کراچی (ایجوکیشن رپورٹر): وفاقی اردو یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عنایت علی شاہ، روسائے کلیہ، صدور شعبہ جات اور اساتذہ برادری نے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ واقعے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامعہ کے تعلیمی اور انتظامی ماحول کو دانستہ طور پر متاثر کرنے کی بعض کوششیں نہ صرف ادارے کے وقار کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ طلبہ کے تعلیمی مفادات کے بھی
منافی ہیں۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ شیخ الجامعہ کے امتحانی مراکز کے معمول کے دورے کے دوران پیش آنے والے واقعے کو بعض عناصر کی جانب سے غیرضروری تنازعے کی شکل دی گئی۔ اساتذہ برادری کے مطابق شیخ الجامعہ کی جانب سے کسی نامناسب گفتگو یا رویے کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا، جبکہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض اطلاعات حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔بیان میں کہا گیا کہ اختلافِ رائے ہر فرد کا جمہوری اور آئینی حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال میں شائستگی، برداشت، ادارہ جاتی ضابطوں اور تعلیمی روایات کا احترام ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ احتجاج یا اختلاف کے نام پر ایسے اقدامات جو جامعہ کے نظم و نسق، تدریسی سرگرمیوں اور طلبہ کے
تعلیمی مستقبل کو متاثر کریں، کسی طور قابلِ قبول نہیں۔اساتذہ برادری نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ چند عناصر اپنے مخصوص مفادات اور سیاسی ایجنڈوں کے تحت جامعہ میں بے چینی اور انتشار کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ مذموم پروپیگنڈے، بے بنیاد الزامات اور دباؤ کے ذریعے یونیورسٹی کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی کسی سیاسی مقصد کے حصول کے لیے شیخ الجامعہ کو زبردستی استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔بیان میں زور دیا گیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی، انتظامی استحکام اور تعلیمی بہتری کا دارومدار ایک مضبوط، مستقل اور بااختیار نظام پر ہے۔ بعض عناصر اساتذہ کے جائز مطالبات کو اپنے مقاصد کے لیے
استعمال کرتے ہوئے جامعہ میں عارضی انتظامی ڈھانچے اور اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، جس کے لیے وہ جامعہ، اساتذہ برادری اور انتظامیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔رجسٹرار، روسائے کلیہ، صدور شعبہ جات اور اساتذہ برادری نے جامعہ کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ادارے کے وقار، تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل، تحقیق کے فروغ اور طلبہ کے بہتر مستقبل کو مقدم رکھیں۔بیان کے اختتام پر حکومتِ پاکستان، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ حالیہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور جامع تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق منظرِ عام پر آئیں، غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور ذمہ دار عناصر کا تعین قانون اور ضابطوں کے مطابق کیا جا سکے۔

