کراچی( نمائندہ خصوصی) سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے منگل کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں اسپتالوں کے فضلے کے محفوظ انتظام سے متعلق صوبہ بھر کی تربیتی مہم کا دوسرا سیشن منعقد کیا۔ اس
سے ایک روز قبل یہی تربیت لیاری جنرل اسپتال میں دی گئی تھی۔یہ تربیتی پروگرام ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار حسین پھلپوٹو کی ہدایات پر شروع کیا گیا ہے اور اس کا مقصد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں بایومیڈیکل فضلے سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو مضبوط بنانا ہے۔ سیپا کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ ہفتوں میں پورے صوبے میں پھیلایا جائے گا۔جے پی ایم سی میں
ہونے والے سیشن میں ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اور سینیٹیشن عملے کو طبی فضلے کی محفوظ علیحدگی، ذخیرہ، نقل و حمل اور تلفی کے طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ شرکاء کو رنگوں کے ذریعے فضلہ الگ کرنے کے بین الاقوامی طریقہ کار، قانونی ذمہ داریوں اور اسپتال انتظامیہ کے کردار سے بھی آگاہ کیا گیا۔سیپا افسران ڈپٹی ڈائریکٹر فرزانہ نسیم، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز ڈاکٹر
فیاض صالح حسین اور ڈاکٹر نصر اللہ شاہ نے اسپتال ویسٹ مینجمنٹ کمیٹیاں بنانے، ریکارڈ رکھنے اور باقاعدہ داخلی آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا اور انسنریٹر و آٹو کلیو جیسے علاجی (ٹریٹمنٹ) طریقوں پر عملی رہنمائی دی۔ تربیت میں عملے کی حفاظت، حفاظتی لباس کے استعمال اور تیز دھار اور چبھنے والے کچرے سے بچاؤ جیسے نکات بھی شامل تھے۔افسران نے خبردار کیا کہ جے
پی ایم سی جیسے بڑے اسپتالوں میں فضلے کی غلط تلفی ماحولیاتی آلودگی اور سنگین صحت کے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں کا فضلہ صرف صفائی کا نہیں بلکہ عوامی صحت اور ماحولیاتی حکمرانی کا اہم مسئلہ ہے۔سیپا نے کہا کہ کراچی کے دیگر بڑے اسپتالوں کے بعد یہ تربیت سندھ بھر میں جاری رکھی جائے گی تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ بایومیڈیکل ویسٹ مینجمنٹ کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے۔

