اسلام آباد:( نمائندہ خصوصی)حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ظلم کو قانون، عدالت اور جیلوں کے ذریعے منظم انداز میں نافذ کیا جا رہا ہے،شہید افضل گرو کو متنازع اور یکطرفہ ٹرائل کے بعد پھانسی دی گئی اور تیرہ سال گزرنے کے باوجود اس کی میت اہلِ خانہ کے حوالے نہ کرنا بھارتی ریاستی سفاکیت کی بدترین مثال ہے۔اسلام آباد میں مقامی سکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت بالخصوص یاسین ملک کو جھوٹے مقدمات، طویل قید، تنہائی اور غیر انسانی سلوک کے ذریعے خاموش کرانے کی
کوشش کی جا رہی ہے مگر یہ حربے کشمیری عوام کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔مشعال ملک نے کہا کہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی، کالے قوانین اور جیلیں بھی کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبا نہیں سکتیں اور کشمیر کی جدوجہد اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ افضل گرو کو متنازع ٹرائل کے بعد پھانسی دی گئی، میت بھی نہ دی گئی،تیرہ سال گزر گئے، افضل گرو کے اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔مشعال ملک نے کہا کہ بھارت عدلیہ اور قانون کو کشمیریوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،کشمیری قیادت کو جھوٹے مقدمات اور طویل قید کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے،یاسین ملک کو سیاسی انتقام کے تحت جیل میں رکھا گیا ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کی آواز قید ہو سکتی ہے نظریہ نہیں،دس لاکھ بھارتی فوجی بھی کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکے، کشمیر صرف ایک علاقہ نہیں، ہماری بقا اور آنے والی نسلوں کا سوال ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ کشمیری قیادت پر ظلم دراصل آزادی کی تحریک سے خوف کی علامت ہے،کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر صورت جاری رہے گی۔

