اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)فرانس کے مشہور دستاویزی فلم ساز اور مصنف ویلنٹن ہینالٹ نے اپنی نئی کتاب میں بھارت کے بارے میں اپنے رومانوی تصورات کے زوال کا انکشاف کیا ہے۔ کتاب کا عنوان ‘‘J’avais un rêve indien. Dans l’enfer de la prison de Gorakhpur” (I Had an Indian Dream: In the Hell of Gorakhpur Prison)ہے۔ ویلنٹن ہینالٹ نے بتایا کہ وہ مظلوم دلت خواتین پر فلم بنانے بھارت آئے تھے لیکن آخرکار گورکھپور جیل میں قید ہو گئے۔ویلنٹن کے مطابق وہ اگست 2023 میں اس امید کے ساتھ بھارت پہنچے کہ وہ سادھوؤں اور ’’روحانی‘‘ تجربات سے بھرپور ایک پراسرار ماحول دیکھیں گےلیکن حقیقت میں انہوں نے وہاں بچوں کو ’’مقدس‘‘ دریائوں سے سکے تلاش کرتے ، بوڑھوں کو جانوروں کی طرح گیس سلنڈر گھسیٹتے ، شدید
غربت اور ذات پات کی بالادستی جیسی صورتحال دیکھی۔ویلنٹن نے فلم بنانے کے منصوبے کو ترک کر دیا اور اپنی توجہ دلت خواتین پر ہونے والے مظالم کی جانب مرکوز کر دی، جو روزمرہ کے تشدد، جنسی زیادتی، قتل اور نظامی طور پر معاشرتی اخراج کا سامنا کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ چار رویہ شاہراہیں صرف اشرافیہ کے لیے ہیں جبکہ غریبوں کیلئے سڑکیں ہیں نہ سکول اور نہ ہی سرکاری ملازمتیں ہیں۔ویلنٹن کی ملاقات دلت کارکن سیما گوتم سے ہوئی جن کی والدہ کو زمین کے تنازع پر اعلی ذات کے افراد نے قتل کر دیا تھا۔ سیما گوتم ہر خاندان کے لیے ایک ایکڑ زمین کا مطالبہ کر رہی تھیں اور 10 اکتوبر 2023 کو گورکھپور امبیڈکر پیپلز مارچ میں عوامی شرکت کی اپیل کر رہی تھیں۔ پُرامن دھرنے کے دن پولیس نے ویلنٹن کے ہوٹل پر دھاوا بول دیا اور انہیں مبینہ طور پر سیاحتی ویزا پر ممنوعہ سیاسی سرگرمی میں ملوث ہونے کے الزام میں فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا۔ویلنٹن کو گورکھپور سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا، جو پہلے ہی 3,000 سے زائد قیدیوں سے بھری ہوئی تھی۔ انہیں ذہنی طور پر غیر مستحکم قیدیوں کے وارڈ میں رکھا گیا، جہاں انہیں شدید گندگی، مسلسل شور، تشدد اور سخت مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑا، جگہ کی کمی کے باعث وہ پہلو کے بل سونے پر مجبور تھے اور جیل کا ماحول انتہائی غیر انسانی اور اذیت ناک تھا۔جیل کے اندر، ذات پات اور مذہبی فرقہ وارانہ تفریق بالکل باہر کی دنیا کی عکاسی کر رہی تھی، اعلیٰ ذات والے مرکزی جگہوں پر مقیم تھے جبکہ دلت اور نچلی ذات کے افراد کو قریبی بیت الخلاء یا تاریک کونوں میں رکھا گیا، مسلمانوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ رکھا گیا، جس سے جیل میں سماجی اور مذہبی تقسیم کی شدت واضح ہو گئی۔جیل میں بھارتی آئین کا کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا ،قیدیوں کے بنیادی حقوق بالکل نظرانداز کیے جا رہے تھے۔سزا کے خطرے کے باوجود ویلنٹن نے خفیہ نوٹس لکھے اور زیادہ تر معصوم، غریب زیر حراست افراد کے بیانات ریکارڈ کیے، جو بلیک میلنگ، خاموش کرانے یا معمولی جرائم کے الزام میں جیل میں تھے۔ عدالتی ضمانت میں تاخیر کے بعد ویلنٹن نے مئی 2024 میں بھارت چھوڑ دیا۔کتاب کے اختتامی حصے میں ویلنٹن نے مغربی ثقافتی نسبتی پسندی اور بھارت کی روحانیت کے رومانوی تصورات پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے ذات پات کے تشدد، جیل کے نظام کی ناکامیوں اور پسماندہ طبقوں کی مستقل مزاحمت کو بے نقاب کیا، جس سے بھارت کی حقیقی معاشرتی تصویر سامنے آئی۔
