لاہور(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پوری دنیا کو بدل رہی ہے ، پاکستان بھی اس عالمی ٹیکنالوجی انقلاب کا حصہ بننے جا رہا ہے، حکومت نے اے آئی کے شعبے میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں دس لاکھ بچوں کو اے آئی کی تربیت دی جائے گی تاکہ نوجوان نسل کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ انڈس اے آئی کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، سابق صدر میاں انجم نثار، محمد علی میاں، چیئرمین پاشا سجاد سید سمیت تاجروں، صنعت کاروں اور آئی ٹی ماہرین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 60 فیصد نوجوان ہیں، انہیں
جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت دے کر زراعت ، صنعت ، تجارت سمیت ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے اور پاکستان اقوام علم میں نمایاں مقام پیدا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ2030 تک مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے شعبے میں ایک ارب ڈالر خرچ کرنے، اے آئی کا نصاب تیار کرنے، اے آئی میں پی ایچ ڈی کیلئے ایک ہزار وظائف دینے، آئی ٹی اور اے آئی کے حوالے سے استعداد میں اضافے کیلئے قومی سطح پر پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں ۔صنعت ، زراعت، تجارت سمیت اے آئی کے ذریعے ترقی کا انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے،اس حوالے سے ہم نے بہت سے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، پاکستان اقوام عالم میں اپنا نام پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی ستمبر 2025 میں متعارف کرائی گئی، 2026 میں اے آئی پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا، انڈس اے آئی ویک سے جامعات، سٹارٹ اپس اور عالمی کمپنیوں میں تعاون ممکن ہوگا۔ نجی شعبہ ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت کرے، پاکستان جدت، علم اور ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل فرسٹ اکانومی بڑی آسانی کے ساتھ تشکیل دی جا سکتی ہے کیونکہ ٹیک انڈسٹری تیزی سے ترقی کر اور حکومت ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی فسیلیٹیشن پر بھرپور کام کر رہی ہے،انڈس اے آئی ویک کے تحت ملک بھر میں90 سے زائد پروگرامز کا انعقاد کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے انٹرنیٹ کی کوالٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا تھا اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو استحکام دینے میں تاجروں اور بزنس کمیونٹی نے حکومت سے بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں انٹرنیٹ کی کوالٹی میں نمایاں بہتری آئے گی، فور جی کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی سروس شروع کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تین نئی سب میرین کیبلز لانچ کی جا چکی ہیں جس سے بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں بہتری آئے گی۔لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے پروگرام پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اقدام سے نوجوانوں کو اپنا مستقبل روشن بنانے میں بڑی سہولت ملی ہے اوراس سلسلے میں انہوں نے لیہ سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی کامیابیوں کا خصوصی ذکر بھی کیا۔ انہوں نے اے آئی کے فوائد کے ساتھ ساتھ خطرات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے حکومت سائبر سکیورٹی کے شعبے میں بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ بزنس اور انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے آگے آئیں اور جدید ڈیجیٹل سلوشنز فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت تاجروں کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔پنجاب میں ڈیجیٹل اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے میں ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے لیے کام تیزی سے جاری اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز اس شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ٹی کے فروغ کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے اور اے آئی کو بروقت استعمال کرکے پاکستان عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ایکسپورٹ میں نمایاں اضافہ ہوا اور پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ اگرحکومت اسی طرح آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دیتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی سطح پر آئی ٹی میں لیڈ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اے آئی کے درست استعمال سے کاروبار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ، پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے سازگار مواقع فراہم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ بھارت کے خلاف جدید دفاعی حکمت عملی سے پاکستان نے دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔قبل ازیں وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایل سی سی آئی ممبرشپ کے لیے آن لائن پورٹل کا افتتاح بھی کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے تحت ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن لانا چاہتے ہیں، بزنس کمیونٹی کے لیے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس فسیلیٹیشن پر کام جاری اور مختلف ممالک میں بزنس سہولیات کے ماڈلز کو اپنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے آئی کے دور میں پرانے پراسز کو تبدیل کرنا ضروری اور تمام سرکاری دستاویزات کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ خودکار نظام کے تحت تمام اداروں کو ڈیجیٹل دستاویزات فراہم کی جائیں گی تاکہ رکاوٹیں ختم اور شہریوں کا سرکاری دفاتر سے براہ راست رابطہ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں شہری گھر بیٹھے آن لائن تمام سہولیات حاصل کر سکیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پہلا چیمبر ہے جس نے آن لائن پورٹل کا اجرا کیا ہے، دیگر چیمبرز بھی اس کی تقلید کریں گے۔ انہوں نے لاہور چیمبر کی ٹیم کو اس اقدام پر مبارکباد دی۔
