لاہور۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت میڈان پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور معیاری برانڈ کے طور پر متعارف کرانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے،پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبے میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے اور دنیا بھر کے مینوفیکچررز کو پاکستان کی جانب متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ مضبوط مینوفیکچرنگ کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی، صنعتی خودمختاری اور معاشی استحکام کی بنیاد ہوتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز یہاں ایکسپو سینٹر جوہر ٹائون میں منعقدہ Metsfab 2026 کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صنعتی
شعبے، انجینئرنگ کمپنیوں، کاروباری تنظیموں، سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جن ممالک کی مینوفیکچرنگ مضبوط ہوتی ہے وہی عالمی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ معیشتیں ہوائی جہاز، بحری جہاز، ٹریکٹرز، آٹوموبائل، بھاری مشینری، صنعتی آلات اور جدید ٹیکنالوجی کی مصنوعات تیار کرکے اپنی اقتصادی طاقت کو مستحکم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے ، ہمارے نوجوان جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا انجینئرنگ سیکٹر نہایت مضبوط بنیادوں کا حامل ہے اور جدید معیشت کی تعمیر میں یہی شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی نمائشیں نہ صرف پاکستانی صنعتکاروں اور انجینئرز کو اپنی مصنوعات اور مہارت دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات سے آگاہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ Metsfab 2026 جیسی نمائشیں صنعتی روابط، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور نئی کاروباری شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا محور برآمدات میں اضافہ اور صنعتی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔اس سلسلے میں حکومت نے آئندہ دس برسوں میں ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس مقصد کے لیے صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں اور حکومت اس حوالے سے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈ اِن پاکستان کو دنیا بھر میں معیار، اعتماد اور جدت کی علامت بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان دنیا میں آنے والی معاشی، صنعتی اور تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستانی انجینئرنگ مصنوعات مستقبل میں عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ 2018 سے 2022 کے دوران ملک کو شدید مالی مشکلات اور معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم کی قیادت میں معیشت کی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے حالات خصوصا ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوئے۔ توانائی بحران اور مہنگائی نے ترقی پذیر ممالک کو شدید متاثر کیا جبکہ پاکستان کو بھی ان عالمی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ حکومت انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات لا رہی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سرخ فیتے، غیر ضروری قواعد و ضوابط اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کاری، نجی شعبے کی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے کیونکہ خطے میں امن و استحکام نہ صرف علاقائی ترقی بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور عام آدمی اس کے اثرات سے متاثر ہوا۔بھارت کی جانب سے دھمکیوں سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے قبل ہزار بار سوچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک ہے تاہم اپنی خودمختاری اور دفاع کے معاملے میں مکمل طور پر باصلاحیت اور مستحکم ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے بعض سیاستدان اپنے داخلی سیاسی مقاصد اور انتخابی مہمات میں پاکستان مخالف بیانیے کو استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں سیاسی قیادت کبھی بھی انتخابات میں بھارت مخالف جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، ترقی، اقتصادی تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ حکومت صنعتی ترقی، برآمدات کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نوجوانوں کی فنی تربیت کے ذریعے پاکستان کو ایک مضبوط معاشی طاقت بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر نے مختلف سٹالز کا دورہ کیا اور وہاں مصنوعات کے معیار کو سراہا۔
