کراچی( نمائندہ خصوصی)امیرالمؤمنین، خلیفۂ دوم سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے یومِ شہادت کے موقع پر عام تعطیل نہ ہونے اور اس دن کو سرکاری سطح پر نہ منائے جانے کے خلاف اہلسنت والجماعت کراچی ڈویژن کے زیرِ اہتمام حسبِ روایت لسبیلہ چوک سے ریگل چوک تک عظیم الشان مدحِ صحابہؓ جلوس نکالا گیا۔ جلوس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تھا۔جلوس کے شرکاء سے صدر اہلسنت والجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ رب نواز حنفی، جنرل سیکریٹری علامہ تاج محمد حنفی،سابق ایم پی
اے مولانامعاویہ اعظم، سید محی الدین شاہ، مولانا عبدالرافع شاہ بخاری، ترجمان کراچی ڈویژن مولانا عمر معاویہ، کامران فاروقی ،مولانا شکیل فاروقی، قاری عبدالوہاب معاویہ، امیر فضل خالق، مولاناحمید سعدی ،مولانا عادل عمر، انجینئر اشرف میمن، قاری عبدالشکور اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ محبت، اخوت اور اتفاق کی بات کی ہے۔ عشرۂ فاروقؓ و حسینؓ منانا اتحادِ امت اور یگانگت کی علامت ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ عظیم صحابیٔ رسول اور مرادِ رسول ہیں۔ آپؓ کے قبولِ اسلام کے بعد مسلمانوں کو قوت اور استحکام حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ مسلمانوں کے دوسرے خلیفۂ راشد بنے اور آپؓ کے دورِ خلافت میں اسلام کو بے مثال فتوحات حاصل ہوئیں۔ آپؓ نے ایسا عادلانہ نظام قائم کیا جس کی مثال تاریخِ عالم
میں کم ہی ملتی ہے۔علامہ رب نواز حنفی نے کہا کہ اہلسنت والجماعت گزشتہ 41 برس سے سیدنا عمر فاروقؓ کی سیرت، کردار اور خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے یومِ عمرؓ منانے کا اہتمام کرتی آرہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ کے یومِ شہادت پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا جائے اور اس دن کو سرکاری سطح پر منایا جائے تاکہ نئی نسل اپنے عظیم رہنما کی حیاتِ مبارکہ سے روشناس ہو سکے۔مقررین نے اپنے خطابات میں مطالبہ کیا کہ پاکستان میں اصحابِ رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں اکابرین اور مقدس شخصیات کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پرامن جدوجہد کے ذریعے صحابۂ کرامؓ کے احترام اور ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
انہوں نے حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوام کے مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو اتحادِ امت، امن و استحکام اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔مقررین نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، علمائے کرام، صحافیوں، اینکر پرسنز اور ٹی وی چینلز کے مالکان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سیدنا عمر فاروق اعظمؓ کے یومِ شہادت کے موقع پر اپنے خصوصی پیغامات اور تاثرات کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کیا۔جلوس کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر سیدنا عمر فاروق اعظمؓ کی سیرت، عدل و انصاف، نظامِ حکومت اور صحابۂ کرامؓ کی عظمت کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ جلوس کے دوران شرکاء نے سیدنا عمر فاروقؓ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی اسلامی، ملی اور فلاحی خدمات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔مقررین نے کہا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ آپؓ نے عدل و انصاف، احتساب، عوامی خدمت، مساوات اور فلاحی ریاست کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا جس سے آج بھی دنیا کے حکمران رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ راتوں کو گشت کرکے عوام کے حالات معلوم کرنا، بیت المال کا شفاف نظام قائم کرنا
اور مظلوم کو فوری انصاف فراہم کرنا سیدنا عمر فاروقؓ کے نمایاں کارنامے ہیں۔قائدین نے کہا کہ یکم محرم الحرام کو یومِ شہادت سیدنا عمر فاروقؓ منانے کا مقصد کسی قسم کا اختلاف پیدا کرنا نہیں بلکہ نوجوان نسل کو ان کے عظیم کردار، عدل و انصاف اور اسلامی خدمات سے روشناس کرانا ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ پوری امتِ مسلمہ کے مشترکہ سرمایہ اور قابلِ فخر رہنما ہیں جن کی سیرت قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔جلوس کے اختتام پر ملکِ پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی، افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اتحادِ امتِ مسلمہ اور عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صحابۂ کرامؓ کی محبت، احترام اور ان کی تعلیمات کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکم محرم الحرام کو سرکاری سطح پر ’’یومِ فاروق اعظمؓ‘‘ کے طور پر منایا جائے، تعلیمی اداروں میں سیدنا عمر فاروقؓ کی سیرت پر خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں اور قومی میڈیا پر ان کی حیاتِ مبارکہ، فتوحات اور عدل و انصاف کے نظام کو اجاگر کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنے اس عظیم محسن اور خلیفۂ راشد کی خدمات سے آگاہ ہو سکے۔

