ویانا۔( نمائندہ خصوصی):وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آسٹریا کے چانسلر کرسچیئن سٹاکر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، صحت اور ا نسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی و کاروباری شعبوں کی سطح پر موجودہ پلیٹ فارم کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمدشہباز شریف نے ویانا میں تاریخی ہوفبرگ پیلس میں وفاقی چانسلری میں جمہوریہ آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچیئن سٹاکر سے ملاقات کی۔وفاقی چانسلری پہنچنے پر وزیراعظم کا چانسلر سٹاکر نے استقبال کیا، انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب
میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔مذاکرات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی شریک تھیں۔دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اقتصادی تعاون، تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، مہمان نوازی، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دیں گے۔اس سلسلے میں دونوں فریقین نے زیرِ غور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں علاقائی اور عالمی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے، تنازعات کے پرامن حل، پائیدار ترقی، ماحولیاتی اقدامات اور انسانی حقوق کے تحفظ و فروغ کے ضمن میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی نظام سے اپنی مشترکہ وابستگی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کی حمایت کو سراہتے ہوئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیرِ اعظم اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر نے قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، صنعتی پیداوار و تعمیرات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، آلات جراحی، چمڑے اور کھیلوں کے سامان، صحت، سیاحت و مہمان نوازی اور خوراک و زرعی صنعتوں سے وابستہ آسٹریا اور پاکستان کی سرکردہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کے فورم کی مشترکہ صدارت بھی کی۔اس بات پر
اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح پر (جی ٹو جی)، حکومت و کاروباری شعبے کے درمیان (جی ٹو بی) اور کاروباری شعبوں کے درمیان (بی ٹو بی) روابط کو موجودہ پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے آسٹریا کی کاروباری برادری اور کمپنیوں کو رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔وزیرِ اعظم نے دورے کے دوران بامعنی اور نتیجہ خیز ملاقاتوں پر وفاقی چانسلر کا شکریہ ادا کیا جو دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت فراہم کریں گی۔ انہوں نے وفاقی چانسلر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
