اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):ویساکھی کے موقع پر منعقدہ تقریبات اختتام پذیر ہوگئیں جبکہ پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بھارتی سکھ یاتری محبت، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام لے کر واپس روانہ ہوگئے۔واہگہ بارڈر پر صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا، چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان، ایڈیشنل
سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق اور دیگر حکام نے یاتریوں کو الوداع کیا۔جتھہ لیڈر سردار ہرجیت سنگھ نے اپنے دورے کو یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انہیں غیر معمولی مہمان نوازی اور احترام ملا، جبکہ سردار سریجیت سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔یاتریوں نے قیام، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سیکیورٹی سمیت فراہم کردہ انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے سابقہ تاثرات دورے کے دوران مکمل طور پر تبدیل ہوگئے۔انہوں نے پاکستان میں ملنے والی محبت اور احترام کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے اسے دنیا بھر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پرچیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان نے کہا کہ اقلیتوں کی خدمت ریاست کی ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ
حکومت مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔دو ہزار دو سو سے زائد سکھ یاتری خصوصی بسوں کے ذریعے واہگہ بارڈر پہنچے جہاں ان کی واپسی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ روانگی کے موقع پر متعدد یاتری جذباتی دکھائی دیے۔صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ یاتریوں کی آمد سے روانگی تک ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی جبکہ انہوں نے کرتارپور راہداری کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے کہا کہ مستقبل میں یاتریوں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ زیادہ تعداد میں زائرین پاکستان کا رخ کریں۔
