• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

ترقیاتی بجٹ پر شدید دباؤ کی وجہ سے غیر ضروری منصوبوں کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، پی ایس ڈی پی کا حجم 1126 ارب روپے رکھا جا رہا ہے،احسن اقبال

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جون 1, 2026
in پاکستان
0
ترقیاتی بجٹ پر شدید دباؤ کی وجہ سے غیر ضروری منصوبوں کی گنجائش ختم ہو رہی ہے، پی ایس ڈی پی کا حجم 1126 ارب روپے رکھا جا رہا ہے،احسن اقبال
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کا بڑا مالیاتی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جس کے باعث ترقیاتی بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ غیر اہم ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنا وفاق کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار ہے اور آج بھی تقریباً وہی سطح برقرار ہے جو 2018 میں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں، جبکہ مختلف وزارتوں نے آئندہ مالی سال کے لیے جاری منصوبوں کی مد میں 4 ہزار ارب روپے کی درخواست کی ہے، تاہم مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث 3 ہزار ارب روپے کی طلب پوری نہیں کی جا سکے گی۔احسن اقبال نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں فرق پیدا ہو چکا ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران صوبوں کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر تین ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر ہی موجود ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 1126 ارب روپے رکھا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 153 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن (NFC) میں حصہ ملنا چاہیے اور وفاق اپنے این ایف سی حصے سے ان علاقوں کی مالی معاونت جاری رکھے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور آئندہ بجٹ میں بلوچستان کے لیے 100 ارب روپے مالیت کے منصوبے شامل کرنے کی تجویز ہے۔انہوں نے بتایا کہ این-25 شاہراہ کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے تجویز کردہ 87 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت غیر یقینی اور عارضی معاشی نمو کے بجائے پائیدار اور مستحکم ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اخراجات میں غیر معمولی اضافہ وقتی طور پر ترقی کی رفتار بڑھا سکتا ہے لیکن ایسی ترقی دیرپا نہیں ہوتی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی جدید خطوط پر ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور سی پیک فیز ٹو کے تحت زرعی تحقیق اور جدید تکنیکوں کے فروغ کے لیے پاکستانی ماہرین کو چین میں تربیت دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک ہزار زرعی ماہرین کی تربیت کا پروگرام جاری ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ 2019 سے 2022 کے دوران لیے گئے بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے اب بڑی رقوم مختص کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے ترقیاتی اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔ تاہم حکومت نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افراطِ زر کی شرح کو ڈبل ڈیجٹ سے سنگل ڈیجٹ تک لانا ایک بڑی کامیابی ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث مہنگائی پر دباؤ برقرار رہا۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال جولائی تا اپریل مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 34 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ اپریل 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.3 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں شرح سود 23 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد تک آ چکی ہے۔ وزیراعظم ایسی معاشی ترقی کے خواہاں ہیں جو مضبوط، متوازن اور پائیدار ہو اور جس کی بنیاد برآمدات، پیداواری شعبوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر ہو۔

پچھلی پوسٹ

وزیراعظم سے وفاقی وزیر قومی صحت کی ملاقات ، وزارت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

اگلی پوسٹ

والدین کی محبت، قربانی اورتربیت مضبوط سماج کی بنیاد ہے،وزیراعلی سندھ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
والدین کی محبت، قربانی اورتربیت مضبوط سماج کی بنیاد ہے،وزیراعلی سندھ

والدین کی محبت، قربانی اورتربیت مضبوط سماج کی بنیاد ہے،وزیراعلی سندھ

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper