اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی اصلاحات، انصاف تک موثر رسائی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مضبوط، شفاف اور عوام دوست عدالتی نظام پائیدار ترقی اور جمہوری حکمرانی کی بنیاد ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا جہاں پاکستان کے نظام انصاف کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔چیف جسٹس آف پاکستان سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، یو این ویمن، یونیسف، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ی سی) اور یو این ایف پی اے کے ملکی نمائندگان بھی شریک تھے۔ ملاقات میں عدالتی اصلاحات کی ترجیحات، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری، گورننس کے فروغ اور قانون کی بالادستی پر عوامی اعتماد میں اضافے کے امور پر جامع گفتگو کی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی اصلاحات اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کا آپس میں گہرا تعلق ہے کیونکہ یہ اہداف انصاف تک مساوی رسائی اور موثر، جوابدہ اور شفاف اداروں کے قیام پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایک قابل اعتماد اور مضبوط عدالتی نظام نہ صرف بنیادی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے بلکہ پائیدار ترقی
اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے انصاف کی فراہمی کو تیز، آسان اور شمولیتی بنانے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کو شہریوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چیف جسٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کے موثر استعمال، عدالتی عملے کی تربیت اور پالیسی سطح پر اصلاحات کے ذریعے انصاف کے نظام میں پائیدار بہتری لائی جا سکتی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان میں اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات، بچوں سے متعلق حساس انصاف اور عدالتی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا تعاون قومی سطح پر جاری اصلاحاتی کوششوں کے لیے ایک موثر تکمیلی کردار ادا کر رہا ہے۔ملاقات میں مستقبل میں عدلیہ اور اقوام متحدہ کے اداروں کے درمیان تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا جن میں تکنیکی معاونت، عدالتی تعلیم و تربیت، شواہد اور ڈیٹا پر مبنی اصلاحات، پالیسی معاونت اور بین الاقوامی بہترین تجربات کا تبادلہ شامل ہے۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ منظم اور دیرپا شراکت داری کے ذریعے عدالتی نظام کو درپیش موجودہ اور آئندہ چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔ملاقات کے اختتام پر فریقین نے پاکستان کے آئینی اقدار اور بین الاقوامی ترقیاتی وعدوں کے مطابق عدالتی اصلاحات کے فروغ، باہمی تعاون اور مسلسل مکالمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
