اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی افواج کی نگرانی میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ / الحرم الشریف میں مسلسل دراندازی اور اس کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ منگل کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق آٹھ عرب اور اسلامی ممالک نے اپنے مشترکہ ا علامیہ میں زور دیا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔وزرائے خارجہ نے اس بات کی بھی مذمت کی کہ اسرائیل، بطور قابض قوت، مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل
کرنے اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور مقام کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل اور منظم اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا، اور اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی تاریخی کردار کو تسلیم کیا۔ وزراء نے اس امر کا اعادہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ / الحرم الشریف کا مکمل 144 دونم پر مشتمل علاقہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور یہ کہ اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ ’’یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور محکمہ‘‘ ہی وہ قانونی ادارہ ہے جسے مسجدِ اقصیٰ / الحرم الشریف کے انتظامی امور چلانے اور وہاں داخلے کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کو روکنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزیاں کشیدگی میں اضافہ، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں، امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ان تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات کو بند کرے اور مسجدِ اقصیٰ / الحرم الشریف کی مکمل تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام یقینی بنایا جائے۔وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کے جائز و ناقابلِ تنسیخ قومی حقوق، خصوصاً حقِ خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون، متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن اقدام کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
