ہانگژو(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے ہمراہ چین کے صوبہ جیانگسو کے شہر ہانگژو میں زرعی آلات اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق معروف چینی کمپنیوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مشینری، جدید کاشتکاری اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔ ہفتہ کووزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران وفد نے چین کی معروف کمپنی چانگفا گروپ کے حکام سے تفصیلی ملاقات کی۔کمپنی ٹریکٹرز، ہارویسٹرز، ڈیزل انجنز اور دیگر زرعی مشینری کی تیاری میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں زرعی میکانائزیشن کے فروغ، جدید زرعی آلات کی فراہمی، مشترکہ منصوبوں اور زرعی مشینری کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ پاکستانی کسانوں کی پیداواری صلاحیت
میں اضافہ کیا جا سکے۔چینی حکام نے وفد کو زرعی شعبے میں جدیدمینوفیکچرنگ نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق بریفنگ دی۔ پاکستانی کسانوں کو کم لاگت اور معیاری زرعی مشینری کی فراہمی اور جدید زرعی طریقہ کار کو فروغ دینے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔اس موقع پر کنگز برج وینچرز اور چانگفا گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بھی دستخط کئے گئے، جس کے تحت پاکستان میں زرعی مشینری کی تیاری، تکنیکی تعاون اور مرحلہ وار لوکلائزیشن کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس اشتراک سے پاکستان میں زرعی میکانائزیشن کے فروغ اور غذائی تحفظ کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔وفد نے اسٹار چارج گروپ کا بھی دورہ کیا جہاں زرعی انفراسٹرکچر، توانائی کے مؤثر نظام اور دیہی ترقیاتی منصوبوں کیلئے اسمارٹ انرجی ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔وفد نے ہانگژو کے میئر ژو وی اور میونسپل قیادت کے سینئر حکام سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں زرعی جدت، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی، دیہی صنعتی نظام اورسرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ چینی حکام نے زراعت کے شعبے میں میکانائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کی گئی ترقی کے تجربات سے بھی آگاہ کیا۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس موقع پر کہا کہ جدید زرعی مشینری زرعی پیداوار میں اضافے، لاگت میں کمی اور پاکستان میں پائیدار غذائی تحفظ کے حصول کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی اور کسانوں کی فلاح کیلئے بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری،ٹیکنالوجی کی منتقلی اور زراعت و مینوفیکچرنگ سے وابستہ شعبوں میں صنعتی تعاون کے فروغ کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے مقامی استعداد میں اضافہ ہو گا، زرعی مشینری کی لوکلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے طویل المدتی معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

