لاہور۔( نمائندہ خصوصی)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صاف پانی تک رسائی کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قومی آبی پالیسی کے دائرہ کار میں متعدد اہم اصلاحاتی اقدامات کر رہی ہے تاکہ مستقبل کے لیے پانی کے وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے، وفاقی حکومت 18 چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیمز کی تعمیر پر کام کر رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر پاکستان اپنے قومی آبی حقوق کی حفاظت کے لئے پر عزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پانی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا جو آج اتوار کو منایا جارہا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج پاکستان اور دنیا بھر میں بین الاقوامی یوم آب منایا جا رہا ہے۔۔رواں سال یہ دن ’’پانی اور صنفی مساوات: جہاں پانی بہتا ہے، وہاں برابری بڑھتی ہے‘‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے جو اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ آبی تحفظ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی انصاف اور صنفی برابری کے لئے بھی اہمیت کا حامل ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو آبی قلت کا
چیلنج درپیش ہے اور قیام پاکستان کے بعد فی کس پانی کی دستیابی 5,260مکعب میٹر سے کم ہو کر 1,000 مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے،موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن اور گلیشیئرز کے نظام میں تبدیلیوں نے آبی قلت کے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، پانی کی کمی تمام طبقات کی روزمرہ زندگی، رہن سہن اور معاشرتی تنوع پر بھی اثر انداز ہوتی ہے، گھریلو سطح پر صنفی پہلو نہایت اہم ہے کیونکہ عموما ًہماری خواتین گھریلو استعمال کے پانی کے انتظام کی زیادہ ذمہ داری اٹھاتی ہیں، پانی کی دستیابی میں دقت ان کے قیمتی وقت کا ضیاع کا باعث بنتی ہے بالخصوص دیہات میں پانی کا انتظام ایک وقت طلب کام ہےجس سے تعلیمی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت صاف پانی تک رسائی کو بنیادی انسانی حق سمجھتی ہے اور پانی کے انتظام اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے پُرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قومی آبی پالیسی کے دائرہ کار میں متعدد اہم اصلاحاتی اقدامات کر رہی ہے تاکہ مستقبل کے لیے پانی کے وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے، ذخیرہ آب میں اضافہ کے لئےپبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت وفاقی حکومت 18 چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیمز کے تعمیر پر کام کر رہی ہےان میں دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں جو پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی فراہمی میں بھی مددگار ثابت ہوں گے جبکہ نولونگ ڈیم اور نئی گاج ڈیم زرعی آبپاشی کو بہتر بنائیں گے، اس کے علاوہ گریٹر کراچی واٹر سپلائی سکیم (K-IV) کراچی میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہے۔مزید برآں چنیوٹ ڈیم فیصل آباد کو پانی فراہم کرے گا جبکہ کچھی کینال اور چشمہ رائٹ بینک کینال کچھی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے میدانی علاقوں کو آبپاشی اور پینے کا پانی فراہم کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تمام منصوبے مجموعی طور پر پانی کی دستیابی میں اضافے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنےاور پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیمز کے علاوہ حکومت کا ہدف ہے کہ نہری نظام کی کارکردگی میں بہتری کے ذریعے پانی کے ضیاع میں 33فیصد کمی اور پانی کے موثر استعمال میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سےارسا ملک بھر میں آبی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹیلی میٹری سسٹم نصب کر رہا ہےجو 2027 تک مکمل ہو جائے گا۔اس سے دریاؤں کے بہاؤ کی بروقت نگرانی ممکن ہوگی اور بین الصوبائی پانی کی تقسیم کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان اپنے قومی آبی حقوق کی دلیرانہ انداز میں حفاظت کے لئے پر عزم ہےاور کسی بھی نوعیت کی آبی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی اور ہر شہری سے اپیل کی کہ پانی کو ایک قیمتی نعمت سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ حکومتی سطح پر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم جامع، پائیدار اور صنفی پہلو سے حساس آبی وسائل کے انتظام کو فروغ دیں گے۔
