اسلام آباد۔:وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے عالمی غذائی تحفظ (سی ایف ایس ) کے چیئرمین، پروفیسر انس اے النبلسی سے ملاقات کی ، جس میں فریقین نے غذائی قلت اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے فعال کردار اور عالمی کوششوں میں اس کی شمولیت پر تبادلہ خیال کیا اور کمیٹی برائے عالمی غذائی تحفظ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ یہ ملاقات ایف اے او کی ایشیا و بحرالکاہل کے لیے 38ویں علاقائی کانفرنس (اے پی آر سی۔ 38)کے اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس کے موقع پر برونائی میں ہوئی۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری اعلامیہ کے
مطابق یہ ملاقات ایسے نازک موقع پر ہوئی جب ایشیا و بحرالکاہل کا خطہ معاشی ترقی کے باوجود غذائی عدم تحفظ، غذائی قلت اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔کمیٹی برائے عالمی غذائی تحفظ کے ایک فعال رکن کے طور پر پاکستان نے اپنی قومی پالیسیوں کو اس کی رہنما پالیسیوں کے مطابق ڈھالا ہے تاکہ غذائی تحفظ کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ 21 کروڑ سے زائد آبادی کے حامل ملک کے طور پر پاکستان اس عزم پر قائم ہے کہ خوراک تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے اور بدلتے ہوئے ماحولیاتی و سماجی و معاشی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جائے۔ ملاقات کے دوران فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سطح پر سی ایف ایس کی پالیسی سفارشات پر مؤثر عملدرآمد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سی ایف ایس نے کہا کہ حقیقی تبدیلی کے لیے جامع حکمرانی، مختلف شعبوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط تعاون، پائیدار مالی وسائل تک بہتر رسائی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی ایف ایس مختلف شراکت داروں کو یکجا کر کے ممالک کو ان کے اپنے حالات کے مطابق مربوط اور رضاکارانہ پالیسی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔گفتگو کے دوران مضبوط اور پائیدار غذائی نظام کی تشکیل سے متعلق عالمی پالیسی سفارشات کی تیاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان کو اس عمل میں فعال شرکت کی دعوت دی گئی۔ ملاقات میں زرعی غذائی نظام کی تبدیلی میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے اہم کردار پر بھی زور دیا گیا۔ فریقین نے خاص طور پر پریسیژن ایگریکلچر اور ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے پیداوار، پائیداری اور لچک میں بہتری لانے کے حوالے سے تحقیقی اداروں اور جامعات کے کردار کو تسلیم کیا۔مزید برآں ملاقات میں سی ایف ایس کے آئندہ اقدامات اور تقریبات کا جائزہ بھی لیا گیا، جن میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیٹا سے متعلق اعلیٰ سطحی فورم اور مضبوط غذائی نظام پر جاری پالیسی ورک شامل ہیں۔ فریقین نے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی پالیسی رہنمائی کو عملی اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ پائیدار اور مضبوط غذائی نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

