اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی)وزیرِ مملکت برائے داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ وزیراعظم کی غیرقانونی امیگریشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ملک کے اندر اور باہر انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں کمبوڈیا میں مبینہ سائبر کرائم اور اسکیم سے متعلق کیسز میں گرفتار پاکستانی شہریوں کے بارے میں توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جون 2023 سے اب تک غیرقانونی امیگریشن میں ملوث تقریباً 3,158 ایجنٹس کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ایجنٹس کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد ضبط کی گئی ہے جبکہ بڑی رقوم والے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔انہوں نےکہا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اندر بھی احتساب کیا گیا ہے، جہاں کچھ افسران ایسے نیٹ ورکس کی معاونت میں ملوث پائے گئے۔ کئی کیسز میں تفتیش کے بعد پوری شفٹس کو ہٹا دیا گیا۔انہوں نے کہا
کہ انسانی اسمگلنگ میں مبینہ کردار پر 100 سے زائد ایف آئی اے افسران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کی گئی، جن میں کرمنل کیسز اور سزائیں بھی شامل ہیں۔وزیر نے کہا کہ جاری کریک ڈاؤن کا مقصد ان منظم نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے جو شہریوں کو غیرقانونی ہجرت کے راستوں اور جعلی ٹریول انتظامات کے ذریعے لوٹتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کو، چاہے ان کے پاس درست پاسپورٹ اور ویزہ ہی کیوں نہ ہو، بعض اوقات اضافی پروفائلنگ اور اسکریننگ سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ قانونی ٹریول چینلز کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ نظام اسمگلنگ نیٹ ورکس سے منسلک ہائی رسک ٹریول پیٹرنز کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے، البتہ اس سے بعض مسافروں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جنہیں مکمل دستاویزات کے باوجود آف لوڈ کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مضبوط مانیٹرنگ کی بدولت غیرقانونی ہجرت کی کوششوں میں تقریباً 47 فیصد کمی آئی ہے، جو ایک نمایاں بہتری ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس نظام کا مقصد حقیقی مسافروں کو روکنا نہیں بلکہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا جانے والے راستوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جہاں بہت سے پاکستانی جعلی جاب سکیموں میں پھنس کر گرفتار ہوئے یا قانونی کارروائی کا شکار بنے۔ان کے بقول، 2024 اور 2025 کے دوران ایسے کیسز میں اضافہ ہوا، جس پر سخت نفاذِ قانون کے اقدامات کیے گئے۔مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے کمبوڈیا سے متعلق 286 انکوائریز کیں، جن میں سے 111 کرمنل کیسز درج ہوئے۔انہوں نے کہا کہ مشکوک ٹریول روٹس استعمال کرنے والے مسافروں کی نشاندہی کے لیے پروفائلنگ سسٹم تیار کیے گئے۔اب تک 222 مسافروں کو احتیاطی طور پر ائیرپورٹس پر آف لوڈ کیا جا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمبوڈیا میں فی الحال تقریباً 15,000 پاکستانی موجود ہیں، جن میں سے بہت سے آن لائن جاب سکیموں کا شکار ہوئے۔انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا کی حکومت نے بھی صورتحال کے پیش نظر ضوابط سخت کر دیے ہیں۔ 1,272 متاثرہ پاکستانیوں پر عائد تقریباً 10 لاکھ ڈالر جرمانے کوآرڈینیشن کے ذریعے معاف کرا دیے گئے، جبکہ ان کیواپسی کے لیے ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹس اور پاسپورٹس جاری کیے گئے۔اس میں 631 ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹس، 112 نئے پاسپورٹس اور 75 تجدید شدہ پاسپورٹس شامل ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ کمبوڈیا میں چار پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی اور ان کی لاشیں وطن واپس بھیج دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ راستہ تھائی لینڈ، ملائیشیا اور میانمار سمیت کئی ممالک سے گزر کر کمبوڈیا پہنچتا ہے اور پیچیدہ ٹریفکنگ نیٹ ورکس پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی آگاہی مہمات اور وزارت خارجہ کی ایڈوائزریز جاری ہیں، لیکن پھر بھی بہت سے شہری ایجنٹس اور آن لائن فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ طریقے سے واپس لایا گیا ہے۔

