کراچی( نمائندہ خصوصی) امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یومِ وفات آج نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر اہلسنّت والجماعت کے رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ علم، تقویٰ، عبادت اور دینِ اسلام کی خدمت کا عظیم نمونہ تھیں اور آپؓ کی حیاتِ مبارکہ امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔مرکزی صدر اہلسنّت والجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی، صدر اہلسنّت والجماعت کراچی ڈویژن علامہ رب نواز حنفی، جنرل سیکریٹری کراچی ڈویژن علامہ تاج محمد حنفی، سینئر رہنما مولانا محی الدین شاہ الحسینی اور ترجمان کراچی ڈویژن مولانا عمر معاویہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے 17 رمضان المبارک 58 ہجری بروز منگل 66
سال کی عمر میں دارِ فانی سے پردہ فرمایا۔ آپؓ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی زوجۂ مطہرہ تھیں اور آپؓ کو “صدیقہ” اور “امّ المؤمنین” کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ نبی کریم ﷺ آپؓ کو “بنت الصدیق” اور محبت سے “حمیرا” کے لقب سے بھی پکارتے تھے۔رہنماؤں نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ علمِ حدیث اور فقہ میں بلند مقام رکھتی تھیں اور آپؓ نے ہزاروں احادیثِ مبارکہ روایت کیں۔ آپؓ نے امتِ مسلمہ کی علمی و دینی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا اور آپؓ کی علمی خدمات تاریخِ اسلام کا روشن باب ہیں۔انہوں نے کہا کہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی سیرت خواتینِ اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپؓ نے علم، تقویٰ، عبادت اور دین کی خدمت کے ذریعے امت کو وہ رہنمائی فراہم کی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے باعثِ ہدایت رہے گی۔رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہمیں ازواجِ مطہراتؓ اور صحابۂ کرامؓ کی سیرت کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں اتحاد، اخوت اور دینی اقدار کو فروغ دیا جا سکے اور امتِ مسلمہ درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔اہلسنّت والجماعت کراچی ڈویژن کے رہنماؤں نے اس موقع پر امتِ مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کریں اور دینِ اسلام کی سربلندی، اتحادِ امت اور استحکامِ پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
