اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):پاکستان کے سابق سفیر برائے امریکا، چین اور اقوام متحدہ سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی رابطوں کے بعد پاکستان نے مسلسل سفارتی سرگرمی برقرار رکھی جس کے ذریعے پیش رفت جاری رہی اور فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی میں مدد ملی۔ اتوار کو ایک بیان میں انہوں نے کسی بھی سفارتی ناکامی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مذاکرات کے بعد بھی پاکستان پوری طرح متحرک رہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کردار یا عزم میں کسی قسم کی مایوسی نہیں تھی اور اسلام آباد نے امن عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اپنے رابطوں میں مزید تیزی لائی۔ اہم سفارتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے بتایا کہ فیلڈ
مارشل عاصم منیر نے تہران کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں جبکہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ، ریاض اور انقرہ سمیت خطے کے اہم دارالحکومتوں کے دورے کیے،ان اقدامات کا مقصد علاقائی اتفاقِ رائے پیدا کرنا، ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا اور ایک ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کو مضبوط بنانا تھا۔انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے حالیہ دورہ پاکستان کو تہران کے اعتماد کا واضح اظہار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سید عباس عراقچی کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران پاکستان کے سہولت کار کے کردار پر مکمل اعتماد رکھتا ہے ، پاکستان کے کردار کو کمزور کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ سردار مسعود خان نے وضاحت کی کہ پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دونوں جانب سے متعدد تجاویز کا تبادلہ ہو چکا ہے اور ایران کا تازہ ردِعمل بھی پاکستان کے ذریعے پہنچایا گیا جو حساس سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے محتاط امید کا اظہار کیا کہ آئندہ دنوں میں امریکی وفد بھی پاکستان کا دورہ کر سکتا ہے جس سے بالواسطہ مذاکرات (پراکسی مداخلت کے بغیر)ممکن ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار سے دونوں فریقین کو پاکستان کے ذریعے رابطہ برقرار رکھتے ہوئے اختلافات کم کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے اس عمل کو ایک وسیع تسلسل کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارت کاری ابتدائی رابطوں سے آگے بڑھ کر اب ایک منظم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ممکنہ معاہدے کے تکنیکی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہر تنازعہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتا ہے اور مستقل رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک سمیت تمام اہم فریقوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جس سے نہ صرف سفارتی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی مضبوط ہوئی ہے۔