اقوام متحدہ(نمائندہ خصوصی)پاکستان نے زور دیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کو فروغ دیا جائے اور ان تنازعات کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے تاکہ انصاف اور پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’تنازعات کے پرامن حل، تنازعات کی روک تھام اور حل میں ثالثی کے کردار کو مضبوط بنانے‘‘ کے موضوع پر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کا عمل جلدی شروع ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو پیشگی انتباہی نظام، خاموش سفارت کاری، احتیاطی سفارتی اقدامات، سیکرٹری جنرل کو ثالثی اور اقوام متحدہ کے منشور کے باب ششم کے تحت تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار میں مزید سرمایہ کاری کرنی
چاہیے تاکہ اختلافات تصادم کی شکل اختیار نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے تنازعات کا پرامن حل اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان نے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کی طرف واپسی کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ایک دوست ہمسایہ ملک ، خلیجی ممالک کے برادر شراکت دار اور امریکا کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات رکھنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے ایک پائیدار حل کی سہولت کاری کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ تنازعات اکثر تاخیر سے کی گئی سفارت کاری، روکے گئے مکالمے اور نظر انداز کیے گئے اختلافات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی پہلی ذمہ داری صرف تنازعات کے پھوٹ پڑنے کے بعد ردعمل دینا نہیں بلکہ انہیں اس سے پہلے روکنا ہے کہ وہ جانوں، خطوں اور نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ ثالثی کو صرف بحران کے خاتمے کے انتظام کا ذریعہ نہیں بلکہ تنازعات کی روک تھام کا بنیادی اصول بنایا جانا چاہیے اور یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن حقوق سے انکار، حقِ خودارادیت کو دبانے، غیر ملکی قبضے کو معمول بنانے، جارحیت اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ وہ تمام طویل مدتی تنازعات جو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے تاکہ انصاف اور دیرپا امن قائم ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کے لیے اعتماد اور سیاسی جرات درکار ہوتی ہے۔ فریقین کو اسے دوسرے فریق کے لیے رعایت نہیں بلکہ اپنے عوام اور عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔انہوں نے زور دے کر کہاکہ ثالثی تصادم اور امن کے درمیان ایک پل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی سفارت کاری کو اس کے اصل مقصد کی جانب لے جاتی ہے، جہاں طاقت کی جگہ دلیل، خاموشی کی جگہ مکالمہ اور انسانی مصائب کی جگہ انصاف لے لیتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، ان کی روک تھام اور تنازعات کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوششوں میں ثالثی کی حمایت جاری رکھے گا۔

