پشاور ( نمائندہ خصوصی) خیبرپختونخوا حکومت کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کو 90 دن کے لیے جبری رخصت پر بھیج دیا ہے ۔ اور رجسٹرار کی بیوی کی جعلی ڈگری کے منظر عام پر آنے کی وجہ سے رجسٹرار کو معطل کر دیا گیا ہے ۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے 23 جون کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ خیبرپختونخوا یونیورسٹی ایکٹ 2012 کی شق 12(8) کے تحت کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، بطور چانسلر گومل یونیورسٹی، نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں یہ اقدام
اٹھایا ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق سینئر ترین ایڈمنسٹریٹو آفیسر، BPS-19 ایڈمنسٹریٹو آفیسر عمران اللہ خان کو احکامات ثانی تک رجسٹرار تعینات کر دیا گیا ہے ۔جب کہ سابق رجسٹرار ظاہر شاہ کی بیوی کی جعلی ڈگری پر بھرتی کا کیس سامنے آنے پر انہیں بھی معطل کر دیا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے شق 21(2) کے تحت 3 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے تاکہ یونیورسٹی کے امور کی جامع تحقیقات کی جا سکے ۔ اس کمیٹی کا کنونیئر کمشنر ڈی آئی خان اور اس کے ممبران میں پشاور یونیورسٹی کا وی سی ، بنوں یونیورسٹی کا رجسٹرار شامل ہیں ۔کمیٹی 15 دن میں حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے ٹی او آرز میں سوشل میڈیا پر رپورٹ ہونے والے قانون کالج کے طالبعلم پر یونیورسٹی سیکیورٹی آفیسر کی فائرنگ کے واقعے کی جانچ ۔ ہاسٹل نمبر 1 میں منشیات سے متعلق مبینہ تنازعے کی تحقیقات ، میرٹ کے خلاف بھرتیوں اور دیگر شکایات کا جائزہ اور سیکیورٹی پروٹوکول، ہاسٹل مینجمنٹ، نظم و ضبط اور انتظامی بے ضابطگیوں کا جائزہ کے علاوہ ملوث افراد کا تعین کر کے قانون کے تحت تادیبی کارروائی کی سفارشات مرتب کرنا ہے ۔

