پشاور(نمائندہ خصوصی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے پیش نظر تحفظِ ماحول کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو سرمائی مہاجر پرندے جو پاکستان کی آب گاہوں(ویٹ لینڈز) کا رخ کرتے ہیں، قدرت کی قدیم ترین ہجرت کی کہانیوں میں سے یہ کہانی اپنے خاتمے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ کے سدا بہار مینگرووز سے لے کر کینجھر اور ہلیجی جھیلوں کے پرسکون پانیوں تک پاکستان کی آب گاہیں جو جنگلی حیات، تلور، بطخوں، فاختاؤں، بازوں، سارس کی آبادی اور لاکھوں لوگوں کےلیے لائف لائن ہیں، ماحولیاتی تبدیلی اور بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث سکڑ رہی ہیں۔ یہ نازک ماحولیاتی نظام، جنہیں صدیوں سے دریائے سندھ کے نظام نے سیراب کیا ہے، اب شدید خطرات کی زد میں ہیں۔ بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، طویل خشک سالی، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث
تازہ پانی کے بہاؤ میں کمی نے جنگلی حیات اور مہاجر پرندوں کے ان مساکن کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو کبھی فوڈ چین میں کلیدی کردار ادا کرکے آبادیوں کو سہارا دیتے تھے۔بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کرنے والی مہاجر پرندوں میں نایاب تلور بھی شامل ہے جو اپنے معیاری گوشت کی وجہ سے باز پالنے والوں اور تحفظِ ماحول کے ماہرین دونوں کے ہاں یکساں طور پر طویل عرصے سے پسندیدہ اور مطلوب صحرائی پرندہ رہا ہے۔سابق چیف کنزرویٹر آف وائلڈ لائف ڈاکٹر محمد ممتاز ملک نے قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آب گاہیں اور تلور کی آبادی کا بہت زیادہ انحصار سندھ طاس پر ہے۔ دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی کمی خاص طور پر خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں مہاجر پرندوں کی آبادی کو براہِ راست متاثر کرے گی اور اس خطے میں آب گاہوں کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی نے ملک بھر کی آب گاہوں کے نازک ماحولیاتی توازن کو بگاڑنا شروع کر دیا ہے جیسا کہ حالیہ برسوں میں سیلابوں اور بارشوں کے اتار چڑھاؤ سے واضح ہے۔ انہوں نے فاشسٹ مودی حکومت کو سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی مغربی دریاؤں میں پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ آتا ہے اور نمکیات میں اضافہ ہوتا ہے، مچھلیاں، پرندے اور پودوں کی انواع اپنے قدرتی مساکن میں بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں، جس سے مختلف جاندار خطرے میں ہیں۔پاکستان جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے، پانی کے انتظام پر تناؤ بڑھنے کی صورت میں سیلاب اور خشک سالی کے دوہرے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز ملک نے خبردار کیا کہ بھارت مغربی دریاؤں میں خاص طور پر مون سون کے موسم میں مشکل پہاڑی خطوں اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث موسم کی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کے بہاؤ کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتا۔ ہمالیہ کی جغرافیائی خصوصیات کے علاوہ گرمیوں کے دوران ضرورت سے زیادہ بارشیں اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا تباہ کن فلیش فلڈز کا سبب بن سکتا ہے جبکہ طویل خشک سالی اس خطے میں آب گاہوں کو جھلسا کر بے جان کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سنگین صورتحال میں آب گاہیں کیمیکلز اور فضلے سے آلودہ ہو جاتی ہیں جبکہ خشک سالی جھیلوں اور دلدلوں کو سکھا دیتی ہے جس سے مقامی آبادیوں، مہاجر پرندوں، شہد کی مکھیوں کی آبادی اور جنگلی حیات کےلیے پانی کی دستیابی کم ہو جاتی ہے۔ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات پاکستان کی ساحلی پٹی پر پہلے ہی نمایاں ہیں جہاں سندھ ڈیلٹا میں تازہ پانی کے بہاؤ میں کمی کے باعث سمندری پانی اندرونی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے جس سے زرخیز زرعی اراضی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور مینگروز کی نشوونما منفی طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں ہزاروں ماہی گیروں، مویشی پالنے والوں، شہد کی مکھیاں پالنے والوں اور کسان خاندانوں کےلیے آب گاہیں صرف ایک ماحولیاتی نظام نہیں ہیں بلکہ خوراک، آمدنی اور عزت کے ساتھ بقا کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخی ‘انڈس فلائی وے’ کے ساتھ ایک منفرد جغرافیائی موقع پر واقع ہے، جو ایشیا کے بڑے مہاجر پرندوں کے کوریڈورز میں سے ایک ہے۔ ڈاکٹر ممتاز ملک نے کہا کہ کے ٹو ہمالیہ کی برفیلی چوٹیوں سے لے کر ہندوکش میں خیبر تک، چولستان اور تھرپارکر کے ریگستانوں سے لے کر کراچی اور گوادر کے ساحلوں تک مہاجر پرندے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کی طرف آتے ہیں اور پانی کےلیے آب گاہوں میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔چترال اور دیر سے لے کر کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، رحیم یار خان، پنجاب اور سندھ کے ساحلی علاقوں تک پھیلا ہوا یہ قدرتی کوریڈور وسطی ایشیا اور سائبیریا کے سخت موسم سے بچ کر پاکستان آنے والے بے شمار پرندوں کی انواع کو خوراک، حرارت اور پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔کئی سالوں کے دوران جنگلات کے رقبے میں توسیع اور بحال شدہ مساکن نے پاکستان کو پنٹینلز، مالارڈز ، ٹیلز، پیلیکنز، سارس، ہنس اور تلور کےلیے سرمائی پناہ گاہ بنانے میں مدد دی ہے۔ تاہم باز پالنے والوں کی طرف سے ضرورت سے زیادہ غیر قانونی شکار کی وجہ سے تلور کی بقا بدستور خطرے میں ہے۔ تلور کی آبادی نظم و ضبط کے حامل جھنڈوں میں سفر کرتی ہے جس کی قیادت انڈس فلائی وے پر پاکستان پہنچنے کےلیے ایک غالب رہنما کرتا ہے۔ ڈاکٹر ملک نے کہا کہ اگر رہنما ہلاک ہو جائے تو نائب کمان سنبھال لیتا ہے، ان کا اجتماعی احساس غیر معمولی ہے، اس نوع کا نازک تولیدی چکر تحفظِ ماحول کو مزید فوری اور ناگزیر بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک تلور صرف دو انڈے دیتا ہے اور اکثر پہلا بچہ دوسرے بچے کو مار دیتا ہے۔ اگر یہ اپنا ساتھی کھو دے تو دوسرا ساتھی ڈھونڈنے میں اسے پانچ سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ایک ایسی نوع کےلیے جو پہلے ہی مسکن کے نقصان اور غیر قانونی شکار سے نبردآزما ہے، نسل افزائش کرنے والے ہر جوڑے کا نقصان ایک شدید دھچکا ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں دریا کے بہاؤ میں کمی مہاجرت کے راستوں پر سیاہ سایہ ڈال سکتی ہے جبکہ سکڑتی ہوئی آب گاہیں اور بدلتے ہوئے موسمی پیٹرن فوڈ چین اور ان کی افزائشِ نسل کے مقامات کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز ملک نے خبردار کیا کہ پانی کی قلت کے علاوہ تلور کے بچوں کے درمیان دشمنی، غیر قانونی شکار اور مسکن کا چھن جانا تلور کی آبادیوں کو خطرات میں دھکیل رہا ہے۔ آج پاکستان میں 90 سے زائد انواع ،بشمول سائبیرین سارس، ساگر فالکن، سفید پیٹھ والا گدھ، انڈس ڈولفن اور بلوچستان کا ریچھ ،خطرے سے دوچار یا معدومی کے دہانے پر سمجھی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز ملک نے زور دیا کہ دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کے تسلسل کے بغیر جنگلی حیات کا تحفظ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ پرندے سرحدیں جلدی عبور کرتے ہیں اور ان کا تحفظ بھی سرحدوں سے بالاتر ہونا چاہیے۔ماہرین سندھ طاس معاہدے کے تسلسل، جنگلی حیات کے قوانین کے سخت نفاذ، وسیع تر محفوظ علاقوں، عوامی شعور میں اضافے اور تحفظ کی کوششوں میں غیر سرکاری تنظیموں (این جیز اوز) کی شمولیت بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے مہاجر پرندوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سندھ کے آسمانوں کو عبور کرنے والا تلور کا ہر جھنڈ بقا اور فطرت کے ساتھ انسانیت کے رشتے کے بارے میں ایک خاموش پیغام لے کر جاتا ہے۔ ایک پرسکون آب گاہ پر ہر لینڈنگ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ماحولیاتی نظام صرف اسی صورت میں زندہ رہتے ہیں جب ان کا تحفظ کیا جائے اور دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کو یقینی بنایا جائے۔گزرتا ہوا ہر تلور اور سارس ہجرت، برداشت اور تحفظ یافتہ آب گاہوں کی امید میں واپسی کے وعدے کی ایک لازوال کہانی سناتا ہے لیکن تحفظِ ماحول کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فوری ماحولیاتی اقدامات، پانی کے مضبوط تعاون اور سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک کی بحالی کے بغیر پاکستان نہ صرف اپنی آب گاہوں کو کھو دینے کے خطرے سے دوچار ہے بلکہ اس سے وابستہ بھرپور حیاتیاتی تنوع اور ذریعہ معاش کو بھی کھو دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذات، رنگ اور شناخت سے بالاتر ہو کر آنے والی نسلوں کےلیے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی قیمت ناقابلِ تلافی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور ورلڈ بینک پر زور دیا کہ وہ فاشسٹ مودی حکومت کو فوری طور پر اپنی حکومت کے غیر قانونی فیصلے کو واپس لینے اور قیمتی آب گاہوں اور مہاجر پرندوں کو معدومی سے بچانے کےلیے اس تاریخی معاہدے کو بحال کرنے پر مجبور کریں۔

