اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):پاکستان اور چین نے تعلیم، تکنیکی تربیت، اختراع اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوئی صوبے کے نمائندوں اور پاکستانی تعلیمی قیادت کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اسٹریٹجک تعلیمی شراکت داریوں کے فروغ اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان پائیدار تعاون کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سی پی ٹی آئی سی ای – چائنا پاکستان ٹی وی ای ٹی انڈسٹریل سینٹر فار ایکسیلینس کے تحت تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر انہوئی صوبے کے ڈائریکٹر جنرل چیان گوئی لون نے شرکاء کو صوبے کی تعلیمی کامیابیوں سے آگاہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ موجودہ تعاون کی بنیاد کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔انہوں نے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر
زور دیتے ہوئے “ہوئی جیانگ ورکشاپ” منصوبے کا ذکر کیا، جس کے تحت نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں، مصنوعی ذہانت، ذہین مینوفیکچرنگ اور صنعتی آٹومیشن جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں جدید تربیتی نظام، عملی لیبارٹریز اور پیشہ ورانہ معیارات مشترکہ طور پر قائم کئے جائیں گے۔ اجلاس میں روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) کے شعبے میں تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر انہوئی یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن نے پاکستانی جامعات کے ساتھ تعلیمی شراکت داری، کریڈٹ ریکگنیشن سسٹم اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلہ پروگرام شروع کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان، چین اور انہوئی صوبے کے درمیان تعلیمی تعاون کو دونوں ممالک کے وسیع تر دوطرفہ تعلیمی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ بین الاقوامی تعلیمی اشتراک کا ایک مثالی ماڈل قائم کیا جا سکے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کی چیئرپرسن گل مینہ بلال نے مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے انہوئی وفد کو جولائی میں پاکستان میں منعقد ہونے والی روایتی چینی طب کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔اس موقع پر انجینئر منصور الحسن صدیقی نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان تعلیم، ہنرمندی کے فروغ اور صنعتی اختراع میں تعاون کے ایک نئے باب کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان شراکت داری سے افرادی قوت کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور پاکستان میں صنعتی جدیدکاری کے عمل کو فروغ ملے گا۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی و صنعتی تعاون کو مزید منظم، ادارہ جاتی اور طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک مشترکہ فوائد حاصل کر سکیں۔
