مکہ مکرمہ۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کے ساتھ معاہدہ طے نہ پانے کی وجہ سے رواں سال پاکستانی عازمینِ حج مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ٹرین پر سفر نہیں کر پائیں گے اور ان کی نقل و حمل بسوں کے ذریعے کی جائے گی۔ حکومت پاکستان کی کاوشوں اور انتھک محنت کے باعث گزشتہ چار سال سے حج اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اور اس وقت پاکستان پورے خطے میں سب سے سستا حج پیکیج فراہم کر رہا ہے جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں حج پیکیج پاکستان سے 6 لاکھ روپے مہنگا ہے اور وہاں اس معیار کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ وہ مکہ مکرمہ میں حج انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ رواں سال حج کے لیے رجسٹریشن کا تجربہ انتہائی کامیاب رہا ہے اور آئندہ
حج کی پالیسی اور انتظامات کا سلسلہ سعودی حکومت کی جانب سے باقاعدہ اعلان کے ساتھ ہی فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال رجسٹریشن کے اشتہار پر ساڑھے چار لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔سردار محمد یوسف نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مشاعر مقدسہ میں رہائش اور دیگر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن اور ہاؤسنگ شعبے نے بہترین خدمات فراہم کی ہیں۔ عازمینِ حج کی سہولت کے لیے سرکاری اسکیم میں پہلی بار الگ کمرے کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت تقریباً 8 ہزار عازمین نے اضافی ادائیگی (دو لاکھ روپے فی بیڈ) کر کے یہ سہولت حاصل کی ہے اور وہ اس انتظام سے مکمل مطمئن ہیں۔پیکیج کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری سکیم کے تحت ساڑھے 11 لاکھ اور 12 لاکھ روپے کے دو پیکیجز (شارٹ اور لانگ) دیئے گئے ہیں جن میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں بہتر سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جو لوگ زیادہ اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، ان کے لیے پرائیویٹ سیکٹر بھی موجود ہے جہاں 20 سے 30 لاکھ روپے تک کے پیکیجز دستیاب ہیں، تاہم سرکاری پیکیج کے معیار کو برقرار رکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈین عازمینِ حج کو وہاں کی کرنسی کے لحاظ سے پاکستانی 18 لاکھ روپے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں اور سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ کافی پریشان ہیں، جس کا اظہار انہوں نے پاکستانی خدام الحجاج سے بھی کیا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے سرکاری اور پرائیویٹ دونوں سکیموں کے عازمین وی آئی پی ہیں اور ہم سب کو یکساں نظر سے دیکھتے ہیں، حج انتظامات میں اکا دکا شکایات سامنے آتی ہیں جنہیں مکہ مکرمہ میں موجود ہمارا ویلفیئر سٹاف، معاونین اور خدامِ حجاج فوری طور پر موقع پر ہی حل کر رہے ہیں۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ حاجیوں کی خدمت کو ہم ایک سرکاری ڈیوٹی نہیں بلکہ عبادت سمجھتے ہیں کیونکہ یہ اللہ کے مہمان ہیں، اور ہمارا حج مشن اسی جذبے کے تحت خدمات سرانجام دے رہا ہے تاکہ اللہ کے تمام مہمان یہاں سے مطمئن ہو کر لوٹیں۔

