• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

نوجوانوں کو اے آئی مہارتوں کی تربیت دینے کا ملک گیر پروگرام شروع کیا جائے گا،وفاقی وزیرشزہ فاطمہ خواجہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 10, 2026
in پاکستان
0
نوجوانوں کو اے آئی مہارتوں کی تربیت دینے کا ملک گیر پروگرام شروع کیا جائے گا،وفاقی وزیرشزہ فاطمہ خواجہ
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور معاش کو بہتر بنانے کیلئے دس لاکھ نوجوانوں کواے آئی مہارتوں کی تربیت دینے کا ملک گیر پروگرام شروع کیا جائے گا۔ منگل کو اسلام آباد میں انڈس اے آئی ویک 2026 کے دوران مختلف جامعات کے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں انقلابی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جہاں مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں معیشتوں، تعلیمی نظاموں اور روزگار کے ڈھانچوں کو ازسرنو تشکیل دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان تبدیلیوں کا جواب وزیر اعظم کی قیادت میں ’’ہول آف گورنمنٹ اپروچ‘‘ کے ذریعے دیا جس کا مقصد مربوط منصوبہ بندی اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے گزشتہ سال ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ منظور کیا جس نے ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کیا، اس فریم ورک کے تحت ایک اہم سنگ میل پاکستان کی پہلی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کی منظوری تھی، جس کی وفاقی کابینہ نے ستمبر 2025 میں توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی پالیسی ہر اہم پہلو بشمول انفراسٹرکچر ، ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ پاور، انسانی وسائل کی ترقی، تعلیمی اصلاحات، بین الاقوامی تعاون اور اے آئی کے اخلاقی اور جامع استعمال کا احاطہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح صرف پالیسی سازی نہیں بلکہ زمینی سطح پر ٹھوس نتائج حاصل کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نے انڈس اے آئی ویک کے افتتاح کے موقع پر پاکستان کے اے آئی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیاتھا، منصوبے کے تحت اہم اقدامات میں ایک ملین نوجوانوں کو اے آئی تربیت، خاص طور پر غیر تکنیکی پس منظر رکھنے والوں کو، مصنوعی ذہانت میں پی ایچ ڈی وظائف اور ملک بھر کے سکولوں اور کالجوں میں اے آئی تعلیم کو لازمی قرار دینا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی میں دو نقطہ نظر اختیار کیا گیا، ایک جانب مضبوط عملدرآمدی نظام کو یقینی بنانا اور ساتھ ہی پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کیلئے تیار کرنا ہے۔ انڈس اے آئی ویک کے وسیع تر مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ یہ اقدام تین ستونوں پر مبنی تھا، پہلا ستون دنیا کے سامنے پاکستان کی تکنیکی تیاری کو اجاگر کرنا تھا، جس میں 150 ملین سے زائد نوجوان آبادی، کاروباری صلاحیت اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل پختگی کو نمایاں کیا گیا۔ دوسرا ستون عالمی قیادت کے مکالمے پر مرکوز تھا، جس میں 50 سے زائد بین الاقوامی ٹیکنالوجی رہنماؤں، وزراء، چیف انفارمیشن آفیسرز، چیف ٹیکنالوجی آفیسرز اور سی ای اوز نے پالیسی مباحثوں میں شرکت کی۔ان مباحثوں کا اختتام اعلامیہ اسلام آباد پر ہوا، جو مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسرا اور سب سے اہم ستون پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ براہ راست روابط تھا۔ سرگرمیوں میں ٹیکنالوجی ایکسپوز، خواتین پر مرکوز اقدامات جیسے اے آئی فار ہر، مختلف صلاحیتوں کے حامل بچوں کے ساتھ ملاقاتیں، دفاعی ٹیکنالوجی کی نمائشیں، سٹارٹ اپ پچنگ سیشنز اور کلاؤڈ کریڈٹ و ایکسیلیریشن پروگرام شامل تھے۔وفاقی وزیر نے ای اسپورٹس اور گیم ڈویلپمنٹ کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا اور اسے ایک کھرب ڈالر کی عالمی صنعت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ای اسپورٹس کوالیفائرز میں 3,000 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا جبکہ اگنائٹ اور وزارت آئی ٹی کے ذریعے 45 لاکھ روپے مالیت کے نقد انعامات دیئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی اور لاہور میں گیمنگ اور اینی میشن کے سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے گئے ہیں، جہاں اعلیٰ معیار کے مشترکہ سافٹ ویئر، کو ورکنگ اسپیسز اور ہزاروں طلبہ کو مفت تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔مالی شمولیت اور سرمایہ کاری کی منڈیوں سے متعلق سوالات کے جواب میں وفاقی وزیرشزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان بلاک چین اور پبلک کی انفراسٹرکچر (PKI) سسٹمز کی مدد سے تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناختیں متعارف کرا رہا ہے۔ یہ اقدامات مرکزی ای کے وائی سی کو ممکن بنائیں گے، اعتماد میں اضافہ کریں گے، نجی شعبے کے قرضوں کے مواقع کھولیں گے اور زراعت و مالیات جیسے اہم شعبوں کی معاونت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیٹا ایگریگیٹرز اور تجزیاتی آلات کی بھی معاونت کر رہی ہے، دانشوارانہ املاک کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے اور پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ اور قومی ڈیجیٹائزیشن اقدامات کے ذریعے جدید منصوبوں کو فنڈ فراہم کر رہی ہے۔مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے خاتمے سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی انسانوں کی جگہ نہیں لے گی بلکہ وہ انسان جو اے آئی کو سمجھتے ہیں، ان کی جگہ لیں گے جو نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم کتنی تیزی اور کس پیمانے پر اپنے لوگوں کو دوبارہ مہارتیں سکھا سکتے ہیں اور نئی مہارتیں دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ ڈیجیٹل اسکلز پروگرامز کے تحت تقریباً 300,000 نوجوان پاکستانی پہلے ہی اے آئی کی بنیادی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی اگر اے آئی مہارتوں سے آراستہ ہو جائے تو پیداواری صلاحیت اور معاشی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملک کو دنیا کی سب سے بڑی اے آئی سے لیس افرادی قوتوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انڈس اے آئی ویک کے نام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیرنے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخی وراثت کی علامت ہے، جو دنیا کی قدیم ترین اور جدید تہذیبوں میں سے ایک رہی ہے، جو منصوبہ بند شہروں اور جدید آبپاشی نظاموں کے لیے معروف تھی۔انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ جدت سے جڑی ہوئی ہے اور یہی وہ وراثت ہے جسے ہم مستقبل کی دنیا کے کام کرنے کے طریقے کو تشکیل دینا بالخصوص مصنوعی ذہانت کے میدان میں آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو حکومت، صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ فعال روابط کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اے آئی ایکو سسٹم اب فعال ہو چکا ہے اور اگلا مرحلہ اسے وسعت دینا، برانڈ کرنا اور عالمی سطح پر پاکستانی جدت کو نمایاں کرنا ہے۔

پچھلی پوسٹ

کراچی . سندھ ابادگار فورم اور کراچی یونیورسٹی کے اشتراک سے ایگرو فوڈ اینڈ پیس کانفرنس کی تیاریاں مکمل

اگلی پوسٹ

جے پی ایم سی میں اسپتالوں کے فضلے سے متعلق صوبہ بھر کی تربیت کا دوسرا سیشن

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
جے پی ایم سی میں اسپتالوں کے فضلے سے متعلق صوبہ بھر کی تربیت کا دوسرا سیشن

جے پی ایم سی میں اسپتالوں کے فضلے سے متعلق صوبہ بھر کی تربیت کا دوسرا سیشن

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper