اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):اسلامی تعاون تنظیم کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کے زیر اہتمام نائیجیریا کی بیرو یونیورسٹی کانو میں قدرتی مصنوعات کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں او آئی سی کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ورکشاپ ہائبرڈ انداز میں منعقد کی گئی جس میں شرکاء نے براہ راست اور آن لائن دونوں طریقوں سے حصہ لیا۔پروگرام کا مقصد قدرتی مصنوعات کے شعبے میں عملی تعلیم کو فروغ دینا اور تحقیقاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا تھا جسے علاقائی ترقی کے لئے اہم
شعبہ قرار دیا جاتا ہے۔یہ ورکشاپ کامسٹیک، عالمی یونیورسٹیز ایسوسی ایشن برائے کمیونٹی ڈویلپمنٹ، انڈونیشیا کی یونیورسٹی ایئرلنگا اور بیرو یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔تکنیکی سیشنز میں کامسٹیک کے ممتاز ماہرین اور یونیورسٹی ایئرلنگا کے اساتذہ نے لیکچر دیئے جن میں پروفیسر نی نیومان تری پُسپا نِنگ سیہ، پروفیسر نانک سیتی امینہ، پروفیسر الفندا نووی کرسٹانتی، ڈاکٹر یونی ساری امالیہ اور ڈاکٹر سلمیٰ ذوالقعدہ شامل تھے۔شرکاء کو جدید تحقیقاتی طریقوں اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے تربیت دی گئی۔افتتاحی اجلاس سے بیرو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ہارونا موسیٰ، کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اور یونیورسٹی ایئرلنگا کے ریکٹر پروفیسر محمد مدیان نے خطاب کیا۔ نائیجیریا میں کامسٹیک کے اعزازی نوجوان سائنسی نمائندے ڈاکٹر عبد الکبیر اولادیلے اولادیمیجی نے بھی اظہار خیال کیا۔اس موقع پر نائیجیریا میں انڈونیشیا کے سفارتخانے کے منسٹر قونصلر برائے اقتصادی امور ہیریانسا خیرال سمیت دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔مقررین نے افریقہ میں سائنسی اور تحقیقی استعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرامز سے ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ اور عالمی سطح پر تحقیقی روابط مضبوط ہوتے ہیں۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے آئندہ بھی تعلیمی تعاون اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
