اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر سرکاری ٹینڈر نوٹس میں انجینئر کا تخمینہ ظاہر نہ کیا جائے تو کامیاب بولی دہندہ کو اضافی سکیورٹی جمع کرانے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا جبکہ ایسی بنیاد پر زر ضمانت ضبط کرنا بھی قانون کے منافی ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے فرنٹیئر ہائی وے
اتھارٹی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ اسماعیل خان بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت کے مطابق فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی نے ڈی آئی خان چشمہ روڈ منصوبے کے لیے 2011ء میں ٹینڈرز طلب کیے تھے۔میسرز برادرز کنسٹرکشن اینڈ بلڈرز کامیاب بولی دہندہ قرار پایا اور اس نے تخمینی لاگت کے مطابق دو فیصد زر ضمانت جمع کرا دیا تاہم بعدازاں اتھارٹی نے انجینئر تخمینہ کی بنیاد پر آٹھ فیصد اضافی سکیورٹی طلب کر لی۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ انجینئر تخمینہ ٹینڈر نوٹس میں شامل ہی نہیں تھا، اس لیے بولی دہندہ کو اضافی سکیورٹی جمع کرانے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا تھا۔عدالت نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے درست طور پر زر ضمانت ضبطی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے رقم واپس کرنے کا حکم دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کسی قسم کی قانونی خامی یا بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی، اس لیے اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کامیاب بولی دہندہ کو زر ضمانت واپس کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

