اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):بین الاقوامی 30 ویں پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی، جو ملک میں پلاسٹک سرجری کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ یہ کانفرنس پاکستان پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، جس کے سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر عبد الخالق ملک تھے۔ تقریب میں علاقائی چیلنجز کے باوجود 400 سے زائد مندوبین اور 12 بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔کانفرنس ایک اہم سائنسی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی، جہاں تحقیق پر مبنی مقالے، جدید لیکچرز اور لائیو سرجیکل ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ غیر جراحی کے
طریقۂ علاج، جیسے Botox، فلرز اور فیٹ گرافٹنگ پر خصوصی سیشنز رکھے گئے، جن میں ٹرینی ڈاکٹرز اور ماہرین کو عالمی رجحانات سے آگاہی اور عملی تربیت فراہم کی گئی۔کانفرنس میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین نے شرکت کی، جن میں Professor Dr. Eva Maria (جرمنی)، Prof. Nick Wilson John (برطانیہ) کے علاوہ چین، مصر، ترکی، ارجنٹینا اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے۔کانفرنس کے دوران ایک اہم پیش رفت کے طور پر Special Investment Facilitation Council کے تحت “پاکستان نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو” کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس تقریب میں محمد اسلم غوری سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کو کم لاگت اور معیاری ری کنسٹرکٹو و کاسمیٹک سرجری کے علاقائی مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔ کانفرنس کو نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کی تعلیمی معاونت حاصل رہی، جبکہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر نے انتظامی سرپرستی فراہم کی۔تقریب کے دوران پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز نئی قیادت نے بھی حلف اٹھایا، جس کے تحت پروفیسر ڈاکٹر مظہر نظام کو صدر اور Prof. Dr. پروفیسر ڈاکٹر مغیث کو صدر منتخب نامزد کیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر عبدالخالق نے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ۔ڈاکٹر صفدر علی اور پروفیسر ڈاکٹر فرخ اسلم کی خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر پروفیسرمامون رشید. اور پروفیسر معظم نذیر تارڑ . جیسے سینئر ماہرین کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔تین روزہ کانفرنس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ عالمی سطح پر تعلیمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا اور پاکستان کو پلاسٹک سرجری میں ایک ابھرتے ہوئے رہنما کے طور پر مستحکم کیا جائے گا۔
