واشنگٹن ( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ ترقی پذیر ممالک قرضہ جاتی دباؤ کا شکار ہیں، بلند شرح سود اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی کے باعث ترقی پذیرممالک کی ترقی اور پائیدار نمو کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، مالی سال 2026 کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے بیرونی مالیاتی انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن ڈی سی میں باروئررز پلیٹ فارم کے اجرا کی تقریب سے خطاب اورمختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے وفود اورعہدیداروں سے ملاقاتوں کے دوران کہی۔ وزیر خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہ بڑی تعداد میں ترقی پذیر ممالک شدید قرضہ جاتی دباؤ کا شکار ہیں، جہاں بلند شرح سود اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی کے باعث ان کی ترقی اور پائیدار نمو کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ داخلی اصلاحات نہایت
اہم ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے، تاہم عالمی مالیاتی نظام میں موجود ڈھانچہ جاتی رکاوٹیں قرض لینے والے ممالک کے لیے دستیاب پالیسی گنجائش کو محدود کر رہی ہیں۔وزیر خزانہ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ باروئررز پلیٹ فارم ایک دیرینہ خلا کو پُر کرتا ہے، کیونکہ قرض لینے والے ممالک کے پاس ایسا کوئی مخصوص فورم موجود نہیں تھا جہاں وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کر سکیں، ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کر سکیں اور اپنے اجتماعی مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم کسی مذاکراتی بلاک کے طور پر نہیں بلکہ ایک رضاکارانہ، رکن ممالک کی زیرِ قیادت اقدام ہے، جس کا مقصد ایک دوسرے سے سیکھنے، تجربات کے تبادلے اور عالمی مالیاتی مباحث میں قرض لینے والے ممالک کی آواز کو مؤثر بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی وکالت کو سراہا، مصر کی قیادت کی تعریف کی اور اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کی معاونت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے پلیٹ فارم کے عبوری چیئرمین کے طور پر مصر کے اعلان کا بھی کیا۔ فِچ ریٹنگز کے ساتھ تعمیری ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان کی کریڈٹ پروفائل کے حوالے سے فِچ کی مسلسل شمولیت اور جائزے کو سراہتے ہوئے پاکستان کی بی منفی کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق پر ادارے کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ توسیعی فنڈسہولت ای ایف ایف کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت دوسرے جائزے کے لیے سٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے،وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے مالی سال 2026 کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے بیرونی مالیاتی انتظامات بھی یقینی بنا لیے ہیں،انہوں نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں مضبوط موجودگی برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی، جس میں مختلف مالیاتی ذرائع جیسے پانڈا بانڈز، یورو بانڈز، بین الاقوامی سکوک اورایس ایس جی سے منسلک بانڈز شامل ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کاندا سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی پر حالیہ دستخط کو پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کے لیے کریڈٹ انہانسمنٹ فراہم کرنے پر بینک کے تعاون پر صدر کاندا کا شکریہ ادا کیا۔وزیرخزانہ نے بینک کے صدر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت دوسرے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدے کی کامیاب تکمیل سے آگاہ کیا اور ایگزیکٹو بورڈ میں مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی،وزیر خزانہ نے جاری بحران کو اہم سپلائی شاک قرار دیتے ہوئے اس کے ابتدائی اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پالیسی ردعمل کا خاکہ پیش کیا، جس میں ایندھن کی دستیابی، قیمتوں، لاجسٹکس، ہدفی سبسڈیز اور طلب کے نظم و نسق سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کے جاری جائزے کا بھی ذکر کیا۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے صدر کاندا کی جانب سے کھاد کی سپلائی چین میں خلل، زرعی پیداوار پر ممکنہ اثرات اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ سے متعلق خدشات کا بھی نوٹس لیا۔وزیر خزانہ نے وزیراعظم کی جانب سے صدر کاندا کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ فرینکلن ٹیمپلٹن کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات وزیر خزانہ نے وفد کو حکومت کے جاری نجکاری پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 28 تا 29 سرکاری ملکیتی اداروں کو باضابطہ طور پر نجکاری کمیشن کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد، کراچی اور سیالکوٹ ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر بھی روشنی ڈالی،کیپٹل مارکیٹس کے حوالے سے وزیر خزانہ نے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام، لیڈ مینیجرز کے انتخاب کے لیے آئندہ ریکویسٹ فار پروپوزلز ، اور چار سال کے وقفے کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر حکومت قیمتوں اور وقت کے تعین میں محتاط حکمتِ عملی اختیار کرے گی۔وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی باضابطہ طور پر قائم کی جا چکی ہے، جبکہ بائنینس اور دیگر ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2018 میں کرپٹو کرنسی لین دین کے لیے بینکاری ذرائع کے استعمال پر عائد پابندی واپس لے لی ہے۔انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کے حکام کے لیے ایک منظم تربیتی پروگرام کے قیام میں گہری دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔ جے پی مورگن چیس کے نمائندگان سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے اس امر کا عندیہ دیا کہ پاکستان تقریباً چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ داخلے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے جے پی مورگن ٹیم کو پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے بارے میں آگاہ کیا، جس کے تحت قریبی مدت میں روپے سے منسلک، ڈالر میں نامزد مالیاتی آلات کے اجرا کی توقع ہے۔انہوں نے ٹیم کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے ساتھ طے پانے والے کاؤنٹر انڈیمنٹی معاہدوں کے بارے میں بریفنگ دی، جو پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کی معاونت کے لیے کیے گئے ہیں،وزیر خزانہ نے مملکت سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی گئی مالی معاونت کو سراہا،انہوں نے جے پی مورگن ٹیم کو یقین دہانی کرائی کہ اجلاس کے دوران پیش کی گئی مختلف مالیاتی تجاویز اور مارکیٹ آپشنز کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔سِٹی میکرو فورم سے خطاب میں وزیر خزانہ نے تصدیق کی کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت دوسرے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ سے اس کی منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے،وزیر خزانہ نے انہوں نے مملکت سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی گئی مالی معاونت پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ موجودہ بحران سے حاصل ہونے والے اسباق کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی تعمیر اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا،انہوں نے ابھرتے ہوئے مواقع کی بھی نشاندہی کی، جن میں کراچی پورٹ پر ٹرانزٹ حجم میں اضافہ اور گوادر کو ایک اسٹریٹجک تجارتی راہداری کے طور پر ترقی دینے کے لیے نئی پیش رفت کے امکانات شامل ہیں۔

