لاہور( نمائندہ خصوصی):سابق اٹارنی جنرل پاکستان و سینئر قانون دان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایسا بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں خلاف ورزی، یکطرفہ معطلی یا اس سے علیحدگی کا کوئی قانونی تصور موجود نہیں۔ وہ گزشتہ روز قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدے ویانا کنونشن کے اصولوں کے تحت پابند ہوتے ہیں اور جب کسی معاہدے کی نگرانی کوئی تیسرا فریق کرتا ہے تو اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد یقینی بنائے۔سینئر قانون دان نے کہا کہ اس معاہدے میں عالمی بینک نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ یہ ایک مضبوط اور قابلِ نفاذ معاہدہ ہے جسے کسی ایک فریق کی
مرضی سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سوال پراشتر اوصاف علی نے کہا کہ اگر پاکستان کو ملنے والے پانی کے بہائو میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے یا پانی کو غلط وقت پر چھوڑا جاتا ہے تو اس کے پاکستان کی زراعت اور معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے بہائو میں غیر فطری تبدیلیاں سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتی ہیں جو ایک خطرناک حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے جس کے تین اہم پہلو ہیں پہلا بین الاقوامی ثالثی عدالت کے قیام کا مطالبہ جو عمل میں آ چکا ہے،دوسرا متنازع منصوبوں کے معائنوں کا مطالبہ جن کی اجازت نہیں دی جا رہی اور معاملے کو تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے اور تیسرا ضرورت پڑنے پر معاملے کو بین الاقوامی پابندیوں تک لے جانے کا اختیار ہے۔اشتر اوصاف علی نے کہا کہ پانی روکنا یا اس کا رخ موڑنا کسی ملک کے عوام کے بنیادی حقِ زندگی پر حملہ ہے۔پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اشتر اوصاف علی خان نے تجویز دی کہ
پاکستان کو کیشکیڈنگ ڈیمز یعنی درجہ وار آبی ذخائر تعمیر کرنے چاہئیں تاکہ آنے والے پانی کو موثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ جب کوئی ملک اپنے حصے کے پانی کو موثر استعمال میں لاتا ہے تو اس کا قانونی حق مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور اس پانی میں کمی، کٹوتی یا رخ موڑنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ اٹارنی جنرل اور سیکرٹری آبی وسائل کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، تاہم قومی مفاد کے اس اہم معاملے پر مزید تیزی، مہارت اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اشتر اوصاف علی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اٹھاتے ہوئے اپنے آبی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنائے گا۔
