اسلام آباد لندن( نمائندہ خصوصی’ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔صدر کے بیان کے مطابق امریکی اہلکاروں نے جہاز کو وارننگ دی، پھر انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے روک دیا اور بعد میں اس پر کنٹرول حاصل کر لیاتاہم اس بیان پر ایران کی جانب سے تاحال رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہےڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والی ایرانی کارگو جہاز امریکی میرینز کی مکمل تحویل میں ہے۔ان کے مطابق توسکا نامی یہ جہاز خلیجِ عمان میں
روکا گیا اور اسے انتباہ جاری کیا گیا۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی عملے نے وارننگ پر توجہ نہیں دی لہٰذا ہماری نیوی کے جہاز نے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے وہیں روک دیا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز امریکی محکمۂ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے ’کیونکہ اس کا پہلے بھی غیر قانونی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے اور اب جہاز میں موجود اشیا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ ایران نے تاحال اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم والے ایک کارگو جہاز کو روک کر اسے تحویل میں لے لیا ہے۔صدر کے بیان کے مطابق امریکی اہلکاروں نے جہاز کو وارننگ دی، پھر انجن روم کو
نقصان پہنچا کر اسے روک دیا اور بعد میں اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔تاہم اس بیان پر ایران کی جانب سے تاحال رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والی ایرانی کارگو جہاز امریکی میرینز کی مکمل تحویل میں ہے۔ان کے مطابق توسکا نامی یہ جہاز خلیجِ عمان میں روکا گیا اور اسے انتباہ جاری کیا گیا۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی عملے نے وارننگ پر توجہ نہیں دی لہٰذا ہماری نیوی کے جہاز نے انجن روم کو نقصان پہنچا کر اسے وہیں روک دیا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ یہ جہاز امریکی محکمۂ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے ’کیونکہ اس کا پہلے بھی غیر قانونی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے اور اب جہاز میں موجود اشیا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ ایران نے تاحال اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔اسلام آباد سے
نمائندہ خصوصی کے مطابق پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے امریکہ یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی ’سفارتکاری‘ پر تنقید کی ہے۔سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’آپ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں، ناکہ بندیوں کو مزید سخت کریں، ایران کو مزید کارروائیوں کی دھمکیاں دیں، غیر لچکدار مطالبات پر قائم رہیں اور پھر بھی یہ تاثر دیں کہ آپ ’سفارت کاری‘ کر رہے ہیں۔‘انھوں نے لکھا کہ یہ طرزِ عمل قول و فعل میں تضاد کے مترادف ہے۔ان کے مطابق ’جب تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، کشیدگی بڑھتی رہے گی۔‘بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابقاس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کے ٹرمپ کے
ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جارڈ کشنر سوموار کے روز اسلام آباد جا رہے ہیں۔تاہم بی بی سی اردو کو وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جائیں گے۔واضح رہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہ ہی شخصیات پاکستان آئیں تھی۔
