کراچی (کرائم رپورٹر) کراچی پولیس کے جلاد کانسٹیبل نے ایک رات بیوہ بھابھی اور 3یتیم بچیوں سے رات کی تاریکی میں وراثت میں ملنے والا گھر چھیننے کے لئے چارد وچار دیواری کو پائمال کرتے ہوئے ایک ہی رات میں دو بار حملے میں بیوہ اور 3یتیم بچیوں کو شدید زخمی کر دیا گلشن اقبال پولیس نے مسلح ملزمان گرفتار کر کےایف ائی آر درج کر لی واضح رہے اقبال تھانوی نامی پولیس اہلکار نے 2 ہفتے پہلے بھی شدید سردی میں لیاری وار گینگ کی دہشت گردوں اور کرمنلز خواتین کے ساتھ مل کر بیوہ بھابھی کے گھر پر حملہ کیا تھا تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال بلاک1, کی رہائشی خاتون عائشہ بانو بیوہ محمد ظفر( مرحوم)
کے دیور محمد اقبال تھانوی ہاؤس نمبر اے 487 کے رہائشی پولیس کانسٹیبل نے گھر پر قبضہ کے لئے رات گئے دوسری بار خواتین پر حملہ کر دیا مسلح حملے میں اقبال تھانوی اور اس کے مسلح بیٹے نے چادر اور چار دیواری کو پائمال کرتے ہوئے خواتین کے کپڑے پھاڑ دییے۔شام گئے پولیس اہلکار اقبال تھانوی نےبیٹےنے بیوہ خواتین اور اس کی یتیم بیٹیوں پر حملہ کیا جس پر 15پر اطلاع دی گئی جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھانے ملزمان نے معذرت کرکے صلح کرلی۔تھاتے وآپس آتے ہی پولیس اہلکار اقبال تھانوی اور نیشی بیٹے اظفر تھانوی نے بیوہ خاتون کے گھر کی بجلی منقطع کی پھر غیر قانونی طریقے سے گیس کا میٹر چوری کرکے غائب کر دیا اور رات گئے بیوہ بھابھی اور اس کی یتیم بچیوں پر دوبارہ حملہ کردیا ۔مسلح حملےمیں پولیس اہلکار اقبال تھانوی اسکے۔ بیٹے ۔بیٹی اور بیوی نے نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔مسلح حملے میں اقبال تھانوی اور مسلح افراد نے خواتین کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ اقبال تھانوی کے مسلح بیٹے اظفر تھانوی نے اپنی بیوہ بھابھی اور اسکی یتیم بچیوں شدید زخمی کردیا جس پر پولیس فوری کارروائی کرتے ہوئے خواتین پر مسلح حملے میں ملوث ملزم اظفر
تھانوی کو گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے رات گئے ایس ایچ او گلشن اقبال کامران قریشی نے بتایا کہ پہلے شام میں خواتین کے جھگڑے پر تھانے لایا گیا پھر باہمی رضا مندی سے صلح کرکے گئے رات پھر جھگڑے کی اطلاع پر پولیس نے فوری کارروائی کرکے تشدد میں ملوث ملزم کو حراست میں لیکر ایف آئی آر درج کر تفتیش شروع کردی ہے۔قبل ازیں اقبال تھانوی نامی پولیس اہلکار جو جائیداد پر غیر قانونی قبضے کے لئے اوچھی حرکات میں ملوث ہونےکی وجہ تین مقدمات میں ضمانت پرہے واضح رہے کہ اقبال تھانوی نامی پولیس اہلکار نے گزشتہ ماہ کے آخر میں بیوہ خاتون کے ساتھ 3 یتیم بچیوں کو گھسیٹ گھر سے نکالنے کے لیاری گینگ وارکے دہشت گردوں کی مدد حاصل کی ۔زرائع کے مطابق محمد اقبال تھانوی پولیس کانسٹیبل نے بیوہ بھابھی کے گھر پر حملے سے پہلے 15پر اطلاع دی ۔زرائع کے مطابق گلشن پولیس کے ایس ایچ او کے اشیر باد کے بعد حملہ کیا ہے ۔زرائع مطابق پولیس کانسٹیبل محمد اقبال تھانوی کے خلاف کیس زیر سماعت ہے جس کی آج صبح پیشی ہے سے بچنے کے لئے بیوہ بھابھی پر دباؤ بڑھانے اور گھر پر قبضہ کی کوشش ہے۔زرایع کے مطابق محمد اقبال تھانوی پی سی نمبر 21500ضلع وسطی میں کورٹ محرر تعینات ہے ۔نےبیوہ بھابھی اور 3یتیم بچیوں سے چھت چھننے کوشش میں جلاد بن گیا ہے زرائع کےمطابق محمد اقبال تھانوی اہلکار نے سگے بھائی کے مرتے بیوہ بھابھی کو حراساں کرنا شروع کر دیا تھا ۔گھرپر قبضے کے لئے کمke اور ایس ایس جی سی کے عملے سے ملی بھگت کر بجلی اور گیس کے میٹر بھی اتروا لئے تھے ۔رات گئے محمد اقبال تھانوی کے دہشتگردوں ہمراہ حملے میں خواتین نے یتیم بچیوں کے موبائل فون ۔جویلئری سمیت قیمتی سامان چوری کر لیا ۔پولیس زرائع کے مطابق تھانے میں خاتون اہلکار نہ ہونے کی وجہ سے رات میں کارروائی نہیں ہوسکی ۔زرائع کے مطابق حملےمیں ایک خاتون اور ایک مرد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے جبکہ تین خواتین اور چار سے زائد بلوچ دہشت گرد پولیس اہلکار محمد اقبال تھانوی کے گھر میں روپوش تھے جس کے خلاف تھانہ گلشن اقبال کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں گئی بیوہ عائشہ بانو نے وزیر اعظم پاکستان ۔وزیر اعلیٰ سندھ ۔ائی جی سندھ جاوید عالم اوڈہوہ سی سی پی او آزاد خان سے اپیل کی ہے کہ انھیں پولیس اہلکار ظالم دیور محمد اقبال تھانوی کے مظالم سے بچائیں ۔اورانصاف فراہم کیا جائے۔
