گلگت۔(نمائندہ خصوصی):سابق وزیراعظم پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے گلگت میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے اور وہ اس خطے کو ترقی یافتہ بنانا چاہتے تھے مگر ان کے مطابق انہیں کام کرنے نہیں دیا گیا، انہوں نے کہا کہ تھاکوٹ سے گلگت بلتستان تک سڑک مکمل کیوں نہیں ہوئی اور خطے کو اتنا نظر انداز کیوں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں گلگت سکردو شاہراہ پر 50 ارب
روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا گیا، پورے ملک میں موٹر ویز کا جال بچھایا گیا اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے، انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل مکمل کیا گیا اور دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے مگر یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا جس کی ذمہ داری انہوں نے سابق حکومتوں کی غفلت پر عائد کی، انہوں نے کہا کہ ہائیڈل منصوبے بھی شروع کیے گئے مگر مکمل نہیں ہو سکے۔انہوں نے گلگت میں دل کے امراض کے ہسپتال کے آغاز کو اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس منصوبے پر مریم نواز کو شاباش دی۔انہوں نے کہا کہ مانسہرہ سے گلگت تک موٹر وے بنائی جائے گی ، خنجراب روڈ کی بہتری سے پاک چین تجارت مزید بڑھے گی ، گلگت بلتستان میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضے اور گھروں کی تعمیر کے لیے آسان قرضے دیے جائیں گے۔لیپ ٹاپ اسکیم میں اضافہ کیا جائےگا اور ہر ہونہار و مستحق طالب علم کو لیپ ٹاپ دیا جائے گا ۔خواتین کے لیے الگ یونیورسٹی قائم کرنے پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گلگت استور شاہراہ کی اپ گریڈیشن کا جائزہ لیا جائے گا۔پورے ملک کی طرح گلگت بلتستان میں بھی الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی اور کینسر کے مریضوں کا علاج مقامی سطح پر ممکن بنانے کی کوشش کی جائے گی ۔
