اسلام آباد(خصوصی رپورٹ۔ضیاء الامین):’’معرکۂ حق‘‘ نے نہ صرف قومی سطح پر اتحاد، یکجہتی اور عوامی اعتماد کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے وقار اور سفارتی مؤقف کو مزید مستحکم کیا۔ اس اہم مرحلے کے دوران سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی، مؤثر حکمتِ عملی اور قومی مفاد پر مبنی فیصلوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ملک بھر میں عوامی سطح پر یکجہتی، حب الوطنی اور ریاستی اداروں پر اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے مثبت اثرات معیشت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوئے۔ماہرین کے مطابق سیاسی استحکام اور مضبوط قومی بیانیہ ہمیشہ معیشت کی بہتری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور ’’معرکۂ حق‘‘ کے بعد یہی صورتحال نمایاں طور پر سامنے آئی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی استحکام کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک
ایکسچینج میں بہتری، کاروباری سرگرمیوں میں تیزی اور بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوئے۔ دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا، جو مستقبل میں معاشی استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔اس دوران حکومتی سطح پر معاشی اصلاحات، آئی ٹی سیکٹر کے فروغ، معدنی وسائل کے بہتر استعمال اور زرعی ترقی کے منصوبوں کو مزید تیز کرنے پر توجہ دی گئی۔ماہرین کے مطابق اگر قومی اتحاد اور پالیسی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف معاشی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک مضبوط اقتصادی قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق گزشتہ مہینوں میں حاصل کی گئی چند اہم کامیابیوں میں مہنگائی کی شرح میں کمی، برآمدات میں اضافہ ،معیشت کی ڈیجیٹائزیشن، نوجوانوں میں انوویشن، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی، تعلیمی اور سائنسی شعبے میں بہتری، عالمی سطح پر پاکستان کا بڑھتا ہوا مثبت تاثر شامل ہیں ، یہ تمام کامیابیاں دراصل اسی ’’معرکۂ حق‘‘ کی توسیع ہیں جس میں قوم نے نہ صرف معرکہ حق کے دوران اپنی افواج کے شانہ بشانہ جنگی محاذ پر ثابت قدمی اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا بلکہ پاکستان نے معاشی محاذ پر بھی ثابت قدمی دکھائی ۔”معرکۂ حق” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی بیانیہ ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بنیاد سچ، عدل اور حق پر رکھی گئی۔ اس عنوان کے ذریعے قوم کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ جیسے 1947ء میں آزادی کا حصول ایک عظیم اور ناقابل یقین سمجھا جانے والا معرکہ تھا، ویسے ہی آج معاشی، سماجی اور ڈیجیٹل ترقی کا سفر بھی ایک جہاد سے کم نہیں۔ڈیجیٹل ترقی وہ اہم شعبہ ہے جس میں نمایاں کارکردگی نظر آتی ہے ، پاکستان نے ڈیجیٹل گورننس، ای-کامرس، اور فنٹیک سیکٹرز میں شاندار پیش رفت کی ہے۔ ’’ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2025‘‘ اور پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام، ایک جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی بنیاد بن رہا ہے۔مبصرین کے مطابق پاکستان کے عالمی سطح پر مقام اور مرتبے میں اضافہ ایک اور اہم ترین کامیابی ہے، سفارتی سطح پر پاکستان نے عالمی فورمز پر اپنے موقف کو مضبوط انداز میں پیش کیا ہے۔ تجربات کے تبادلے، اصلاحاتی معاہدوں اور باہمی تعلقات میں وسعت پاکستان کی عالمی اہمیت کو اجاگر کر رہی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج اور قوم نے دشمن کو جو دندان شکن اور منہ توڑ جواب دیا اس نے دنیا میں ناصرف پاکستان اور پاکستانیوں بلکہ دنیا میں ہمارے تمام دوست ممالک کا سر فخر بھی سے بلند کردیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ’’معرکۂ حق‘‘ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنا جانتی ہے۔ یہی اتحاد، اعتماد اور استحکام مستقبل میں ملکی ترقی، خوشحالی اور مضبوط معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

