اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا افتتاح کرتے ہوئے اسے پاکستان اور چین کی دیرینہ شراکت داری کی ایک طاقتور علامت اور ڈیجیٹل تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔بدھ کو افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی بی آئی ہیڈکوارٹر کا قیام پاکستان-چین ہمہ جہت تزویراتی شراکت داری میں ایک انقلابی سنگِ میل ہے۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کو اجاگر کیا جس کے تحت پاکستان کو ڈیجیٹل جدت کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری اب قراقرم ہائی وے اور سی پیک توانائی منصوبوں جیسے
روایتی انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور ڈیجیٹل رابطہ کاری کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم سڑکوں سے نیٹ ورکس کی طرف اور فزیکل انفراسٹرکچر سے ڈیجیٹل تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں،ہم آج اسلام آباد میں آئی بی آئی ہیڈکوارٹر کے افتتاح کے ساتھ ایک ڈیجیٹل سلک روڈ تعمیر کر رہے ہیں۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت تعاون اب روایتی شعبوں سے آگے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی، سمارٹ سٹیز اور ماحولیاتی استحکام تک پھیل رہا ہے۔ انہوں نے مہنگائی میں کمی، جی ڈی پی میں اضافے اور پالیسی شرح سود میں کمی جیسے مثبت معاشی اشاریوں کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کو دوبارہ دنیا کی ٹاپ 20 معیشتوں میں شامل کرنے کے روڈ میپ پر گامزن ہے۔دنیا کی پانچویں بڑی آبادی اور نوجوانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئےنائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اب ’’اپنے وقت کا منتظر‘‘ نہیں بلکہ آئی ٹی کی بے پناہ صلاحیت اور عالمی مسابقت کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IBI) کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس کا پلیٹ فارم، جو چین کے 100 صنعتی شعبوں میں لاکھوں کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کر رہا ہے، پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔انہوں نے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے پیشہ وارانہ انداز میں بزنس ٹو بزنس (بی 2 بی ) فورمز کے انعقاد میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے حالیہ دوروں کے دوران طے پانے والے 10 ارب ڈالر کے مفاہمتی معاہدوں (ایم او یوز) میں سے 30 فیصد منصوبے حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں۔نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے جس کے دوران ایک اہم بزنس ٹو بزنس فورم بھی منعقد ہوگا تاکہ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔اس سے قبل اپنے خطاب میں چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ اگر ایمیزون اور علی بابا صارفین کی اشیاء کے ای کامرس کے بڑے پلیٹ فارمز ہیں تو آئی بی آئی صنعتی اشیاء کے ای کامرس کا بڑا پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئی بی آئی ایک فارچیون 500 کمپنی ہے جو شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ ہے۔خلیل ہاشمی نے کہا کہ آئی بی آئی کا آغاز پاکستان خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لئے ایک بڑی معاشی موقع فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے انہیں چین کی وسیع منڈی تک رسائی حاصل ہوگی جس میں زراعت، آبی زراعت اور صنعتی مصنوعات شامل ہیں اور چین کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بھی راستہ کھلے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل صنعتی تعاون کو فروغ دے کر اور حکومتی و کارپوریٹ وسائل کو یکجا کر کے آئی بی آئی نے اعلیٰ سطحی قیادت کے وژن کو عملی نتائج میں تبدیل کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم دو بڑی تبدیلیوں کے ملاپ پاکستان اور چین کی لازوال دوستی اور ڈیجیٹل معیشت کا تیزی سے ابھرتا ہوا دور، کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔تقریب سے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔

