اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور جھوٹے پراپیگنڈے کو ہوا دینا اس کا پرانا وطیرہ رہا ہے۔ بالخصوص گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک مخصوص طرزِ عمل بارہا دیکھنے میں آیا جس میں کسی واقعے کے فوراً بعد بغیر تحقیقات پاکستان پر الزام عائد کردیا گیا۔ اڑی، پلوامہ اور بعد ازاں مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں پیش آنے والے دیگر واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں جب بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی جانب سے فوری طور پر پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ تشکیل دیا گیا جبکہ شواہد اور غیر جانبدار تحقیقات سامنے نہیں لائی گئیں۔معرکۂ حق کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی، جب بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے اطلاعاتی جنگ کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں نے جذباتی بیانیہ اختیار کرتے ہوئے تحقیق سے پہلے فیصلے سنانے کی روش اپنائی جس سے خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔ایسے ماحول میں اسلام کی تعلیمات تحقیق، تصدیق اور عدل پر مبنی مؤقف اختیار کرنے کی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ قرآنِ
مجید کا واضح حکم ہے:“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا”(الحجرات: 6)یعنی اگر کوئی خبر موصول ہو تو اس کی تحقیق اور تصدیق کی جائے تاکہ جذبات، تعصب یا غلط معلومات کی بنیاد پر کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو جو بعد میں نقصان اور پشیمانی کا سبب بنے۔ معرکۂ حق کے دوران یہ قرآنی اصول نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی، سفارتی اور ریاستی سطح پر بھی اپنی اہمیت کے ساتھ نمایاں ہوا۔اسلام واضح طور پر بغیر تحقیق کسی خبر یا الزام کو قبول کرنے سے منع کرتا ہے۔ “فَتَبَيَّنُوا” کا اصول دراصل ذمہ دار طرزِ فکر، عدل اور دانشمندی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہی اصول ریاستی معاملات، سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی تنازعات میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ فیصلے جذبات کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان نے معرکۂ حق کے دوران اسی اصولی مؤقف کو اختیار کیا۔ جذباتی ردعمل کے بجائے پاکستان نے ہر الزام کے مقابلے میں شواہد، حقائق اور غیر جانبدار تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔دفتر خارجہ اور ریاستی اداروں نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور کسی بھی واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لیے تیار ہے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر مؤقف اختیار کیا کہ بغیر تحقیق اور ثبوت کے الزامات خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو یہ باور کرایا گیا کہ غیر مصدقہ اطلاعات، میڈیا پروپیگنڈا اور فالس فلیگ بیانیے جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، اس لیے تحقیق اور شفافیت ناگزیر ہیں۔معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے دفاعی تیاری برقرار رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔ اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسی متوازن حکمتِ عملی نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت دی۔دوسری جانب بھارتی بیانیے میں تضادات، شواہد کے فقدان اور غیر مصدقہ دعوؤں نے اس کے مؤقف کو کمزور کیا۔ بین الاقوامی میڈیا اور مختلف مبصرین کی جانب سے بھی کئی مواقع پر بھارتی دعوؤں پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس صورتحال نے یہ واضح کیا کہ مضبوط بیانیہ صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ تحقیق، شفافیت اور سچائی سے قائم ہوتا ہے۔مبصرین کے مطابق معرکہ ٔ حق نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ “فَتَبَيَّنُوا” کا قرآنی اصول آج کے دور کی معلوماتی جنگ میں بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تیز رفتار اطلاعات کے اس دور میں غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانا نہ صرف معاشرتی انتشار بلکہ بین الاقوامی کشیدگی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اس لیے تحقیق، تصدیق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان نے معرکۂ حق کے دوران دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حقائق، شواہد اور شفافیت پر مبنی مؤقف ہی دیرپا اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہر مرحلے پر غیر جانبدار تحقیقات کی حمایت کی اور عالمی برادری کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔معرکۂ حق اس حقیقت کی عملی مثال بن کر سامنے آیا کہ سچائی، تحقیق اور انصاف پر قائم بیانیہ ہی قومی وقار، سفارتی اعتماد اور علاقائی امن کی بنیاد بنتا ہے۔ قرآنِ حکیم کا حکم “فَتَبَيَّنُوا” آج بھی انسانیت کے لیے یہی پیغام رکھتا ہے کہ فیصلے تعصب، اشتعال اور پروپیگنڈے کے بجائے تحقیق، عقل اور حقائق کی بنیاد پر کیے جائیں۔

