اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):ٹیلی کمیونیکیشن و آئی ٹی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی کا مستقبل ٹیکس و ادارہ جاتی اصلاحات اور صنعتی حکمتِ عملی سے مشروط ہے،واضح حکمت عملی کے بغیر فائیو جی محض فور جی کی تیز شکل بن کر رہ جائےگا۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ پبلک پرائیویٹ مکالمے میں کیا جس میں پاکستان کی تاریخ کی ممکنہ سب سے بڑی نیلامی، ڈیجیٹل خودمختاری، سرمایہ کاری، توانائی کے بڑھتے تقاضوں اور معیشت کی ڈیجیٹل تبدیلی کےلئے درکار ساختی و مالی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔استقبالیہ کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے سینئر مشیر بریگیڈیئر (ر) محمد یاسین نے کہا کہ تقریباً 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی آئندہ نیلامی پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نیلامی محض ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بنیادی ڈھانچہ جاتی تبدیلی ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت 130 ملین سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین محض 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم پر انحصار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مکالمے کے نتیجے میں سامنے آنے والی پالیسی سفارشات متعلقہ اداروں کو بھجوائی جائیں گی تاکہ ریگولیٹری ہم آہنگی، سرمایہ کاری کے درست تعین اور ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔پینل کی صدارت پاکستان ٹیلی
کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل سائبر ویجیلنس ڈاکٹر محمد مکرم خان نے کی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کو حکومت، موبائل آپریٹرز اور عوام کے مفادات میں توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے موبائل فونز پر ٹیکس کم کرانے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رابطے میں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان آئی سی ٹی فری لانسنگ سے زرمبادلہ کمانے والے بڑے ممالک میں شامل ہے مگر فری لانسرز اکثر سست موبائل انٹرنیٹ پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ایس ڈی پی آئی کی ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا کہ دنیا بھر میں فائیو جی کو معاشی تبدیلی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر محض ٹیکنالوجی خود تبدیلی نہیں لاتی۔انہوں نے ریگولیٹری وضاحت، سرمایہ کاروں کے اعتماد، تربیت یافتہ افرادی قوت اور معیشت کے حقیقی شعبوں سے طلب کی اہمیت پر زور دیا۔بین الاقوامی آئی سی ٹی ماہر پرویز افتخار نے کہا کہ فائیو جی کی نیلامی ٹیلی کام شعبے کی جدید کاری میں حائل بڑی رکاوٹیں دور کر سکتی ہے تاہم فائیو جی فوری طور پر ہر جگہ دستیاب نہیں ہوگی۔لرن ایشیا کے اسلم حیات نے کہا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی صنعت، بندرگاہوں، صحت، توانائی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔انہوں نے حکومتی سطح پر پائلٹ منصوبوں، اسمارٹ سٹیز اور فائیو جی آلات پر ٹیکس میں رعایت کی تجویز دی۔جاز پاکستان کی فاطمہ اختر نے کہا کہ اسپیکٹرم ایک قومی اثاثہ ہے مگر موبائل فونز کی قیمت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے فائیو جی کو روزگار، نوجوانوں کے مواقع اور زراعت و صنعت سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔یونیورسل سروس فنڈ کے حنان طارق نے کہا کہ پاکستان مرحلہ وار انداز میں فائیو جی متعارف کرائے گا اور ابتدا میں فور جی انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔اختتامی کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ اگرچہ حکومت کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ممکن نہیں مگر صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں نجی شعبے کی قیادت فائیو جی کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی کےلئے نہایت اہم ہوگی۔

