اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے،جب بھارت نے ہزیمت سے بچنے کے لئے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صحافتی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانے پر پاکستانی قومی خبر رساں ادارے ( اے پی پی) کے سوشل میڈیا ہینڈلز کو پورے ملک میں ایک سال قبل بین کر دیا تھا۔ بھارتی فالس فلیگ آپریشن کے جواب میں جب قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے فیس بک پر حقائق پر مبنی قومی سالمیت،حکومت پاکستان ،افواج ، پاکستان اور پاکستانی سول سوسائٹیز کے بیانیہ کی بھرپور تشہیر شروع کی تو بھارتی سورمائوں سے اس کا کوئی جواب نہ بن پایا۔ جس پر مودی سرکار نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر 28 اپریل 2025
کو قومی خبر رساں ادارے( اے پی پی) کے فیس بک پیج اور دیگر سوشل میڈیا ہینڈلز پر بھارتی حدود میں مکمل طور پابندی عائد کردی تھی۔پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی جھوٹے اور بے بنیاد بیانیہ پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قومی خبر رساں ادارے کو خصوصی ہدایات دیں تھیں کہ ان بے بنیاد الزامات کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی تمام سروسز خصوصی طور پر ڈیجیٹل میڈیا نے اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور بھارت کے جعلی پروپیگنڈے کو بےنقاب کرکے اس کی نیندیں حرام کر دیں۔یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے سب سے پہلے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے سوشل میڈیا کو بھارتی جغرافیائی حدود میں بند کیا گیا جو کہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ قومی خبر رساں ادارے نے ڈیجیٹل وار میں ملکی سالمیت ، حکومت پاکستان اور پاک ا فواج کا شانہ بشانہ ساتھ دیا اور حق اور سچ پر مبنی بیانیہ چلا کر بھارتی حکومت کو نا کوں چنے چبوائے اور بھارت کے جھوٹے بیانیے کو دنیا بھر میں مستردکیا۔

