اور موساد نے کوہ زاگرس کے پہاڑی سلسلے میں موجود خانہ بدوش بختیاری قبیلے کی مدد لی ۔ اس سے قبل کوہ زاگرس کے دامن میں واقع دشت مہیار میں موجود ایک فضائی پٹی کی ضروری مرمت کی گئی ۔ کسی زمانے میں یہ فضائی پٹی ذرعی مقاصدکے لیے اسپرے کرنے والے چھوٹے جہازوں کی پرواز کے لیے استعمال ہوتی تھی ۔ اس ائر اسٹرپ کی سات گھنٹے تک ضروری مرمت کی گئی کہ اس پر C 130 جیسا جہاز لینڈ کرسکے ۔ اس کے بعد یہاں پر کئی C 130 اور دیگر کئی جہاز اور ہیلی کاپٹر پہنچے ۔ اس میں سے دو C 130 جہاز صحرا کی نرم مٹی میں دھنس گئے ۔
یہاں پر ایک اہم ترین سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صرف ایک کرنل کو ہی ریسکیو کرنا تھا تو اس کام کے لیے دو ہیلی کاپٹر بہت تھے ۔ ایک ریسکیو کرنے کے لیے اور دوسرا اس کے بیک اپ کے لیے ۔ تو پھر دشت مہیار جو اصفہان کے ایٹمی مرکز سے صرف 60 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ، فوجی ٹرانسپورٹ طیارے، ہیلی کاپٹر، جنگی طیارے ، ڈرونز اوور سب سے بڑھ کر سیکڑوں امریکی فوجی کیا کررہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ آپریشن 4 اپریل کو ہورہا تھا اور ٹرمپ نے 4 اور 5 اپریل کی درمیانی رات ایران پر شدید ترین حملے کی بات کی تھی ۔ تاہم اچانک یہ الٹی میٹم واپس لے لیا گیا اور ٹرمپ نے کہا کہ اس نے پاکستان اور دیگر دوستوں کے دباؤ پر یہ الٹی میٹم واپس لیا ہے ۔ پھر اس کے دو دن بعد 7 اپریل کو پہلی مرتبہ دو ہفتے کی جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ دشت مہیار میں ہونے والی کارروائی میں امریکی کرنل کو ریسکیو کیا گیا ہو یا نہیں یا یہ ایک بہانہ ہو مگر ٹرانسپورٹ طیاروں میں ایرانی افزودہ یورینیم ضرور ایران سے باہر لے جایا گیا اور اس کے بعد سب کچھ ازخود صحیح ہوتا چلا گیا ۔ صحرا میں دھنس جانے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو وہیں پر تباہ کردیا گیا تاکہ امریکی ٹیکنالوجی کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکے ۔ اچانک ہی پاکستان اور قطر کی سفارتکاری کامیاب ہوتی چلی گئی ۔ کہتے ہیں کہ جنگ میں سب سے پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے ۔ اصل حقائق شاید 20 برس بعد سامنے آئیں جب یہ دستاویزات ڈی کلاسیفائی کی جائیں گی ۔ اس وقت تو امریکا بھی فتح کے بگل بجا رہا ہے کہ وہ ایران کے درمیان سے سات گھنٹے کا آپریشن کرکے بغیر کسی جانی نقصان کر کے کامیابی سے نکل گیا ۔ ایران بھی فتح کے ترانے گا رہا ہے کہ اس نے امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کرکے امریکی فوج کو بھاگنے پر مجبور کردیا ۔
سوال اب بھی باقی ہے کہ آخر وہ کون سے مفادات یا اہداف ہیں جن کے لیے ایران پر حملہ کیا گیا۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کیے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

