اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوان وکلاء کو عملی قانونی مہارتوں، پیشہ ورانہ قابلیت اور مضبوط اخلاقی بنیادوں سے آراستہ کرنا ایک موثر اور عوام دوست نظام انصاف کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی پلیٹ فارمز ملک بھر میں قانونی تعلیم اور تربیت تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ’’ای کورس فار لاء پروفیشنلز 2026‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ ای کورس وفاقی جوڈیشل اکیڈمی نے پاکستان بار کونسل کے ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔جسٹس نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد قانونی تعلیم اور
عملی پیشہ ورانہ تربیت کے درمیان موجود خلا کو پر کرنا ہے تاکہ بالخصوص نئے وکلاء کو پیشہ ورانہ میدان میں درپیش چیلنجز کا بہتر طور پر سامنا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔انہوں نے اس موقع پر بار کونسلوں کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ کورس کے نصاب اور طریقہ کار سے متعلق اپنی تجاویز باضابطہ طور پر ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کو ارسال کریں تاکہ انہیں متعلقہ ادارہ جاتی فورمز پر غور کے لیے پیش کیا جا سکے۔تقریب میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، وفاقی جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل حیات علی شاہ، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد مسعود چشتی، پنجاب بار کونسل، سندھ بار کونسل، خیبرپختونخوا بار کونسل، بلوچستان بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کے عہدیداران سمیت دیگر قانونی نمائندوں نے شرکت کی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ یہ ای کورس دس ماڈیولز اور چالیس کریڈٹ آورز پر مشتمل ہے اور اسے مکمل طور پر آن لائن اور خود رفتار (Self-Paced) انداز میں تیار کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر کے وکلاء کسی بھی مقام سے اس سے استفادہ کر سکیں۔مزید بتایا گیا کہ اس پروگرام کو بار ووکیشنل کورس کی لازمی تربیت کے ایک ہفتے کے مساوی تسلیم کیا گیا ہے جبکہ بار کونسلوں کے نمائندوں نے اسے ایک مثبت اور وقت کی ضرورت کے مطابق اقدام قرار دیتے ہوئے اسے موجودہ دو ہفتے کے بار ووکیشنل کورس کا مکمل متبادل بنانے کی تجویز بھی دی۔تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بینچ اور بار کے باہمی تعاون سے قانونی تعلیم، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مزید اصلاحات جاری رکھی جائیں گی تاکہ عوام کو موثر اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

