بیجنگ۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پانڈا بانڈ کا اجراء پاکستان کی معاشی بحالی اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے بلکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان مالیاتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔جمعہ کو بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقدہ پانڈا بانڈ کے اجرا ء کی افتتاحی تقریب جس میں چین کی حکومت، کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں، ریٹنگ ایجنسیوں، مالیاتی اداروں کے نمائندوں ، سرمایہ کاروں اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ یہ کامیاب اجرا ءاعتماد، شراکت داری، جدت، مالی تعاون اور پائیدار ترقی و علاقائی روابط کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وزیرِ
خزانہ نے کہا کہ یہ موقع اس اعتبار سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے75سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، جو باہمی احترام، اسٹریٹجک اعتماد اور ایک دوسرے کی ترقی کے لیے غیر متزلزل حمایت پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ کا اجرا ءدوطرفہ معاشی تعاون کی بڑھتی ہوئی مضبوطی اور پاکستان کی معاشی سمت پر چینی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا ءکا پہلا ملک ہے جس نے پانڈا بانڈ جاری کیا ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے دو سالہ وسیع تیاری اور چینی ریگولیٹرز، ترقیاتی شراکت داروں، مشیروں اور مارکیٹ کے شرکاء کے ساتھ قریبی تعاون کے بعد 7.2 ارب چینی یوآن کے پانڈا بانڈ پروگرام کا کامیاب قیام عمل میں لایا۔انہوں نے بتایا کہ 1.75 ارب چینی یوآن کے ابتدائی اجرا ءکو غیرمعمولی مثبت ردعمل ملا اور یہ مقررہ حجم سے زیادہ سبسکرائب ہوا، جو پاکستان کی معاشی صورتحال اور اصلاحاتی ایجنڈے پر سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کا ثبوت ہے۔وزیرِ خزانہ نے چائنہ انٹرنیشنل کیپیٹل کوآپریشن کی بطور لیڈ انڈر رائٹر قیادت و معاونت کو سراہا، جبکہ بینک آف چائینہ ، سٹینڈرڈ چارٹرڈ اور ہونگٹا سیکیورٹیز (Hongta
Securities) کی بطور مشترکہ لیڈ انڈر رائٹرز خدمات اور ایچ بی ایل کی بطور مالی مشیر معاونت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایشیئن انفراسڑیکچر ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور انویسمنٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ کریڈٹ گارنٹیوں کو بھی سراہا، جنہوں نے پاکستان کے چینی آن شور بانڈ مارکیٹ میں کامیاب داخلے کو ممکن بنایا۔اجرا کے پائیدار پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ یہ پاکستان کا پہلا پائیدار پانڈا بانڈ ہے، جس سے حاصل ہونے والی رقم پانی، توانائی اور صحت کے شعبوں کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، جو حکومت کے جامع اور پائیدار ترقی کے عزم کا مظہر ہے۔پاکستان کی معاشی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام، نظم و ضبط پر مبنی اصلاحات اور مستقبل کی جانب پیش رفت کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے معاشی اشاریوں میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو میں اضافہ، مہنگائی میں نمایاں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات اور ترسیلاتِ زر کی بدولت بیرونی شعبے میں استحکام حاصل ہوا ہے۔انہوں نے
مزید کہا کہ حکومت ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے ذریعے ٹیکس اصلاحات پر عمل پیرا ہے، توانائی شعبے میں گردشی قرضے کے خاتمے اور کارکردگی میں بہتری کے لیے اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں، جبکہ سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور نجکاری کے ذریعے اصلاحات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری آسانیوں، ڈیجیٹل گورننس اور مختلف شعبوں میں ہدفی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد نے معیشت کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور عالمی منڈیوں میں پاکستان پر اعتماد کو مزید تقویت دی ہے۔انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کی حکومت، خصوصاً چین کی وزارتِ خزانہ، پیپلز بینک آف چائنا اور National Association of Financial Market Institutional Investors کا اس تمام عمل میں بھرپور تعاون اور سہولت کاری پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے China Chengxin International Credit Rating، Fangda Partners، A&Q، وزارتِ خزانہ کی ٹیم اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کی خدمات کو بھی سراہا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ کامیاب اجرا اختتام نہیں بلکہ پاکستان اور چینی سرمایہ منڈی کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کا آغاز ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ 7.2 ارب چینی یوآن کے پروگرام کا قیام مستقبل میں مزید اجرا کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا اور پاکستان و چین کے درمیان مالی روابط اور پائیدار معاشی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔

